قومی

Rahul Gandhi attack in kishanganj: ’’میرے ہائیڈروجن بم پر الیکشن کمیشن اور مودی خاموش کیوں‘‘: کشن گنج میں راہل گاندھی کا زوردار حملہ

بہار انتخابات کے دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے اتوار کے روز کشن گنج میں عظیم اتحاد کے امیدواروں کی حمایت میں ریلی کی اور وزیر اعظم نریندر مودی اور الیکشن کمیشن پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ہر یانہ، مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش کی طرح بہار میں بھی ووٹ چوری کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ کیا آپ نے ہریانہ والا ہائیڈروجن بم دیکھا ہے یا نہیں؟ میں نے ان لوگوں کی بولتی بند کر دی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی اور چیف الیکشن کمشنر ووٹ چوری کر رہے ہیں، لیکن مودی نے کبھی نہیں کہا کہ راہل گاندھی جھوٹ بول رہا ہے۔ یہ اس لیے نہیں کہتے کیونکہ ہمارے الزامات درست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لیڈرز دو دو ریاستوں میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔ مودی اور امت شاہ انتخابات نہیں جیتتے، بلکہ ووٹ چوری کرکے جیتتے ہیں۔

’مودی کے خون میں نفرت ہے، میرے خون میں محبت‘

راہل گاندھی نے کہا کہ ملک میں دو نظریاتی دھارائیں ہیں، ایک طرف آر ایس ایس اور بی جے پی کی سیاست ہے جو معاشرے کو ذات، مذہب اور زبان کے حساب سے تقسیم کرتی ہے، جبکہ کانگریس اور عظیم اتحاد جڑنے کی سیاست کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مودی کے خون میں نفرت ہے، میرے خون میں محبت۔ میں نے 4000 کلومیٹر کا سفر کیا تاکہ نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھولی جا سکے۔ راہل نے بے روزگاری، تعلیم اور تارک وطن کو بہار کے اہم مسائل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے نوجوان دوسرے صوبوں میں مزدوری کر رہے ہیں کیونکہ یہاں نہ روزگار ہے اور نہ تعلیم کی سہولت۔ یونیورسٹیاں بند ہو رہی ہیں یا فروخت کی جا رہی ہیں۔

ریل اور انسٹاگرام 21 ویں صدی کا نشہ

راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی لوگ اڈانی اور امبانی کے لیے کام کرتے ہیں، ہم کسان اور مزدور کے لیے کام کرتے ہیں۔ مودی نوجوانوں کو روزگار نہیں دے پا رہے بلکہ انہیں ڈیٹا سستا ہونے اور ریل بنانے جیسی باتوں میں الجھا رہے ہیں۔ ریل اور انسٹاگرام 21 ویں صدی کا نشہ ہیں، اس سے اڈانی اور امبانی کا پیسہ بنتا ہے، نوجوانوں کا نہیں۔

مودی-اڈانی-امبانی کا گٹھجوڑ

انہوں نے الزام لگایا کہ اڈانی اور امبانی مودی کا چہرہ استعمال کر رہے ہیں، مودی ان کی مدد کرتے ہیں، عوام کی زمینیں انہیں دیتے ہیں۔ بی جے پی کے پاس بہت پیسہ ہے، مودی کا چہرہ دن بھر ٹی وی پر چلتا ہے، پیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟ اڈانی اور امبانی سے۔ ان کے پاس پیسہ کہاں سے آتا ہے؟ آپ کی جیب سے۔راہل گاندھی نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کو چھوٹے تاجروں اور کسانوں کو ختم کرنے کی سازش بھی قرار دیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Jio now sets its sights on the US and Germany: جیو کی نظریں اب امریکہ اور جرمنی پر: 12 شراکت داریوں کے ذریعے 150 کروڑ صارفین تک پہنچنے کی امید

ہندوستان کی ثابت شدہ ٹیکنالوجی اب دنیا تک پہنچنے کے لیے تیار، ترقی یافتہ ممالک…

56 minutes ago

Vijeta Dahiya: اقتدار تبدیلی کی بات کرنا غیر آئینی نہیں، جمہوریت میں عوام کو حکومت بدلنے کا حق ہے: وجیتا دہیا

پرشانت بھوشن کے اقتدار کی تبدیلی سے متعلق بیان پر وجیتا دہیا نے کہا، ’’انہوں…

2 hours ago

Manisha Koirala’s Message for Women: ’’بدلتے جسم سے لڑنے کے بجائے اسے سمجھیں…‘‘، منیشا کوئرالا کا خواتین کو خاص پیغام

منیشا کوئرالا نے خواتین سمیت سبھی لوگوں سے صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی اپیل…

2 hours ago