نئی دہلی: ملک کے سابق نائب صدر حامد انصاری نے نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ کے اچانک استعفے پر خاموشی توڑی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انہیں اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اصل میں کیا ہوا اور استعفے کے پیچھے کیا وجوہات تھیں۔ جمعہ، 6 جنوری 2026 کو دیے گئے بیان میں انصاری نے کہا کہ نائب صدر کا عہدہ ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدوں میں سے ایک ہے اور اس منصب سے استعفیٰ دینا ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔حامد انصاری کے مطابق، اب تک جو روایت رہی ہے اس میں نائب صدر صرف اسی صورت میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتا ہے جب وہ صدرِ جمہوریہ منتخب ہو جائے اور نیا منصب سنبھالنے کے لیے پرانا عہدہ چھوڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کوئی نائب صدر اپنی مدت کے دوران اس اعلیٰ عہدے سے استعفیٰ دے۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ دھنکھڑ کے استعفے کے پس منظر میں کیا کہانی ہے، انہیں اس بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں۔
اسپیکر کے اختیارات پر حامد انصاری کا بیان
سابق نائب صدرِ جمہوریہ حامد انصاری نے اسپیکر اور چیئرمین کے اختیارات سے متعلق اہم تبصرہ کرتے ہوئے پارلیمانی نظام کی خودمختاری پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کے قواعد بالکل واضح ہیں اور ان کے مطابق کارروائی چلانے کا مکمل اختیار اسپیکر یا چیئرمین کے پاس ہوتا ہے۔حامد انصاری کے مطابق، ماضی میں پارلیمنٹ کی سیکیورٹی بھی لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے کنٹرول میں ہوتی تھی، لیکن اب اس نظام میں تبدیلی آ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تبدیلیوں کے تناظر میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کہیں ایسی صورتحال تو نہیں بن رہی جس میں اسپیکر کی آزاد اور آئینی طاقت پر بیرونی اثرات حاوی ہو جائیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسپیکر اور چیئرمین کا کردار غیر جانبدار اور خودمختار ہونا جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔ اگر اس خودمختاری پر کسی بھی قسم کا دباؤ یا اثر پڑتا ہے تو اس کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔ انصاری کے بیان کو پارلیمانی روایات اور آئینی اقدار کے تحفظ کے حوالے سے ایک سنجیدہ انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
جگدیپ دھنکھڑ پر کسی قسم کے دباؤ کے سوال پر حامد انصاری نے قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے علم کے مطابق دھنکھڑ پر کوئی دباؤ نہیں تھا۔ ان کے بقول، انہوں نے صرف استعفیٰ دیا اور منصب چھوڑ دیا، اس سے زیادہ وہ اس معاملے میں کچھ نہیں جانتے۔دوسری جانب، اتراکھنڈ کے کوٹدوار میں ایک کپڑوں کی دکان پر ہونے والے حملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سابق نائب صدر نے ملک میں بڑھتی ہوئی سماجی تقسیم پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ذات پات، زبان اور علاقائی شناخت سے جڑے تنازعات ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں بلکہ یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ ملک میں باہمی بھائی چارہ بتدریج کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
حامد انصاری نے کہا کہ لداخ سے کنیاکماری تک ہندوستان میں زبان، رہن سہن اور کھانے پینے کی عادات مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن ایک چیز سب کو جوڑتی ہے اور وہ ہے ہندوستانی شہری ہونے کا احساس۔ ان کے مطابق، اگر اس مشترکہ احساس کو مسلسل مضبوط نہ کیا گیا تو یہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا چلا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ آج زبان، مذہب یا دیگر شناختی مسائل پر جو جھگڑے سامنے آ رہے ہیں، ان کے لیے کسی ایک فرد کو مکمل طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ان کے مطابق، اس ماحول کی تشکیل میں معاشرے کے ہر فرد کا کردار ہے۔ بڑے لیڈروں کی ذمہ داری بڑی ہوتی ہے اور چھوٹے لیڈروں کی چھوٹی، لیکن مجموعی طور پر بھائی چارے کے زوال کے لیے ہم سب ذمہ دار ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…