قومی

Who is Sona Pappu: کون ہے سونا پپّو جس کے گھر انتخابات سے پہلے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی دستک؟ مغربی بنگال کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ہلچل

مغربی بنگال میں بدعنوانی کے خلاف مرکزی ایجنسیوں کی کارروائی ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔ بدھ کی صبح جب کولکاتا کے لوگ اپنی روزمرہ کی زندگی شروع کر رہے تھے، اسی دوران انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی ٹیم نے جنوبی کولکاتا کے بالی گنج علاقے میں بڑی کارروائی انجام دی۔ ای ڈی کے نشانے پر علاقے کے معروف رئیل اسٹیٹ تاجر بِسو جیت پوڈار تھے، جنہیں ’سونا پپّو‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

خوابوں کا گھر دکھا کر کروڑوں کی دھوکہ دہی

سونا پپّو پر لگائے گئے الزامات انتہائی سنگین ہیں اور براہِ راست عام لوگوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس  نے کئی ہاؤسنگ پروجیکٹس کے نام پر لوگوں کو پرتعیش فلیٹس کا خواب دکھایا اور ان سے بھاری رقم وصول کی۔ تاہم برسوں گزرنے کے باوجود نہ تو خریداروں کو گھروں کی چابیاں مل سکیں اور نہ ہی ان کی جمع پونجی واپس کی گئی۔ای ڈی کو شبہ ہے کہ خریداروں سے جمع کی گئی کروڑوں روپے کی رقم کو غیر قانونی طریقے سے مختلف کمپنیوں میں منتقل کیا گیا اور ذاتی عیش و عشرت کے لیے استعمال کیا گیا۔ اب ایجنسی بینک کھاتوں اور سرمایہ کاری سے متعلق دستاویزات کے ذریعے اس مالی لین دین کی جانچ کر رہی ہے۔

کون ہے سونا پپّو؟

بالی گنج اور اطراف کے علاقوں میں بسو جیت پوڈار کا نام نیا نہیں ہے۔ اس کا تنازعات سے پرانا تعلق رہا ہے۔ ابتدا میں وہ اپنے والد کی سونے کی دکان سنبھالتا تھا، جس کی وجہ سے اس کے نام کے ساتھ ’سونا‘ کا لفظ جڑ گیا۔ وقت کے ساتھ ان کے خلاف متعدد سنگین مقدمات درج ہوتے گئے۔رپورٹس کے مطابق سونا پپّو کے خلاف اقدامِ قتل، بھتہ خوری اور اسلحہ ایکٹ جیسے الزامات کے تحت 15 سے زائد مقدمات درج ہیں۔ رواں سال فروری میں کنکولیا روڈ پر پیش آئے فائرنگ اور جھڑپ کے واقعے میں بھی ان کا نام سامنے آیا تھا، جس کے بعد وہ پولیس اور جانچ ایجنسیوں کی نظر میں آ گئے تھے۔

بااثر شخصیات سے روابط کی بھی جانچ

ای ڈی کی اس کارروائی سے کولکاتا کے رئیل اسٹیٹ بازار میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق سونا پپّو کے تعلقات بعض بااثر شخصیات اور سیاسی حلقوں سے بھی رہے ہیں۔ جانچ ٹیم اس پہلو کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا اس مالی بے ضابطگی کے پیچھے کوئی بڑا نیٹ ورک یا سیاسی سرپرستی موجود تھی یا نہیں۔

فی الحال چھاپہ ماری جاری ہے اور ای ڈی حکام دستاویزات کی چھان بین میں مصروف ہیں۔ اب تک کسی گرفتاری کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے میں کئی بڑے انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

6 hours ago

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

6 hours ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

7 hours ago