آرجے ڈی لیڈر عبدالباری صدیقی نے نتیش کمار کی پارٹی میں ٹوٹ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
Waqf Amendment Bill 2025: لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل منظورہونے کے بعد مسلسل اپوزیشن پارٹیاں حملہ آور ہیں۔ جمعرات (03 اپریل، 2025) کو ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے راشٹریہ جنتا دل (آرجے ڈی) کے قومی جنرل سکریٹری اورایم ایل سی عبدالباری صدیقی نے کہا کہ ایمرجنسی کی وجہ سے اب تک کی سب سے بڑی لیڈراندرا گاندھی کو جانا پڑا تھا۔ اس بل کے سبب مودی حکومت کو جانا پڑے گا۔ انہوں نے جے ڈی یو میں بھگدڑ مچنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
آرجے ڈی لیڈرنے کہا کہ اقتداراچھا وہی مانا جاتا ہے جو مائنارٹی (اقلیت) کا خیال رکھے۔ وقف بل مسلمانوں کے خلاف سازش ہے۔ ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ جے ڈی یو کے مسلم لیڈروقف بل کی مخالفت کررہے ہیں، اس پرانہوں نے کہا کہ جن لیڈران نے کئی دور دیکھے ہیں، وہ مخالفت کریں گے۔ جے ڈی یو میں بھگدڑمچنے والی ہے۔ اقتدار کے لئے لوگ نتیش کمار کے ساتھ ہیں، جلد بھگدڑ مچے گی۔
کچھ لوگوں نے نتیش کمارکواپنے کنٹرول میں کیا
عبدالباری صدیقی نے مزید کہا، “مجھے زبردست حیرانی ہے کہ نتیش کمار کیسے وقف بل کی حمایت کررہے ہیں؟ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بیمار ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ کچھ لوگوں نے نتیش کمار کو اپنے کنٹرول میں کرلیا ہے، ورنہ نتیش کمار کبھی اس کی حمایت نہیں کرتے۔ وقف ترمیمی بل سے مسلم سماج، مسلم تنظیمیں (سیاسی وغیرسیاسی) متفق نہیں ہیں۔”
وقف ترمیمی بل کی حمایت کرکے جے ڈی یو بے نقاب: آرجے ڈی
دوسری جانب، آرجے ڈی کے ترجمان مرتنجے تیواری نے بھی جے ڈی یو میں ٹوٹ کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل کی حمایت کرکے جے ڈی یو ایکسپوزہوگئی۔ نتیش کمارکا مبینہ سیکولرازم بے نقاب ہوگیا۔ جے ڈی یوکے مسلم اورغیرمسلم لیڈران میں بھی زبردست ناراضگی ہے، جو نظربھی آرہا ہے۔ جے ڈی یو میں مخالفت کی آوازاٹھ رہی ہے۔ بہارحکومت گرسکتی ہے۔ جے ڈی یو کو بچانا اب مشکل ہے۔ مرتنجے تیواری نے مزید کہا کہ اس بل کے ذریعہ بی جے پی نے سبھی اتحادی پارٹیوں کو نگل لیا۔ وقف بل غیرآئینی ہے۔ بل میں جوبھی شقیں رکھی گئی ہیں، حکومت نے اپنے تحفظات کے لئے کی ہیں اوراس پرعمل نہیں کیا جائے گا۔
قابل ذکرہے کہ نتیش کمارکی قیادت والی پارٹی جے ڈی یو نے لوک سبھا میں بل کی حمایت کی تھی، لیکن پارٹی دوحصوں میں تقسیم ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ مسلم قائدین میں ناراضگی ہے۔ غلام غوث کے بعد غلام رسول بلیاوی نے بھی شدید احتجاج کیا ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے 288 ووٹوں کے ساتھ وقف ترمیمی بل کو منظورکرایا جبکہ مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…