قومی

Women Safety: خواتین کے لیے بھارت کے سب سے محفوظ شہر کون سے؟ جانئے 2025 کی ٹاپ-10 سٹی رینکنگ

نئی دہلی: خواتین کی سلامتی، شمولیت اور مساوی مواقع آج کسی بھی شہر کی ترقی اور سماجی ذمہ داری کا سب سے اہم پیمانہ بن چکے ہیں۔ خواتین کے لیے محفوظ ماحول نہ صرف ایک سماجی ضرورت ہے بلکہ آئینی اور انسانی فریضہ بھی تصور کیا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں اوتار گروپ کی تازہ رپورٹ ” ٹاپ سٹیز فار ویمن اِن انڈیا (ٹی سی ڈبلیو آئی) 2025“ نے ملک کے ان شہروں کی درجہ بندی پیش کی ہے جہاں خواتین کے لیے تحفظ، شرکت اور کیریئر میں ترقی کے بہترین مواقع دستیاب ہیں۔

اوتار گروپ کی اس رپورٹ کے مطابق بنگلورو نے 53.29 اسکور کے ساتھ خواتین کے لیے بھارت کا سب سے محفوظ اور موزوں شہر ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے، جبکہ چنئی دوسرے نمبر پر رہا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان شہروں نے نہ صرف خواتین کی حفاظت بلکہ ملازمت، قیادت اور مجموعی کام کے ماحول میں بھی نمایاں بہتری دکھائی ہے۔ یہ رپورٹ صرف جرائم کے اعداد و شمار تک محدود نہیں، بلکہ خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت، پیشہ ورانہ ترقی، ادارہ جاتی معاونت اور مجموعی شہری ثقافت جیسے عوامل کو بھی شامل کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی پہلو کسی شہر کو خواتین کے لیے واقعی محفوظ اور بااختیار بناتے ہیں۔

2025 کی ٹاپ-10 محفوظ شہروں کی لسٹ
رپورٹ کے مطابق 2025 میں خواتین کے لیے سب سے محفوظ شہروں کی فہرست میں بنگلورو پہلے اور چنئی دوسرے نمبر پر رہا۔ ان کے بعد پونے، حیدرآباد، ممبئی، گڑگاؤں، کولکاتا، احمد آباد، تریویندرم اور کوئمبٹور کو ٹاپ-10 میں شامل کیا گیا ہے۔ ان شہروں نے خواتین کے لیے بہتر روزگار کے مواقع، نسبتاً محفوظ عوامی مقامات اور ترقی پسند کام کی ثقافت فراہم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

جانئے 2024 کی رینکنگ
اگر 2024 کی رینکنگ پر نظر ڈالیں تو بنگلورو اور چنئی اس وقت بھی سرفہرست تھے، تاہم بعد کے مقامات میں کچھ تبدیلیاں دیکھی گئیں۔ 2024 میں ممبئی، حیدرآباد، پونے، کولکاتا، احمد آباد، دہلی، گڑگاؤں اور کوئمبٹور ٹاپ-10 میں شامل تھے۔ اس موازنہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب خواتین دوست شہر صرف بڑے میٹرو شہروں تک محدود نہیں رہے، بلکہ کئی نئے شہر بھی تیزی سے بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ تاہم رپورٹ اس بات کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ شمالی اور مشرقی بھارت کے کئی شہروں کو ابھی خواتین کے لیے زیادہ محفوظ، جامع اور مواقع سے بھرپور ماحول بنانے کے لیے طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقل پالیسی، سماجی بیداری اور ادارہ جاتی اصلاحات ہی اس سمت میں پائیدار تبدیلی لا سکتی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Dharavi Redevelopment Project: دھاراوی کے لوگوں کے لیے بڑی شروعات، 10,432 نئے مکانات کی تعمیر شروع، اڈانی گروپ نے کیا بھومی پوجن

اڈانی گروپ نے ممبئی کے ماٹونگا میں دھاراوی بازآبادکاری منصوبے کے تحت 10,432 بازآبادکاری مکانات…

8 hours ago

INDIA Alliance Big Rally Plan: ووٹ چوری کے معاملے پر انڈیا اتحاد کی بڑی تیاری، دسمبر میں رام لیلا میدان سے طاقت دکھانے کا منصوبہ

دسمبر کے پہلے ہفتے میں دہلی میں بڑی ریلی منعقد کرنے کی تیاری، ملک بھر…

8 hours ago

INDIA Alliance Massive Protest Against Vote Chori: ووٹ چوری کا معاملہ، سڑک سے سپریم کورٹ تک عوامی سیلاب، کب کیا ہوا؟ جانیے مکمل ٹائم لائن

ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے خلاف انڈیا اتحاد کا دہلی میں زبردست احتجاج،…

9 hours ago