اتر پردیش میں جمعیت حمایت الاسلام کی تنظیمی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تنظیم کے قومی صدر قاری ابرار جمال نے 19 اکتوبر کو جمعیت حمایت الاسلام کی اتر پردیش کی پوری کمیٹی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب تنظیم کی نئی ریاستی کمیٹی اور مختلف اضلاع کے نئے صدور کے اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ تنظیم کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ نئی کمیٹی اور ضلعی صدور کے ناموں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ اس پیشرفت کے باوجود مولانا معراج قاسمی، موجودہ صدر جمعیۃ حمایت الاسلام، اتر پردیش، اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ کمیٹی کی تحلیل کے بعد ریاست میں تنظیمی ڈھانچے کی تشکیلِ نو کو اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ نئی کمیٹی کی تشکیل اور ضلعی صدور کی تقرری کے ذریعے ریاستی اور ضلعی سطح پر تنظیمی ذمہ داریوں کی تقسیم کا نیا مرحلہ شروع ہوگا۔ تاہم، موجودہ کمیٹی کو تحلیل کرنے کی وجوہات اور نئی کمیٹی کی تشکیل کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقۂ کار کے بارے میں فی الحال تفصیلی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اس لیے نئی قیادت کے اعلان کو تنظیم کی آئندہ سرگرمیوں کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
جمعیت حمایت الاسلام کی تنظیمی سرگرمیاں
جمعیت حمایت الاسلام ایک مذہبی و سماجی تنظیم ہے، جس کے پلیٹ فارم سے علماء اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی شرکت کے ساتھ پروگرام منعقد کیے جاتے رہے ہیں۔ تنظیم کی سرگرمیوں میں مذہبی و سماجی موضوعات پر اجتماعات اور معاشرے میں امن، بھائی چارے اور انسانی اقدار کے فروغ سے متعلق پروگرام بھی نمایاں رہے ہیں۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے مختلف طبقات کے درمیان رابطے اور سماجی مسائل پر تبادلۂ خیال کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ ستمبر 2024 میں اتر پردیش کے شہر سہارن پور میں جمعیت حمایت الاسلام کے سالانہ جلسے کے موقع پر ’پیغامِ انسانیت‘ کے عنوان سے ایک تقریب منعقد کی گئی تھی۔ اس پروگرام کی صدارت قاری ابرار جمال نے کی تھی، جس میں ملک اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے مندوبین، علماء، مشائخ اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی تھی۔ تقریب میں امن، بھائی چارے اور ملک کے موجودہ حالات جیسے موضوعات پر اظہارِ خیال کیا گیا تھا۔ اس پروگرام سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم مذہبی و سماجی اجتماعات کے ذریعے مختلف شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی سرگرمیاں بھی انجام دیتی رہی ہے۔
قاری ابرار جمال کی قیادت میں اہم فیصلہ
قاری ابرار جمال جمعیت حمایت الاسلام کے قومی صدر کی حیثیت سے تنظیمی معاملات میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں اتر پردیش کی پوری کمیٹی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ تنظیمی سطح پر ایک اہم قدم ہے۔ اب نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ نئی کمیٹی میں کن افراد کو ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں اور مختلف اضلاع میں تنظیمی قیادت کے لیے کن ناموں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ ریاستی کمیٹی کی تشکیل کسی بھی تنظیم کے لیے اہم ہوتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے مختلف علاقوں میں سرگرمیوں کی نگرانی، ذمہ داران کے درمیان رابطہ اور تنظیمی پروگراموں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ ایسے میں جمعیت حمایت الاسلام کی نئی اتر پردیش کمیٹی کے اعلان کو تنظیم کے آئندہ لائحۂ عمل کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ نئی قیادت کے سامنے ریاست کے مختلف اضلاع میں تنظیمی رابطوں کو مضبوط بنانے اور سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی ذمہ داری ہوگی۔
مفتی پیار محمد قاسمی نے فیصلے کا خیرمقدم کیا
جمعیت حمایت الاسلام کے سابق قومی صدر مفتی پیار محمد قاسمی نے اتر پردیش کمیٹی کو تحلیل کرنے کے فیصلے کو تنظیم کے لیے اچھا قدم قرار دیا ہے۔ ان کی رائے کو تنظیم کے اندر اس فیصلے کی تائید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، نئی کمیٹی کی تشکیل، اس میں شامل ہونے والے افراد اور ضلعی صدور کی تقرری سے متعلق تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ تنظیم ریاست میں اپنے ڈھانچے کو کس شکل میں آگے بڑھاتی ہے۔ فی الحال تنظیم کے ذمہ داران اور کارکنان کو نئی ریاستی کمیٹی اور ضلعی صدور کے باضابطہ اعلان کا انتظار ہے۔ آنے والے دنوں میں ہونے والا یہ اعلان جمعیت حمایت الاسلام کی اتر پردیش میں تنظیمی سمت اور آئندہ سرگرمیوں کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور تکنیکی جانچ کی مدد سے ملزمین کے…
ایئر انڈیا ایکسپریس نے بھی دمام، جدہ اور ریاض کے لیے پروازوں کی معطلی 20…
وزیر اعظم نے مزید لکھا کہ قومی سویم سیوک سنگھ نے خدمت، ملک کی تعمیر…
ڈاکٹر موہن بھاگوت نے پنچ پریورتن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے پانچوں…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرکے ملک…
کولکاتا کے درگا پوجا پنڈال میں بھگدڑ کے دوران کئی افراد کے جسم کے اندرونی…