نئی دہلی: دہلی حکومت نے منگل کو سردیوں کے موسم میں بڑھتی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ونٹر ایکشن پلان تیار کرلیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی قیادت میں دہلی میں یکم نومبر سے 28 فروری تک آلودگی پر قابو پانے کے لیے جامع منصوبہ نافذ کیا جائے گا۔ اس دوران ’نو پی یو سی، نو فیول‘ پالیسی نافذ ہوگی۔ بی ایس-6 سے کم معیار پر پورا اترنے والی دہلی سے باہر کی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی رہے گی۔ تعمیراتی گرد و غبار کے خلاف سختی کی جائے گی اور اے آئی کیمروں کے ذریعے نگرانی ہوگی۔ اس کے علاوہ 50 فیصد ورک فرام ہوم پر زور دیا جائے گا۔ بسوں، میٹرو اور لاسٹ مائل کنکٹیوٹی کی سہولت کو فروغ دیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی عوام سے ذمہ داری نبھانے کی اپیل
دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ویڈیو پیغام کے ذریعے لوگوں سے ذمہ داری نبھانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، ”گزشتہ سال اسی وقت لوگوں نے کہا تھا کہ سخت سے سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ اسی ترغیب کی وجہ سے اس سال پہلے ہی پیش رفت کرتے ہوئے اقدامات کیے گئے ہیں۔ ہم نے مل کر طے کیا کہ سردیوں کے پورے موسم میں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ یکم نومبر سے 28 فروری تک کے لیے ونٹر ایکشن پلان بنایا گیا ہے۔“ وزیر اعلیٰ ریکھا نے کہا، ”یکم نومبر سے بی ایس-6 سے کم معیار والی گاڑیوں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ دہلی والوں کے لیے بھی ’نو پی یو سی، نو فیول‘ کا اصول نافذ ہوگا۔ ہم سب مل کر اس پر عمل کریں گے۔ حکومت کی جانب سے الیکٹرک بسیں فراہم کی گئی ہیں۔ میٹرو کے روٹس بڑھا دیے گئے ہیں۔ لاسٹ مائل کنکٹیوٹی کی سہولت پر کام کیا جا رہا ہے۔ تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی لگائی گئی ہے اور ورک فرام ہوم بھی نافذ کیا جائے گا۔“ انہوں نے کہا کہ سب مل کر اپنی ذمہ داری نبھائیں گے۔ ہماری دہلی، ہماری ذمہ داری۔
بیرونی گاڑیوں اور پی یو سی سرٹیفکیٹ سے متعلق سخت اقدامات
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ”دہلی سردیوں میں ہونے والی آلودگی کے خلاف وقت رہتے سخت اقدامات کر رہی ہے۔ یکم نومبر سے 31 جنوری تک دہلی سے باہر کی ایسی گاڑیوں کو دہلی میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی جو بی ایس-6 معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ اگر آپ کے پاس درست پی یو سی سی (آلودگی کنٹرول سرٹیفکیٹ) نہیں ہے تو آپ کو ایندھن نہیں ملے گا۔“
تعمیراتی کاموں پر پابندی، اے آئی سے نگرانی اور ورک فرام ہوم
انہوں نے مزید لکھا کہ ونٹر ایکشن پلان یکم نومبر سے 28 فروری تک نافذ رہے گا۔ اس میں تعمیرات اور انہدام کے کاموں پر پابندی، اے آئی پر مبنی مقامات کی نگرانی، 50 فیصد ورک فرام ہوم اور دفاتر کے لیے الگ الگ اوقات کار شامل ہیں۔ الیکٹرک بسوں، میٹرو، ’لاسٹ مائل کنکٹیوٹی‘ کی سہولت اور کار پولنگ کے ذریعے ٹرانسپورٹ کو زیادہ ماحول دوست بنانے کی کوششیں اس مہم میں مددگار ثابت ہوں گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سانس لینے کے ہمارے حق کے لیے ہر قدم اہمیت رکھتا ہے۔ ہماری دہلی، ہماری ذمہ داری۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
لکھنؤ کے شیوا شرما کی موت کے معاملے میں مفرور شردھا دوبے کو اتر پردیش…
حکومت کا خیال ہے کہ بھارت-نیوزی لینڈ ایف ٹی اے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات…
وزیر اعظم نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے خیالات کا اظہار…
بی جے پی لیڈر ترون چُگ نے الزام لگایا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کے…
جسٹس امت مہاجن کی سربراہی والی بنچ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے 15 اکتوبر…
بی جے پی کے زیر کنٹرول وڈودرا میونسپل کارپوریشن نے جون 2024 میں یوسف پٹھان…