نئی دہلی: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے بعد سامنے آنے والے ایگزٹ پول میں ایک بار پھر آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی واپسی کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔ 294 رکنی اسمبلی کے لیے ہوئے انتخابات کے اس سروے نے ریاست کی سیاسی فضا کو گرم کر دیا ہے اور حکمراں جماعت کو سبقت ملتی دکھائی دے رہی ہے۔ شائننگ انڈیا کے ایگزٹ پول کے مطابق ٹی ایم سی کو 294 میں سے تقریباً 159 سیٹیں حاصل ہو سکتی ہیں، جو اسے واضح اکثریت کی جانب لے جاتی ہیں۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو 128 سیٹیں ملنے کی امید ظاہر کی گئی ہے، جس سے مقابلہ اگرچہ سخت دکھائی دیتا ہے، مگر برتری ٹی ایم سی کے پاس ہی رہنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس کو محض 3 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ بائیں بازو کی جماعتوں کو 2 نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ دیگر امیدواروں کے حصے میں بھی تقریباً 2 نشستیں جا سکتی ہیں۔
ایگزٹ پول کے مطابق تقریباً 37 نشستیں ایسی ہیں جہاں کانٹے کا مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے اور یہی نشستیں حتمی نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ ووٹ شیئر کے لحاظ سے ٹی ایم سی کو 43.5 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ بی جے پی کو 40.8 فیصد ووٹ حاصل ہونے کی پیش گوئی ہے۔ کانگریس کو 3.7 فیصد اور بائیں محاذ کو 4.9 فیصد ووٹ ملنے کا اندازہ ہے۔ اس کے علاوہ دیگر کے کھاتے میں 2.2 فیصد ووٹ جا سکتے ہیں، جبکہ 5.2 فیصد ووٹرز کو خاموش یا غیر فیصلہ کن قرار دیا گیا ہے۔
گزشتہ اسمبلی انتخابات کے نتائج پر نظر ڈالیں تو ٹی ایم سی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 215 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور ممتا بنرجی کی قیادت میں مضبوط حکومت قائم کی تھی۔ اس کے مقابلے میں بی جے پی 77 نشستوں تک محدود رہ گئی تھی، جس سے اس کی امیدوں کو بڑا دھچکا لگا تھا۔ موجودہ ایگزٹ پول کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ اس بار مقابلہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت ہو سکتا ہے، تاہم ٹی ایم سی اپنی برتری برقرار رکھنے میں کامیاب رہ سکتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ریاست میں علاقائی مسائل، فلاحی اسکیمیں اور قیادت کا کردار اس انتخاب میں اہم ثابت ہوا ہے۔
واضح رہے کہ یہ اعداد و شمار محض ایگزٹ پول پر مبنی ہیں اور حتمی نتائج کا اعلان ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی ہوگا۔ مغربی بنگال میں انتخابات دو مرحلوں میں مکمل ہوئے، جن میں پہلے مرحلے میں 93.19 فیصد اور دوسرے مرحلے میں 89.99 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی، جو عوامی جوش و خروش کی عکاسی کرتی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ریاست کے حتمی نتائج 4 مئی کو جاری کیے جائیں گے، جس کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا ٹی ایم سی ایک بار پھر اقتدار میں واپسی کرتی ہے یا سیاسی منظرنامہ کوئی نیا رخ اختیار کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بدھ کو کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے نئی دہلی میں وزیر اعظم مودی…
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور ویجلنس اینڈ اینٹی کرپشن بیورو (وی اے سی بی) دو…
راہل گاندھی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو لے کر بھی جارحانہ انداز میں نظر…
صدر زیلنسکی نے ایمانوئل میکرون کے ساتھ بات چیت کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے…
انوشکا یادو اپنی بیٹی اُجّینی کے ساتھ ڈانڈیا کلاس میں شرکت کرنے پہنچی تھیں۔ انہوں…
کم سے کم درجۂ حرارت میں کوئی خاص تبدیلی درج نہیں کی گئی، تاہم یہ…