قومی

Where Is Father Controversy: تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ وجے کے ’پاپا کہاں ہیں؟‘ سوال پر ہنگامہ، بی جے پی صدر نینار ناگندرن کا پلٹ وار

تمل ناڈو کی سیاست میں مسلسل جاری سیاسی بیان بازی اب ذاتی رشتوں تک پہنچ گئی ہے۔ وزیراعلیٰ اور ٹی وی کے لیڈر وجے کے ایک سوال پر بی جے پی لیڈر نے ایسا بیان دے دیا، جس کے بعد تنازع کھڑا ہوگیا۔ وزیراعلیٰ وجے اسمبلی میں بار بار پوچھ رہے تھے کہ ’’پاپا کہاں ہیں؟‘‘ یہی سوال کئی مرتبہ دہرائے جانے پر بی جے پی کے ریاستی صدر نینار ناگندرن نے ایسا جواب دیا کہ ماحول گرم ہوگیا۔ نینار ناگندرن نے وجے کی جانب سے بار بار ’’والد کہاں ہیں؟‘‘ پوچھے جانے پر کہا کہ اگر آپ اسمبلی میں بار بار پوچھیں گے کہ ’’پاپا کہاں ہیں، پاپا کہاں ہیں‘‘ تو ہمیں کیسے معلوم ہوگا؟ آپ کو اس کا جواب گھر جاکر اپنی والدہ سے پوچھنا ہوگا۔ وہیں آپ کو بتایا جاسکتا ہے کہ آپ کے پاپا کہاں ہیں۔ ناگندرن کے اس بیان کے بعد تمل ناڈو کی سیاست میں ہلچل مچ گئی۔ لوگوں نے ان کے جواب کو وجے کی والدہ سے جوڑتے ہوئے اسے نامناسب قرار دیا۔ یہاں تک کہ بی جے پی کے سابق ریاستی صدر کے. انامالائی نے بھی ناگندرن کے اس بیان پر سخت تنقید کی ہے۔

راج موہن نے بیان کو غیر مہذب قرار دیا

ٹی وی کے کی جانب سے سب سے پہلے وزیر راج موہن نے ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے ناگندرن کے بیان کو غیر مہذب، قابل مذمت اور ایک ذمہ دار لیڈر کے عہدے کے شایانِ شان نہ ہونے والا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی بحث اپنی جگہ ہے، لیکن کسی کے خاندان کو درمیان میں لانا غلط ہے۔ پارٹی نے بھی اس بیان کی سخت مذمت کی۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ اس معاملے پر بی جے پی کے اندر سے بھی ناراضی سامنے آئی۔ پارٹی کے سابق تمل ناڈو صدر کے. انامالائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرکے ناگندرن کے بیان پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید بھی کی جاسکتی ہے، لیکن کسی لیڈر کے خاندان، خاص طور پر اس کی والدہ کو نشانہ بنانا قابل قبول نہیں ہے۔

معاشرے کو غلط پیغام جا رہا ہے

انامالائی نے اسے سیاسی شائستگی کی حدود سے باہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بیان بازی سیاست کے معیار کو گراتی ہے اور معاشرے کو غلط پیغام دیتی ہے۔ ان کے مطابق تمل ناڈو کی نئی نسل کو اس طرح کی سیاست نہیں سکھائی جانی چاہیے۔فی الحال یہ تنازع مسلسل بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ مسائل اور پالیسیوں پر بحث جمہوریت کی پہچان ہے، لیکن جب بیان بازی ذاتی رشتوں اور خاندان تک پہنچ جاتی ہے تو تنازع مزید گہرا ہوجاتا ہے۔ ایسے میں ناگندرن کے تبصرے نے تمل ناڈو کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور آنے والے دنوں میں اس معاملے پر سیاسی ٹکراؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Asian Games 2026: ’فتح ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے!‘ اسکواش میں کانسی کا تمغہ جیتنے پر امت شاہ نے جوشنا اور ویلون کو دی مبارکباد

ایشین گیمز 2026 کے اسکواش مکسڈ ڈبلز مقابلے میں جوشنا چناپا اور ویلون سینتھل کمار…

2 hours ago

Home Minister Amit Shah: ایشین گیمز 2026، میراتھن میں ساون برنوال نے جیتا سلور، امت شاہ نے کہا – ’کامیابی کی راہ پر اسی طرح دوڑتے رہیں‘

آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹ ساون برنوَال نے مردوں کی میراتھن میں چاندی…

3 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026، بھارتی خواتین رائفل ٹیم نے جیتا سلور، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

50 میٹر رائفل 3 پوزیشن ٹیم مقابلے میں تلوتمہ سین، وِدرشا کے ونود اور آشی…

3 hours ago

Thackeray Brothers Rally Against EC: ایس آئی آر کے خلاف پھر ایک ہوئے راج اور ادھو ٹھاکرے، 4 اکتوبر کو نکالیں گے بڑا احتجاجی مارچ

مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے خلاف ایم این ایس اور شیوسینا (یو…

4 hours ago