نئی دہلی : اڈیشہ کے وزیر مملکت برائے جنگلات، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی گنیش رام سنگھ کھونٹیا نے ہفتے کے روز زیتونی کچھوؤں (اولیو رڈلے ٹرٹلز) پر وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ڈبلیو آئی آئی) کی تین سالہ تحقیق کی پہلے سال کی رپورٹ جاری کی۔ اس تحقیق میں ان کچھوؤں کی نقل و حرکت اور سمندری سفر سے متعلق اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔اس تحقیق میں سیٹلائٹ ٹریکنگ، کشتیوں کے ذریعے سمندری سروے اور ساحلی علاقوں کے تجزیے کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد اڈیشہ کے ساحل پر کچھوؤں کی نقل و حرکت، رہائش گاہوں کے استعمال، ہجرت اور انڈے دینے کے مقامات کا مطالعہ کرنا ہے۔اس منصوبے میں اڈیشہ وائلڈ لائف آرگنائزیشن، محکمہ جنگلات، دھامرا پورٹ کمپنی لمیٹڈ (ڈی پی سی ایل) اور اڈانی فاؤنڈیشن نے وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔
10 کچھوؤں کی سیٹلائٹ کے ذریعے نگرانی
تحقیق کے دوران 10 زیتونی کچھوؤں کی 1,748 دن تک سیٹلائٹ کے ذریعے نگرانی کی گئی۔ اس سے نر اور مادہ کچھوؤں کی نقل و حرکت کے مختلف انداز سامنے آئے۔تحقیق کے مطابق نر کچھوؤں نے ساحل سے دور سمندر کی جانب ہجرت کا سفر پہلے شروع کیا، جبکہ مادہ کچھوے زیادہ وقت تک ساحلی علاقوں کے قریب رہیں۔ایک مادہ کچھوے نے 271 دن میں 6,719 کلومیٹر کا سفر طے کیا اور سری لنکا کے مشرقی سمندری علاقے تک پہنچ گئی۔ ایک دوسرے مادہ کچھوے نے گاہرماتھا اور رشیکولیا کے درمیان تقریباً 200 کلومیٹر کا سفر کیا اور پھر واپس لوٹ آئی۔
سمندری سروے میں 1,390 کچھوؤں کی شناخت
2025-26 کے انڈے دینے کے موسم کے دوران کشتیوں کے ذریعے کیے گئے سروے میں مجموعی طور پر 1,390 الگ الگ کچھوے اور ملاپ کرنے والے 67 جوڑے ریکارڈ کیے گئے۔ زیادہ تر کچھوے ساحلی پٹی سے دو کلومیٹر کے دائرے میں دیکھے گئے۔وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے سینئر سائنس دان ڈاکٹر آر سریش کمار نے کہا کہ اس تحقیق کے ذریعے اڈیشہ میں تقریباً 15 سال بعد زیتونی کچھوؤں کی سیٹلائٹ ٹریکنگ کا عمل دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔ان کے مطابق تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج سائنسی شواہد کی بنیاد پر تحفظ کے منصوبے تیار کرنے اور ان کچھوؤں کے طویل مدتی انتظام کی حکمت عملی بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
اڈیشہ کے قدرتی ورثے کا اہم حصہ ہیں زیتونی کچھوے
اڈانی فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر پریتی جی اڈانی نے کہا کہ زیتونی کچھوے اڈیشہ کے قدرتی ورثے کا ایک اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی کی جانب سے پائیدار ترقی اور ماحولیاتی تحفظ پر دی جانے والی توجہ کا خیرمقدم کیا۔واضح رہے کہ اڈیشہ میں گاہرماتھا اور رشیکولیا زیتونی کچھوؤں کے انڈے دینے کے بڑے مراکز ہیں۔ یہ سمندری کچھوے جنگلی حیات کے تحفظ کے قانون 1972 کے شیڈول اول کے تحت سب سے زیادہ قانونی تحفظ حاصل کرنے والی انواع میں شامل ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
دارالحکومت نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں انڈیا بلاک کی مہاریلی سے خطاب کرتے…
ممتا بنرجی نے کہا کہ مغربی بنگال ایس آئی آر سے متاثر ہونے والی ریاست…
ریاستی یومِ تاسیس پر پانچ اہم سوالات۔ کسانوں کی بدحالی، بستر میں ترقی کی رفتار،…
راجدھانی دہلی کا تاریخی رام لیلا میدان ایک بار پھر بڑی سیاسی سرگرمی کا مرکز…
راہل گاندھی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ لوگوں سے اپیل کی گئی تھی…
سردیوں میں سردی سے بچنے کے لیے دروازے اور کھڑکیاں بند رکھنے کی وجہ سے…