قومی

Measles Can Be Life-Threatening for Children: خسرہ بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، ڈبلیو ایچ او نے بتائی علامات اور بچاؤ کے طریقے

نئی دہلی : خسرہ بچوں میں ہونے والی ایک انتہائی متعدی بیماری ہے، جسے معمولی سمجھنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ بیماری وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے اور متاثرہ شخص کے کھانسنے، چھینکنے یا سانس لینے کے دوران ہوا کے ذریعے دوسرے لوگوں تک پھیل سکتی ہے۔ چھوٹے بچوں، خاص طور پر پانچ سال سے کم عمر بچوں میں اس بیماری کے سنگین ہونے کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خسرے کی علامات، اس سے ہونے والی پیچیدگیوں اور بچاؤ کے طریقوں سے متعلق رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔

وائرس سے متاثر ہونے کے 7 سے 14 دن بعد ظاہر ہوتی ہیں علامات

ڈبلیو ایچ او کے مطابق، خسرے کے وائرس سے متاثر ہونے کے عموماً 7 سے 14 دن بعد اس بیماری کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں یہ عام بخار، نزلہ یا زکام جیسی بیماری محسوس ہو سکتی ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کی علامات سنگین صورت اختیار کر سکتی ہیں۔تیز بخار، کھانسی، ناک بہنا، آنکھوں کا سرخ ہونا اور ان سے پانی آنا خسرے کی اہم علامات ہیں۔ اس کے علاوہ چہرے اور گردن سے شروع ہو کر جسم کے دوسرے حصوں تک پھیلنے والے سرخ دھبے یا دانے بھی اس بیماری کی نمایاں علامت ہیں۔ بعض بچوں کے گالوں کے اندر چھوٹے چھوٹے سفید دھبے بھی دکھائی دیتے ہیں۔عام طور پر ابتدائی علامات ظاہر ہونے کے 3 سے 5 دن بعد جسم پر دانے نکلنے لگتے ہیں۔ یہ دانے آہستہ آہستہ سینے، ہاتھوں، پیروں اور جسم کے دیگر حصوں تک پھیل سکتے ہیں۔ اگر کسی بچے میں خسرے کی ایسی علامات نظر آئیں تو تاخیر کیے بغیر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔

نمونیا اور دماغ میں سوجن جیسی پیچیدگیوں کا خطرہ

خسرہ صرف بخار اور جلد پر دانے نکلنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ سنگین صورتوں میں یہ کئی خطرناک پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ ان میں نمونیا، کان میں انفیکشن، شدید اسہال، جسم میں پانی کی کمی اور دماغ میں سوجن جیسی بیماریاں شامل ہیں۔ بعض معاملات میں اس بیماری کی وجہ سے بینائی متاثر ہونے یا ختم ہونے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔غذائی قلت کے شکار بچوں، وٹامن اے کی کمی والے بچوں اور کمزور قوت مدافعت رکھنے والے بچوں میں خسرے کی پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ حمل کے دوران خسرے کا انفیکشن بھی ماں اور پیٹ میں پلنے والے بچے کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

2024 میں خسرے سے دنیا بھر میں 95 ہزار اموات

ڈبلیو ایچ او کے مطابق، سال 2024 میں دنیا بھر میں خسرے کی وجہ سے اندازاً 95,000 افراد کی موت ہوئی۔ مرنے والوں میں زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر بچے شامل تھے، جنہیں خسرے سے بچاؤ کی ویکسین نہیں لگائی گئی تھی یا جن کی ویکسینیشن کا عمل مکمل نہیں ہوا تھا۔یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خسرے سے بچاؤ کے لیے بچوں کی بروقت ویکسینیشن کتنی ضروری ہے۔

ویکسین کی دو خوراکیں دلانا ضروری

خسرے سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ ویکسینیشن ہے۔ بچوں کو خسرے کی ویکسین کی دو خوراکیں دلانا ضروری ہے، کیونکہ پہلی خوراک سے ہر بچے میں بیماری کے خلاف مکمل تحفظ پیدا نہیں ہوتا۔ ویکسین کی دونوں خوراکیں بچوں کو خسرے اور اس کی سنگین پیچیدگیوں سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اگر کسی بچے کو سانس لینے میں دشواری ہو، وہ غیر معمولی طور پر سست یا بے ہوش دکھائی دے، جسم میں پانی کی شدید کمی ہو یا کوئی دوسری سنگین علامت ظاہر ہو تو فوری طور پر طبی مدد حاصل کرنی چاہیے۔خسرے کے علاج کے لیے کوئی مخصوص اینٹی وائرل دوا دستیاب نہیں ہے۔ اس لیے علاج کا بنیادی مقصد علامات کو کم کرنا، بچے کی مناسب دیکھ بھال کرنا اور بیماری کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے بچانا ہے۔ بروقت طبی مشورہ اور مکمل ویکسینیشن بچوں کو اس خطرناک بیماری سے محفوظ رکھنے کے اہم ذرائع ہیں۔

بھارت ایکسپریس

Abu Danish Rehman

Recent Posts

CM Yogi extends birthday greetings to Amit Shah: امت شاہ کو یوگی آدتیہ ناتھ سمیت کئی لیڈروں نے سالگرہ کی دی مبارک باد

بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا، ’’ملک…

13 minutes ago

Houthi Rebel Attack on Saudi Arabia: سعودی عرب کے ایئرپورٹ حوثی باغیوں کا حملہ، ایک شخص ہلاک، ہندوستانی شہری سمیت 8 زخمی

سعودی عرب میں حوثی باغیوں کے مسلسل حملوں کے پیش نظر امریکہ نے اپنے سفارتی…

36 minutes ago

Delhi High Court: کیا طلبہ کو ڈرانا پولیس کا نیا اصول ہے؟ آئیسا کا دہلی پولیس پر حملہ، ہائی کورٹ سے لگائی فریاد

دہلی ہائی کورٹ 22 اکتوبر کو آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا…

12 hours ago

UP News: گورکھپور میں درگا وسرجن کے دوران بڑا حادثہ، ہائی ٹینشن تار کی زد میں آئے لوگ، 3 کی موت، 7 جھلسے

اتر پردیش کے گورکھپور کے گلریہا علاقے میں درگا مورتی وسرجن کے دوران ٹریکٹر ٹرالی…

12 hours ago