اریبا خان نے پٹرول پمپ واقعے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے NEET کی تیاری کر رہی ہوں، پڑھنے لکھی ہوں، کوئی پاگل نہیں ہوں کہ کسی پر یوں ہی پستول تان دوں۔ پٹرول پمپ کے ملازم میرے والد کے ساتھ بدتمیزی کر رہے تھے، گالی گلوچ کر رہے تھے اور انہیں مارنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس وقت مجھے جو مناسب لگا، میں نے اپنے اور والد کے دفاع میں وہی کیا۔
پمپ کے ملازم نے ان کے والد کے ساتھ بدتمیزی کی
ہردوئی کے CNG-پٹرول پمپ پر جھگڑے کے بعد اپنے والد کی لائسنس یافتہ ریوالور پٹرول پمپ ملازم کے سینے پر تاننے والی اریبا خان کا بیان سامنے آیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پمپ کے ملازم نے اس کے والد کے ساتھ بدتمیزی کی تھی، انہیں دھکا دیا، جس پر غصے میں آکر اس نے ریوالور تان دی۔ اریبا نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، لیکن اس وقت سمجھ نہیں آیا کہ کیا کروں۔
میں پاگل نہیں کہ کسی پر بغیر وجہ کے پستول تان دوں
اریبا کے مطابق میں NEET کی تیاری کر رہی ہوں، امتحان بھی دیا ہے۔ میں ایک تعلیم یافتہ لڑکی ہوں، کوئی پاگل نہیں کہ کسی پر بغیر وجہ کے پستول تان دوں۔ پٹرول پمپ کا ملازم میرے والد سے بدتمیزی کر رہا تھا، گندی زبان استعمال کر رہا تھا اور انہیں مارنے کی کوشش کر رہا تھا، اس لیے میں نے جو درست سمجھا وہ کیا۔ اس کے بعد ہی معاملہ تھما۔ لیکن مجھے قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے تھا، کوئی اور راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔
واضح رہے کہ اریبا، احسان خان کی بیٹی ہیں۔ 15 جون کو احسان خان اپنی بیٹی اور بیوی کے ساتھ ہردوئی کے CNG-پٹرول پمپ پر گاڑی میں گیس بھروانے رکے تھے۔ اس دوران ان کی پٹرول پمپ ملازمین سے کہا سنی ہو گئی۔ اسی دوران اریبا دوڑتی ہوئی گاڑی کے پاس گئی، دروازہ کھولا اور والد کی ریوالور نکال لائی۔ اس نے وہ ریوالور ملازم رجنیش کمار پر تان دی۔ یہ پوری واردات قریبی CCTV کیمرے میں قید ہو گئی۔
پولیس نے مقدمہ درج کر کے ریوالور ضبط کرلی
بعد میں ملازم کی شکایت پر پولیس نے احسان خان اور ان کے خاندان کے خلاف آرمز ایکٹ سمیت مختلف دفعات میں مقدمہ درج کر کے ریوالور ضبط کر لی۔ اس مقدمے میں اریبا خان کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ فی الحال ہردوئی انتظامیہ نے ریوالور کے لائسنس کی منسوخی کا نوٹس بھیج دیا ہے۔
لوگ والد کو مارنے پر تلے ہوئے تھے
اس معاملے میں آج یعنی 17 جون کو کانپور پہنچے احسان خان اور اریبا نے کہا کہ ہم جب CNG بھروا رہے تھے تو ہم نے اپنے اہلِ خانہ کو گاڑی سے اتار دیا تھا۔ گیس بھرنے کے بعد ہم نے پیسے دیے، مگر پمپ ملازم بحث کرنے لگا۔ بحث کے دوران دیگر ملازم بھی اکٹھے ہو گئے اور بدتمیزی کرنے لگے۔ اریبا کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے والد احسان خان کو دھکا دیا، غلط باتیں کہیں، وہ لوگ والد کو مارنے پر تُلے ہوئے تھے۔ اس پر میں نے ریوالور نکال کر تان دی، جس سے معاملہ ٹھنڈا ہوا۔ اب پولیس تفتیش کر رہی ہے، ہم قانون کا سامنا کریں گے۔ لیکن پٹرول پمپ ملازموں نے بھی بدتمیزی کی، اس کی فوٹیج بھی دیکھی جانی چاہیے۔
میری نیت غلط نہیں تھی بلکہ مقصد دفاع تھا
آج اریبا اپنے والد احسان خان کے ساتھ کانپور میں اپنی بہن کے گھر آئی تھیں۔ ان کے بہنوئی فوج میں ہے۔ اریبا کا کہنا ہے کہ میں نے NEET کا امتحان دیا ہے، میں دہلی میں تعلیم حاصل کر رہی ہوں۔ میری کوئی غلط نیت نہیں تھی۔ میرے والد کو ان لوگوں نے گھیر لیا تھا۔ پولیس کو میں نے خود فون کیا تھا۔ پولیس آ کر ہمیں بچایا۔ اب ہم قانون کا سامنا کریں گے۔ اگرچہ یہ غلط تھا، پھر بھی مجبوری میں مجھے یہ قدم اٹھانا پڑا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…