کانگریس کے رکن پارلیمان راہل گاندھی۔
نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمان راہل گاندھی ایک بار پھر اپنے بیان کے باعث سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کانگریس اور انڈیا اتحاد 2024 کا لوک سبھا انتخاب ہارا نہیں تھا بلکہ 2029 کا انتخاب پہلے ہی جیت چکا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہم 2024 کا الیکشن ہارے نہیں تھے اور 2029 کا الیکشن جیت چکے ہیں۔
انڈیا اتحاد کی میٹنگ سے کیا خطاب
راہل گاندھی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں ان کی تقریر کا ہندی ترجمہ طلب کیا گیا تھا، جسے اب عوام کے لیے جاری کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 8 جون کو منعقدہ انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں 20 سے زائد لیڈران کی بات سننے کے بعد انہوں نے شرکاء سے خطاب کیا اور کہا کہ جب ملک کی روح، سوچ اور جمہوری ادارے خطرے میں ہوں اور عوامی آواز کو دبایا جا رہا ہو تو اتحاد کے ساتھ مزاحمت کام آتا ہے۔
2029’’ کا انتخاب ہم جیت چکے ہیں‘‘
انہوں نے کہا، ’’میں پھر کہہ رہا ہوں کہ ہم 2024 کا انتخاب ہارے نہیں تھے، اور 2029 کا انتخاب ہم جیت چکے ہیں۔ ہم متحد رہیں گے، عوام کے ہر طبقے کو منظم کریں گے اور اپنی مزاحمتی قوت کے ذریعے بی جے پی اور اس کے بھارت کے اداروں پر قبضے کو شکست دیں گے۔
کانگریس پارٹی کی جدوجہد کا کیا ذکر
راہل گاندھی نے کہا کہ وہ 2004 سے رکن پارلیمان ہیں اور کانگریس کا تنظیمی ڈھانچہ دیگر سیاسی جماعتوں سے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لاکھوں کانگریسی کارکنوں کو جانتے ہیں جو ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔
انتخابی نظام پر سوالات
کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ سماجوادی پارٹی اور ترنمول کانگریس کے لیڈر بھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ اب وہ ماحول باقی نہیں رہا جس میں مرکز میں کسی بھی جماعت کی حکومت ہونے کے باوجود مکمل طور پر غیر جانبدار انتخابات منعقد ہوتے تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بیوروکریسی، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، مرکزی تحقیقاتی بیورو اور الیکشن کمیشن پر بھارتیہ جنتا پارٹی کا اثر و رسوخ ہے۔
نتیش کمار کے الگ ہونے پر تبصرہ
راہل گاندھی نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار انڈیا اتحاد سے کیوں الگ ہوئے، لیکن اس کی وجہ کانگریس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی جماعتوں کے لیے کام کرنا مشکل ہو جائے تو مزاحمت ایک مؤثر ہتھیار بن جاتی ہے اور اسی مقصد کے لیے انہوں نے چار ہزار کلومیٹر طویل بھارت جوڑو یاترا بھی کی تھی۔
راہل نے اداروں پر قبضے کا لگایا الزام
کانگریس ایم پی نے الزام لگایا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے ملک کے نظام پر قبضہ کر لیا ہے، لیکن وہ انڈیا اتحاد کو متحد رکھنے کے لیے ہر قسم کی تنقید اور ذاتی حملے برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، شیوسینا لیڈر ادھو ٹھاکرے اور راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر تیجسوی یادو کو بھی یقین ہے کہ انتخابات میں بے ضابطگیوں کے ذریعے نتائج کو متاثر کیا جا رہا ہے۔
حکومت زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی: راہل
راہل گاندھی نے کہا کہ سماجی ذرائع ابلاغ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور بڑے چینلوں کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پورا نظام بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھ میں ہے، لیکن موجودہ حکومت زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکے گی۔
ایران کا حوالہ اور اتحاد کی اپیل
راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں ایران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور بعض واقعات کو روکا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر اپوزیشن جماعتیں متحد رہیں اور عوام کو ساتھ لے کر چلیں تو بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست دینا مشکل نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق آئندہ انتخابات میں حکمراں جماعت کو مسلسل ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بھارت ایکسپریس۔
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…
کانگریس لیڈر نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی اور انتخابی کمیشن کے اندر اختلافِ رائے…