امارت شرعیہ بہار،جھارکھنڈ واڈیسہ کی جانب سے پٹنہ کے گاندھی میدان میں آج دستور بچاو اوقاف بچاو کانفرنس کے انعقاد کیا گیا ہے،جس میں بڑی تعدا دمیں بہار کے کونے کونے سے لوگ پہنچے ہوئے ہیں ۔ تعداد اس قدر زیادہ کے پٹنہ کے روزہ مرہ کی زندگی تھم سی گئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تیس ہزار سے زیادہ لوگ اب تک گاندھی میدان پہنچ چکے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ لوگ راستے میں ہیں جو چند گھنٹوں کے اندر گاندھی میدان پہنچ سکتے ہیں۔ اس اجلاس کو امارت شرعیہ نے بلایا ہے البتہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اشتراک سے اس کانفرنس کو مزید تقویت پہنچائی گئی ہے اور نتیجے میں لوگ بڑی تعداد میں نہ صرف بہار بلکہ جھارکھنڈ اور یوپی سے بھی حاضر ہوئے ہیں ۔
اس کانفرنس کا بنیادی ایجنڈہ مرکزی حکومت کی طرف سے لائے گئے وقف ترمیمی قانون کو واپس لینے کا مطالبہ ہے ۔ اس مطالبے میں ایک طرف جہاں بیشتر مسلم جمعیت وجماعت شامل ہیں وہیں سیکولر سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی اس آواز کو حمایت مل رہی ہے۔ آج کے اس اجلاس میں بیشتر جمعیت وجماعت کے ذمہ داران کے علاوہ سیاسی و سماجی شخصیات بھی شامل ہورہی ہیں ۔ گاندھی میدان میں اس وقت ہر طرف وقف کے خلاف مظاہرہ اور آواز بلند کرنے والے لوگ ہی نظر آرہے ہیں اور کانفرنس کا باضابطہ آغاز بھی ہوچکا ہے،جہاں سے ہر مقرر حکومت سے یہی اپیل کررہا ہے کہ وقف کے قانون کو حکومت واپس لے۔
واضح رہے کہ بہار اسمبلی انتخابات کے پیش نظر یہ کانفرنس کافی معنی خیز ہے اورسیاسی طور پر بھی اس کو کافی اہم مانا جارہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کی بیشتر جماعتیں اپنے اپنے رہنماوں کو اس کانفرنس میں بھیج رہی ہیں ۔کانگریس پارٹی کی طرف سے متعدد مسلم رہنمابشمول سید ناصر حسین،عمران پرتاپ گڑھی کو بھیجا گیا ہے جبکہ راشٹریہ جنتا دل اور بائیں بازو کی جماعتوں کے لیڈران بھی اس اجلاس میں شامل ہیں۔ ایم آئی ایم چیف اسدالدین اویسی بھی اس کا حصہ ہیں ۔علاوہ ازیں سماجوادی پارٹی ،ترنمول کانگرنس،جھارکھنڈمکتی مورچہ وغیرہ جیسی جماعتوں کے نمائندے بھی اس کانفرنس میں شامل ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
دہلی میں اپوزیشن لیڈروں کی میٹنگ کے بعد راہل گاندھی نے کہا کہ جمہوریت اور…
اڈانی گروپ اور امریکی کمپنی Jabil بھارت میں اے آئی اور ڈیٹا سینٹر سے متعلق…
وزیر داخلہ امت شاہ نے ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش…
وزیر اعظم نے ڈیجیٹل سسٹم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ٹیکنالوجی کی…
نئی دہلی میں منعقدہ بی آئی ایم ایس ٹی ای سی وزرائے داخلہ کے پہلے…
15 اکتوبر 2026 سے 2,000 روپے سے زیادہ کی یو پی آئی ادائیگیوں پر عائد…