قومی

Wangchuk Calls for Second Independence Movement: ’’ہمیں ایک اور آزادی کی تحریک چاہیے…‘‘ آخر سونم وانگچک نے کس آزادی کے لیے ملک سے تعاون مانگا؟

بھارت کے 80ویں یومِ آزادی سے عین قبل لداخ کے معروف ماہرِ تعلیم، ماحولیاتی کارکن اور فلم ’3 ایڈیٹس‘ کے حقیقی زندگی کے ’فنسوک وانگڑو‘ یعنی سونم وانگچک نے ملک کے نام ایک انتہائی سنجیدہ اور چشم کشا پیغام جاری کیا ہے۔ انہوں نے براہِ راست بھارت کے سیاسی اور قیادتی نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے ملک میں ’’پُرامن انقلاب‘‘ اور ’’بھارت کی دوسری آزادی کی تحریک‘‘ کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا یہ ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پر تیزی سے زیرِ بحث ہے۔

کیا 2047 تک بھارت دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا؟

سونم وانگچک نے اپنی خراب صحت کے دوران ملک کے مستقبل پر کیے گئے گہرے غوروفکر کا ذکر کیا۔ انہوں نے تھائی لینڈ، ملائیشیا، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جو ممالک 50 سال پہلے بھارت سے پیچھے تھے، وہ آج فی کس آمدنی کے معاملے میں بھارت سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔وانگچک نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں تعلیم اور ترقی کی موجودہ صورتحال اسی طرح برقرار رہی تو 2047 تک بھارت ترقی یافتہ ملک بننا تو دور، دنیا کے سامنے اپنا چہرہ دکھانے کے قابل بھی نہیں رہے گا۔

سیاست میں جرائم پر تشویش

سونم وانگچک نے 2012-13 کی بدعنوانی مخالف تحریک، یعنی انا ہزارے کی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت سیاسی تبدیلی تو آئی، لیکن 12 سال بعد بدعنوانی اور ناانصافی پہلے سے کہیں زیادہ سنگین شکل اختیار کر چکی ہے۔انہوں نے پارلیمنٹ میں ایسے عوامی نمائندوں کی بڑی تعداد پر بھی گہری تشویش ظاہر کی جن کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں۔ وانگچک نے کہا کہ تقریباً نصف ارکانِ پارلیمنٹ پر مجرمانہ مقدمات ہیں، جبکہ ایک تہائی ارکان پر قتل، عصمت دری اور اغوا جیسے سنگین الزامات ہیں۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال میں ملک میں ’’اعتماد کا بحران‘‘ پیدا ہونا فطری ہے۔

ملک بھر سے ’حقیقی ہیروز‘ کے نام مانگے

وانگچک نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ کسی ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام سے متعلق ہے۔ انہوں نے لداخ سے ملک بھر کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں سے ایسے بے لوث، نڈر اور باکردار افراد کے نام تجویز کریں جو ملک کی بہتر قیادت کر سکتے ہیں۔سونم وانگچک خود ملک بھر کا دورہ کرکے ایسے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر 2047 تک بھارت کو ایک ’’باعزت قوم‘‘ بنانا ہے تو سیاسی قیادت کے انتخاب کے طریقہ کار میں تبدیلی لانے کے لیے ان کی ’’دوسری آزادی کی تحریک‘‘ میں ساتھ دیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

56 minutes ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

2 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

3 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

3 hours ago