دہلی صرف اقتدار کی سیاست کا مرکز نہیں بلکہ تہذیب، تاریخ اور عبادت کی علامت بھی رہی ہے۔ پرانی دہلی کی گلیاں آج بھی مغل عہد کی خوشبو سمیٹے ہوئے ہیں، جہاں مساجد، درگاہیں اور تاریخی عمارتیں ماضی کی گواہی دیتی ہیں۔ انہی یادگاروں میں شامل ترکمان گیٹ کے قریب واقع فیضِ الٰہی مسجد اس وقت خبروں میں ہے، جہاں اس کے اطراف مبینہ غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بلڈوزر کارروائی کے دوران ہنگامہ آرائی سامنے آئی۔
بلڈوزر کارروائی اور موجودہ تنازع
فیض الہی مسجد کے اطراف انسدادِ تجاوزات مہم کے دوران حالات اس وقت کشیدہ ہوگئے جب کچھ افراد نے کارروائی کی مخالفت کی۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی قانونی دائرے میں کی جا رہی تھی، مگر موقع پر پہنچنے والے مشتعل افراد نے صورت حال کو بگاڑنے کی کوشش کی، جس کے بعد امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا۔
پولیس کا مؤقف
جوائنٹ کمشنر آف پولیس (سینٹرل) مدھو ورما کے مطابق کارروائی سے قبل امن کمیٹی، سول ڈیفنس کمیٹی اور مسجد کے ذمہ داران کے ساتھ متعدد میٹنگیں کی گئی تھیں۔ ان میں واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ یہ کارروائی قانون کے مطابق ہے اور اسے کسی مذہبی یا سیاسی رنگ میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
پولیس کے مطابق ہنگامہ آرائی کے بعد پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج اور سوشل میڈیا ویڈیوز کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ اس بات کی بھی جانچ جاری ہے کہ آیا تشدد اچانک ہوا یا یہ کسی منظم منصوبہ بندی کا حصہ تھا۔ مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش سینٹرل ضلع کے اسپیشل اسٹاف کے سپرد کر دی گئی ہے۔
ایم سی ڈی کی وضاحت
دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے ایک افسر نے واضح کیا کہ کارروائی کے دوران سید فیض الہی مسجد کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ ان کے مطابق یہ مہم دہلی ہائی کورٹ کے احکامات کی تعمیل میں انجام دی گئی۔ کارروائی میں تقریباً 30 بلڈوزر، 50 ڈمپر اور 300 سے زائد اہلکار شامل تھے، اور یہ سلسلہ رات بھر جاری رہا۔
کیا ہے پورا معاملہ
مسجد کی انتظامی کمیٹی نے اس وقت دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جب ایم سی ڈی نے یکم جنوری کو مبینہ تجاوزات پر نشانات لگائے اور سات جنوری کو انہدامی کارروائی کی اطلاع دی۔ کمیٹی نے اپنی عرضی میں مؤقف اختیار کیا کہ اسے تجاوزات ہٹانے پر اعتراض نہیں، مگر مسجد سے متصل قبرستان کے تحفظ کے لیے عدالت کی مداخلت ضروری ہے، جو اس کے مطابق مقررہ 0.195 ایکڑ کی حد سے باہر واقع ہے۔ ایم سی ڈی نے 22 دسمبر کے اپنے حکم میں کہا تھا کہ 0.195 ایکڑ سے زائد زمین پر قائم کوئی بھی ڈھانچہ سرکاری زمین کا غلط استعمال اور تجاوزات کے زمرے میں آتا ہے۔
مسجد کی تعمیر اور تاریخی پس منظر
فیض الہی مسجد کی تعمیر مغل دور، بالخصوص اٹھارویں صدی سے منسوب کی جاتی ہے۔ مورخین کے مطابق اس مسجد کی بنیاد کسی شاہی فرمان کے تحت نہیں رکھی گئی بلکہ یہ مقامی مسلمانوں کی مذہبی ضرورت اور عقیدت کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ مغل دور میں جہاں عظیم الشان جامع مساجد تعمیر ہوئیں، وہیں ایسی سادہ مگر بامقصد مساجد نے عام مسلمانوں کی عبادت گاہ کا کردار ادا کیا۔
محلِ وقوع کی تاریخی اہمیت
یہ مسجد پرانی دہلی کے اس حصے میں واقع ہے جہاں کبھی مغل عہد کی آباد بستیاں، بازار اور سرائیں موجود تھیں۔ فیض الہی مسجد نہ صرف عبادت کی جگہ رہی بلکہ سماجی روابط، مذہبی تعلیم اور باہمی ہم آہنگی کا مرکز بھی بنی۔
طرزِ تعمیر: سادگی میں حسن
مسجد کی تعمیر میں مغلیہ طرزِ تعمیر کی سادہ مگر پُراثر جھلک دکھائی دیتی ہے. یہ مسجد سادہ طرز تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔
*سرخ پتھر اور چونے کا محدود استعمال
*چھوٹے گنبد اور سادہ مینار
*بغیر زیادہ نقش و نگار کے صاف ستھرا ڈھانچہ
*کشادہ صحن جہاں اجتماعی نماز ادا کی جاتی ہے
مذہبی اور ثقافتی اہمیت
صدیوں سے فیض الہی مسجد پنج وقتہ نماز، جمعہ اور رمضان کی خصوصی عبادات کا مرکز رہی ہے۔ مقامی عقیدے کے مطابق یہاں مانگی گئی دعائیں قبول ہوتی ہیں، اسی لیے اسے برکت اور روحانی سکون کی جگہ سمجھا جاتا ہے۔ آج بھی یہاں حضرت شاہ فیض الہی کا عرس عقیدت کے ساتھ منایا جاتا ہے، جس میں مختلف مذاہب کے لوگ شریک ہوتے ہیں۔
وقت کے تھپیڑے اور تحفظ کا چیلنج
دہلی کی دیگر تاریخی عمارتوں کی طرح یہ مسجد بھی شہری توسیع اور عدم توجہی کا سامنا کر رہی ہے۔ اگرچہ مقامی برادری نے اس کی اصل ساخت کو بڑی حد تک محفوظ رکھا ہے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ فیض الہی مسجد کو باضابطہ ہیرٹیج تحفظ فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فی الحال فیض الہی مسجد دہلی وقف بورڈ کے تحت آتی ہے۔ جائیداد اور دیکھ بھال کی قانونی ذمہ داری وقف بورڈ کی ہے، جبکہ روزمرہ انتظامات مقامی انتظامی کمیٹی سنبھالتی ہے۔
تاریخ کی خاموش گواہ
1857 کی جنگ آزادی سے لے کر 1947 کی تقسیم ہند تک، فیضِ الٰہی مسجد نے دہلی کے کئی تاریخی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ مشکل ادوار میں اس مسجد نے مقامی لوگوں کو نہ صرف عبادت بلکہ سکون اور پناہ بھی فراہم کی۔ آج یہ مسجد ایک بار پھر تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے، جہاں قانون، وراثت اور مذہبی جذبات کے درمیان توازن قائم رکھنا سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…