نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کی 139ویں قسط میں اتراکھنڈ کے دریائے ہیول کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے ٹہری گڑھوال علاقے میں لوگوں نے متحد ہوکر ایک دریا کو نئی زندگی دینے کی کوشش کی ہے۔ اس دریا کا نام ہیول ہے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل دریائے ہیول میں پانی کی سطح کم ہونے لگی تھی اور اس کے آس پاس کے قدرتی آبی ذرائع بھی خشک ہو رہے تھے۔ اس صورت حال کے پیش نظر مقامی انتظامیہ اور گاؤں کے لوگوں نے مل کر دریا کو بچانے کی مہم شروع کی۔ اس مہم کے دوران بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے اقدامات کیے گئے، پانی کو زمین کے اندر پہنچانے کے لیے کام کیا گیا اور بڑے پیمانے پر پودے لگائے گئے۔ مودی کے مطابق، ان کوششوں کے نتیجے میں دریائے ہیول کو نئی زندگی ملی اور قدرتی پانی کے درجنوں ذرائع کو دوبارہ بحال کرنے میں بھی مدد ملی۔
2019-20 میں شروع ہوا دریا کی بحالی کا منصوبہ
دریائے ہیول اتراکھنڈ کے ضلع ٹہری گڑھوال میں نریندر نگر فاریسٹ ڈویژن کے تحت آتا ہے۔ یہ دریا سرکنڈا دیوی اور ناگ دیوتا مندر کے قریب واقع جنگلات سے ’کھوریت گڑھ‘ کی شکل میں نکلتا ہے۔ اس کا منبع سطح سمندر سے تقریباً 8 ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر واقع ہے۔ دریائے ہیول کو بچانے کی کوششوں کا آغاز 2019-20 میں ہوا تھا۔ انڈین فاریسٹ سروس کے افسر دھرم سنگھ مینا کی قیادت میں محکمہ جنگلات اور مقامی دیہاتیوں نے مل کر ’ہیول ریور ریجوینیشن‘ یعنی دریائے ہیول کی بحالی کا منصوبہ شروع کیا تھا۔ اس منصوبے کو پورے قدرتی خطے کی بحالی کے تصور کے تحت آگے بڑھایا گیا۔
بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور شجرکاری پر زور
اس منصوبے کے تحت پورے علاقے میں پانی کے تحفظ پر توجہ دی گئی۔ پہاڑی علاقوں میں ایسے گڑھے اور ڈھانچے تیار کیے گئے جن سے بارش کا پانی جمع ہو سکے اور زمین میں جذب ہوکر زیرِ زمین پانی کی سطح کو بہتر بنا سکے۔ اس کے ساتھ بڑے پیمانے پر شجرکاری بھی کی گئی، تاکہ جنگلات دوبارہ سرسبز ہوں اور قدرتی آبی ذرائع کو پانی ملتا رہے۔ اس منصوبے کا مقصد صرف دریا میں پانی کی سطح بہتر بنانا نہیں تھا، بلکہ پورے علاقے کے قدرتی آبی نظام کو بحال کرنا بھی تھا۔
سیاحت اور ایڈونچر سرگرمیوں کے لیے بھی اہم ہے ہیول
دریائے ہیول کی اہمیت صرف پانی کے ایک قدرتی ذریعے تک محدود نہیں ہے۔ رشی کیش کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے اس کے کنارے کا علاقہ سیاحت کے لحاظ سے بھی خاصا مقبول ہے۔ رتاپانی اور نیل کنٹھ روڈ جیسے علاقوں میں دریا کے کنارے لگژری کیمپنگ، ماحول دوست سیاحت اور ایڈونچر سرگرمیوں کو پسند کیا جاتا ہے۔ دریا کی بحالی سے قدرتی ماحول کے تحفظ کے ساتھ اس علاقے کی سیاحتی اہمیت بھی نمایاں ہوتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
فلمی صنعت سے وابستہ ذرائع کے مطابق، انیش فلم میں ایک ایسے نوجوان کا کردار…
وزیراعظم نے یاد دلایا کہ 31 اکتوبر کو سردار ولبھ بھائی پٹیل کی یومِ پیدائش…
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جب مقامی مصنوعات کی بات ہوتی ہے تو کھادی…
پروگرام کے دوران وزیراعظم نے پنجاب کے مالوہ علاقے میں روایتی زرعی طریقوں کو دوبارہ…
یہ پروگرام ہریدوار کی تنظیم دویہ پریم سیوا مشن کے زیر اہتمام منعقد کیا جا…
پورے تنازع کی شروعات قانون ساز کونسل کے انتخابات کے دوران ہوئی۔ اننت سنگھ نے…