نئی دہلی : بھارت اور فرانس نے جدت، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے انڈیا-فرانس انوویشن روڈ میپ 2030 اپنانے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت ہند کے مطابق بھارت کے‘‘ وکست بھارت 2047 ’’وژن اور فرانس کے فرانس 2030 منصوبے کے درمیان مضبوط ہم آہنگی موجود ہے، جو مستقبل پر مبنی اختراعی شراکت داری کو فروغ دینے اور نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک اس روڈ میپ کو ایک جامع فریم ورک کے طور پر استعمال کریں گے، جس کے ذریعے اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی مشترکہ ترقی، قابل اعتماد ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام کی تشکیل، تعلیمی و تحقیقی تعاون میں اضافہ اور عوامی فلاح و خوشحالی کے لیے عملی نتائج حاصل کیے جائیں گے۔بھارت اور فرانس اس بات پر متفق ہیں کہ جدت طرازی اقتصادی استحکام، پائیدار ترقی، تزویراتی خودمختاری اور ٹیکنالوجی و صنعتی خود انحصاری کے لیے بنیادی محرک کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں ممالک کا ماننا ہے کہ مضبوط اختراعی شراکت داری نہ صرف دونوں ملکوں کی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لائے گی، بلکہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔فروری 2025 میں بھارت اور فرانس کے درمیان مصنوعی ذہانت (اے آئی )سے متعلق مشترکہ اعلامیے اور 2025 و 2026 میں فرانس اور بھارت میں منعقد ہونے والے اے آئی ایکشن و امپیکٹ سمٹس کے تناظر میں دونوں ممالک نے قابل اعتماد مصنوعی ذہانت کو اپنی شراکت داری کا مرکزی ستون بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ بیان کے مطابق دونوں ممالک محفوظ، شفاف اور قابل اعتماد اے آئی نظاموں کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں گے، جو جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے مطابق ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ امتیازی رویوں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف 2030 کے حصول میں معاونت پر بھی زور دیا جائے گا۔
بھارت اور فرانس نے مصنوعی ذہانت کے ضابطہ کار، معیار سازی اور تکنیکی امور میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے، تاکہ جدید اور جنریٹو اے آئی ماڈلز کے لیے خطرات پر مبنی اور ہم آہنگ پالیسیوں کو فروغ دیا جا سکے، جب کہ اختراع اور قومی ترقی کی رفتار بھی متاثر نہ ہو۔دونوں ممالک نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ اے آئی پر مبنی خدمات بچوں اور دیگر کمزور طبقات کے لیے آن لائن ماحول میں مخصوص خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ اسی لیے آن لائن بچوں کے تحفظ کو دونوں ممالک نے اپنی اے آئی شراکت داری کی اہم ترجیح قرار دیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ رازداری کے تحفظ پر مبنی ڈیٹا شیئرنگ فریم ورک مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پر مبنی اختراعات کی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ اس ضمن میں بنیادی حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
ہورائزن 2047 فریم ورک کے تحت دونوں ممالک نے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کی تعلیم، تحقیقی شراکت داری، افرادی قوت کی نقل و حرکت اور ادارہ جاتی تعاون کو مستقبل کی نسلوں کی تیاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیا ہے۔فرانس نے 2030 تک 30 ہزار بھارتی طلبہ کو اپنے تعلیمی اداروں میں خوش آمدید کہنے کے ہدف کا اعادہ کیا، جب کہ دونوں ممالک نے عوامی روابط کو دوطرفہ تعلقات کی مضبوط بنیاد قرار دیا۔ اس کے علاوہ بھارت اور فرانس کے کئی تعلیمی اداروں نے طلبہ کے تبادلوں اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں کے ذریعے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔دونوں ممالک نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے کردار کو بھی سراہا اور اختراع، روزگار اور جامع اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے دونوں ملکوں کے ایس ایم ای ماحولیاتی نظام کے درمیان مزید روابط قائم کرنے کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی قانونی معاونت اور…
میرٹھ کے لِساڑی گیٹ علاقے میں شراب کی دکان پر مقررہ قیمت سے زیادہ رقم…
اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…