قومی

National Council for Promotion of Urdu Language: خواتین کی ترقی اوربااختیاری کے بغیر @2047 تک وکست بھارت کا تصور ادھورا رہے گا: ڈاکٹر شمس اقبال

نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام سینٹر فار نریندر مودی اسٹڈیز نئی دہلی کے اشتراک سے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں’اردو ادب میں خواتین کی سماجی،سیاسی اورثقافتی بااختیاری کی عکاسی‘ کے عنوان سے مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کہاکہ موجودہ وقت میں ایسے موضوعات پر گفتگو بہت ضروری ہے جن کا براہ راست تعلق خواتین سے ہو۔اس لیے کہ خواتین کی ترقی اوربااختیاری کے بغیر @2047 تک وکست بھارت کا تصور ادھورا رہے گا،یہی وجہ ہے کہ G20 میں ہمارے وزیر اعظم عزت مآب  نریندر مودی نے اس بات پر خاص توجہ دی تھی کہ خواتین ہرمیدان میں آگے بڑھیں اورہندوستان کی ترقی اورخوش حالی میں اپنا کردار ادا کریں۔

انھوں نے کہا کہ اردو زبان میں عورتوں کے حقوق اورمسائل پر بہت کچھ لکھاگیا ہے، خواہ نظم ہو یانثر مصنّفین نے عورتوں کو خاص جگہ دی ہے اور  عورتوں کی حصے داری کو نمایاں طور پر بیان کیاہے۔ صدارتی تقریر کرتے ہوئے کلسٹر یونیورسٹی سری نگر کے وائس چانسلر پروفیسر محمد مبین نے کہاکہ اردو میں خواتین فکشن نگار نے خاص طور پر رشید جہاں نے شروع سے ہی عورتوں کے حقوق اورمسائل کو  بیان کیاہے ۔ بہت سی خواتین فکشن نگار نے بھی عورتوں کے مسائل پر بہت ہی سنجیدگی کے ساتھ لکھا ہے۔ انھوں نے اردو زبان کے فروغ اور اشاعت کے باب میں قومی ارد وکونسل کی خدمات کو سراہا۔

مہمان اعزازی ڈاکٹر شبستاں غفار سابق چیئرپرسن آف گرلس ایجوکیشن،این سی ایم ای آئی حکومت ہند نے خواتین کی سماجی،سیاسی اورثقافتی بااختیاری پر مدلل گفتگو کی۔انھوں نے اردو زبان کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ دیہات کی جو خواتین تعلیم سے محروم تھیں وہ این او آئی ایس سے جڑکر اردو تعلیم کے ذریعے خود کو منوایا اوراپنی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ آج سماج میں مثبت تبدیلی بھی لارہی ہیں۔پروفیسر ابوبکر عباد صدرشعبہ اردو دہلی یونیورسٹی نے کہا کہ ہمیں ایسے ماحول  اورحالات پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس میں خواتین کو اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق ہونا چاہیے،وہ جس میدان میں بھی اورجس طرح کی تعلیم حاصل کرناچاہیں اسے ان کو مکمل اختیار ہوناچاہیے۔

 انھوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو پہچاننے کی ضرورت ہے جو خواتین کے حقوق کی بات تو کرتے ہیں لیکن جب ان کو حق دینے کا وقت آتاہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ادب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ اردو ادب میں خواتین کو مکمل آزادی ہے کہ وہ جوچاہیں لکھیں،جیسا چاہیں لکھیں اورجس پر چاہیں لکھیں ان پرکوئی بندش نہیں ہے۔

ڈاکٹر مہر فاطمہ حسین ایسوسی ایٹ پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی نے کہاکہ عورتوں کی تعلیم بہت ضروری ہے اس کے بغیرخواتین بااختیار نہیں ہوسکتیں، انھوں نے کہا کہ خواتین اس وقت تک با اختیار نہیں ہوسکتی ہیں جب تک کہ ان کے ساتھ مساوات اور انصاف نہ ہو۔

مشہور نقاد اورصحافی حقانی القاسمی نے خواتین کی تخلیقی خود مختاری پر مدلل گفتگو کی ۔ انھوں نے کہا کہ مرد عورت کے مابین صنفی جنگ کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ مردوں ہی نے عورتوں کے خیالوں کو زمین اور خوابوں کو آسمان عطا کیا ہے۔ انھوں نے Victim Language یعنی کشتہ زبان پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عورتوں نے بااختیار زبان کے بجائے کشتہ زبان کا استعمال کیا اس لیے آج بھی انھیں مظلومیت اور محکومیت کی ایک علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

نظامت کے فرائض ڈاکٹر عبدالباری اسسٹنٹ ایڈیٹر نے انجام دیا۔ شکریے کی رسم پروفیسر جسیم محمد (چیئرمین سینٹر فار نریندر مودی اسٹڈیز ) نے ادا کی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Bharat Express Urdu Conclave: اردو ایک جدید زبان ہے، اے آئی سے مستقبل مزید مضبوط ہوگا، بزمِ صحافت میں بولے پروفیسر شاہد صدیقی

پروفیسر شاہد صدیقی نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو اردو سے جوڑنے کے لیے…

41 minutes ago

Todays Weather: موسم نے بدلا رخ! کئی علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان، آئی ایم ڈی نے جاری کی پیش گوئی

مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…

1 hour ago

Delhi IIC Bazm-e-Sahafat: ’اردو مسلمانوں کی نہیں، ہندوستان کی زبان ہے‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین کا اظہارِ خیال

بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو میں اردو، صحافت اور نئی ٹیکنالوجی پر گفتگو،…

2 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: اردو کو رسم الخط میں نہ باندھو، یہ دلوں کی زبان ہے، بزمِ صحافت میں بولے شاہد صدیقی

اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے شاہد صدیقی نے بتایا کہ وہ اردو اخبارات کے…

2 hours ago