نئی دہلی: اب انڈیا الائنس کے لیڈران نے بہارمیں ووٹرلسٹ پرخصوصی نظرثانی مہم (ایس آئی آر) اورووٹ چوری کے معاملے پرالیکشن کمیشن پرحملہ کیا ہے۔ ایک دن پہلے اتوارکوچیف الیکشن کمشنرگیانیش کمارنے ایس آئی آراور ووٹ چوری کے معاملے پرپریس کانفرنس کی۔ گیانیش کمارنے راہل گاندھی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ یا تووہ 7 دنوں کے اندرحلف نامہ دیں یا پھرملک سے معافی مانگیں۔ اب کانگریس کے ساتھ ساتھ سماج وادی پارٹی، ٹی ایم سی، آرجے ڈی، عام آدمی پارٹی اورسی پی ایم نے بھی الیکشن کمیشن کوجواب دینے کے ساتھ ساتھ سوال اٹھائے ہیں۔
کانسٹی ٹیوشن کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کانگریس لیڈرگوروگوگوئی نے کہا کہ ووٹ کا حق سب سے اہم ہے۔ ہندوستان کی بہت سی سیاسی پارٹیاں الیکشن کمیشن سے سوالات پوچھ رہی ہیں، جن کا الیکشن کمیشن جواب دینے سے قاصرہے۔ یہ اپنی ذمہ داری سے بھاگ رہا ہے۔ ہم نے کل الیکشن کمیشن کی پریس کانفرنس دیکھی، جہاں انہیں اپوزیشن کے سوالوں کا جواب دینا تھا، وہاں وہ سیاسی پارٹیوں پر ہی سوالات اٹھا کرحملہ بول رہے تھے۔
ایک لاکھ فرضی ووٹرکی بات پرکوئی جواب نہیں: کانگریس
کانگریس لیڈرگوروگوگوئی نے کہا کہ الیکشن کمیشن پولنگ بوتھوں کے سی سی ٹی وی پرخاموش ہے۔ ایک لاکھ جعلی ووٹروں کے معاملے پرکوئی جواب نہیں دیا گیا۔ الیکشن کمیشن بتائے کہ یہ کیسے پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے، یہ نہیں بتایا گیا۔ الیکشن کمیشن دباؤمیں ہے۔ بہار میں ایس آئی آرجلد بازی میں کیوں کیا جا رہا ہے؟ الیکشن کمیشن سوالات سے بھاگ رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے تمام بیانات مسترد کردیئے۔ سی ای سی نے اپوزیشن کے جائزسوالات کا جواب دینے کے بجائے سیاسی جماعتوں پرحملہ کردیا۔
ضروری سوالوں پرخاموش رہا الیکشن کمیشن: اپوزیشن
الیکشن کمیشن بہارکے ایس آئی آر، مہاراشٹرلوک سبھا اورودھان سبھا کے درمیان ووٹروں کی بڑھی ہوئی تعداد، ڈیجیٹل لسٹ، سی سی ٹی وی فوٹیج جیسی سبھی ضروری سوالوں پرخاموش رہا۔ اس سے صاف ظاہرہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن ایسے افسران کی نگرانی کررہا ہے، جو سیاسی پارٹیوں کے لئے کام کرتے ہیں۔ افسران آئیں گے اورجائیں گے، ہم ان پرنگرانی رکھیں گے۔ ہم مناسب وقت پرمناسب قدم اٹھائیں گے۔ اس سے صاف ظاہرہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن ایسے افسران کی نگرانی میں ہے، جوکسی سیاسی پارٹیوں کے لئے کام کرتے ہیں۔ افسران آئیں گے اورجائیں گے، ہم ان پرنظررکھیں گے، مناسب وقت پرمناسب اقدامات کریں گے۔
رام گوپال یادو نے پوچھا- اکھلیش نے دیا تھا حلف نامہ، کیا ہوا؟
سماج وادی پارٹی کے لیڈررام گوپال یادونے کہا کہ الیکشن کمیشن نے باربارکہا ہے کہ جوالزامات لگائے جا رہے ہیں، وہ حلف نامہ کے ذریعہ دیا جانا چاہئے، لیکن جب اکھلیش یادو نے 2022 میں حلف نامہ دیا توکیا کوئی کارروائی ہوئی؟ کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن کو2022 کے انتخابات میں حلف نامہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایس پی حامیوں کے ووٹ بڑے پیمانے پرکاٹے جا رہے ہیں، 18 ہزارووٹروں کے حلف نامہ بھی دیئے گئے، آج تک ایک حلف نامہ پربھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ…
کوہلی ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں…
جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…
چراغ پاسوان کی ایل جے پی (رام ولاس)، اپیندر کشواہا کی آر ایل ایم اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سکھ مذہب کے تیسرے گرو، شری گرو امرداس جی…