تحریر: کرتیکا شرما
جراثیم کُش ادویات کے خلاف مزاحمتکے خلاف جنگ میں سب سے بڑا خطرہ اکثر وہ ہوتا ہے جو فوری طور پر نظر نہیں آتا۔ ایک مریض انفیکشن کے ساتھ آتا ہے، اور ڈاکٹر ممکنہ سبب کی بنیاد پر علاج شروع کر دیتا ہے۔ لیکن مریض کے جسم میں موجود جراثیم پہلے ہی ان معیاری ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کرچکے ہوتے ہیں جو معالج ان کے لیے تجویز کرتا ہے۔ مگر اس کی تصدیق میں کئی دن لگ سکتے ہیں ۔ اور جب تک ڈاکٹر تجربہ گاہ سے آنے والے ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار کرتے ہیں ، انفیکشن اس نظام سے زیادہ تیزی کے ساتھ پھیل سکتا ہے جو اسے روکنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
یہی خاموش غیر یقینی کیفیت جراثیم کُش ادویات کے خلاف مزاحمت کو انتہائی خطرناک بناتی ہے۔ یہ صرف ایک اور بیماری نہیں ہے۔ یہ جدید طب کی بنیادوں کو کمزور کرتی ہے، جس سے عام انفیکشن کا علاج زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے بہتر ٹول، تیز تر جوابات اور مضبوط شراکت داریوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہیں ڈاکٹر ایشلے لیس چیزکی کا کردار سامنے آتا ہے۔ متعدی امراض کی معالج اور امریکی مرکز برائے انسدادِ امراض(سی ڈی سی ) میں میڈیکل افسر ڈاکٹر ایشلے ، نیپال میں دو ہفتے گزارنے کے بعد، امبیسی سائنس فیلوز پروگرام کے تحت ہندوستان میں موجود ہیں تاکہ یہ جائزہ لے سکیں کہ امریکہ خطے میں اے ایم آر کا اندازہ لگانے اور اس سے نمٹنے کی کوششوں میں کس طرح تعاون کر سکتا ہے۔ ان کا کام عالمی صحت، صحت کے تحفظ اور جدت کے سنگم پر واقع ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والے انفیکشن کی زیادہ مؤثر انداز میں شناخت ، نگرانی اور ان کے خلاف رد عمل کے لیے ایک اہم ٹول کے طور پر فروغ دے رہا ہے۔
ہندوستان میں ان کا کردار ان کمیوں اور مقامی ترجیحات کی نشاندہی ہے جہاں امریکہ کے ساتھ تعاون مثبت فرق پیدا کرسکتا ہے۔ گرچہ قومی ایکشن پلان پہلے ہی سے موجود ہیں مگر تیز تر تشخیص ، مضبوط نگرانی اور قابل توسیع تکنیکی حل کی ضرورت اب بھی فوری نوعیت کی ہے۔
ایک عالمی ترجیح
جراثیم کُش ادویات کے خلاف مزاحمتکی شدت نے اسے عالمی صحت عامّہ کے خطرات کے صفِ اوّل میں لا کھڑا کیا ہے۔برسوں تک ماہرین صحت ایچ آئی وی، ملیریا اور تپِ دق کو ہر سال بڑی تعداد میں جانیں لینے کی وجہ سے ’’بڑے تین‘‘ قرار دیتے رہے۔ اب اے ایم آر بھی اسی زمرے میں شامل ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر ایشلے وضاحت کرتی ہیں ’’گذشتہ چند برسوں میں جب ہم زیادہ مضبوط ڈیٹا یکجا کرنے کے قابل ہوئے تو ہمیں احساس ہوا کہ جراثیم کُش ادویات کے خلاف مزاحمت بھی اسی درجے کا خطرہ ہے جو ہر برس دس لاکھ سے زیادہ اموات کا سبب بنتی ہے۔ ‘‘
لیکن اے ایم آر صرف اس لیے خطرہ نہیں کہ یہ براہ راست اموات کا سبب بنتی ہے۔ یہ اس لیے بھی خطرناک ہے کہ یہ ان طبّی نظاموں کو کمزور کرتی ہے جن پر علاج کی بہت سی دوسری صورتیں انحصار کرتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں ’’ طب میں ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں، اس کا بڑا حصہ اس بات پر منحصر ہے کہ جراثیم کُش ادویات انفیکشن کا مؤثر علاج کرسکیں۔ اس میں معمول کا عمل جرّاحی ، کیمو تھیراپی اور ایچ آئی وی کا علاج شامل ہے۔ یہ سب مؤثر جراثیم کُش ادویات پر منحصر ہے۔ اگر یہ صلاحیت ختم ہو جائے تو صحت کی دیکھ بھال کا ایک بڑا حصہ ، جسے ہم دنیاوی سمجھتے ہیں ، شدید متاثر ہو جائے گا۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ اے ایم آر ہندوستان اور امریکہ دونوں کے لیے ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ یہ صحت کا چیلنج تو ہے ہی، لیکن ساتھ ہی ایک نظامی چیلنج بھی ہے جو تیاری، معاشی استحکام اور علاج پر عوامی اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔
تیز تر تشخیص کی پہل
اے ایم آر کے حوالے سے سب سے مشکل بات یہ ہے کہ یہ خود کو واضح انداز میں ظاہر نہیں کرتی۔ مزاحمت رکھنے والا انفیکشن ابتدا میں کسی بھی عام انفیکشن جیسا لگ سکتا ہے۔ فرق اکثر لیبارٹری جانچ کے بعد ہی واضح ہوتا ہے، اور اس عمل میں وقت لگتا ہے۔
یہ جاننے کے لیے کہ آیا کوئی مخصوص بیکٹیریا مزاحم ہے، تجربہ گاہوں کو عموماً ایسے جراثیم کو بڑھا کر مختلف جراثیم کُش ادویات کے خلاف چانچنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر ایشلے بتاتی ہیں ’’اس عمل میں عام طور پر کئی دن لگتے ہیں، اور اس دوران ممکن ہے کہ کوئی مریض مؤثر علاج سے محروم رہ جائے۔ اے ایم آر سے نمٹنے میں یہ اب بھی ایک بڑی کمی ہے: ایسی تیز رفتار تشخیص تک رسائی جو فوری طور پر یہ بتا سکے کہ آپ کس انفیکشن سے نمٹ رہے ہیں اور اُس پر کون سی ادویات مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔‘‘
تشخیص کا یہی خلا اُن وجوہات میں سے ایک ہے جن کی بنا پر امریکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی طریقوں میں بڑی سرمایہ کاری کررہا ہے۔ اے آئی سائنس دانوں اور معالجین کو تاخیر سے ہونے والی تصدیق سے ہٹا کر ابتدائی پیش گوئی کی جانب لے جا رہی ہے۔ ڈاکٹر ایشلے کہتی ہیں ’’ تشخیص کے شعبے میں اے آئی، خاص طور پر مشین لرننگ، انفرادی بیکٹیریائی خلیات کا مشاہدہ کرنے اور اینٹی بایوٹکس کے ابتدائی اثر کے فوراً بعد ان کے رویّے کو سمجھنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے تاکہ مزاحمت کی پیش گوئی کی جا سکے۔ یوں کئی دن انتظار کرنے کے بجائے شاید منٹوں یا گھنٹوں میں نتیجہ حاصل کیا جا سکے۔‘‘
وہ مصنوعی ذہانت کے ایک اور عملی استعمال کی جانب بھی اشارہ کرتی ہیں : معالجین کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد کرنا کہ جراثیم کُش ادویات کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’مثال کے طور پر، مصنوعی ذہانت جرثومہ کی ایسی خصوصیات کی شناخت میں مدد دے سکتی ہے جو مختلف اقسام کے جراثیم میں برقرار رہتی ہیں تاکہ ابتدا ءہی میں یہ سوال حل کیا جا سکے: کیا یہ وائرل انفیکشن ہے یا بیکٹیریائی، اور کیا مجھے اینٹی بایوٹک دینی چاہیے یا نہیں؟‘‘
ہندوستان جیسے ملک کے لیے، جہاں پیمانہ اور رفتار دونوں ہی اہم ہیں، ایسی پیش رفت نمایاں فرق پیدا کر سکتی ہے۔
صحتِ عامّہ پر اثرات
مصنوعی ذہانت کا کردار اے ایم آر سے نمٹنے میں صرف تشخیص تک محدود نہیں۔ ڈاکٹر ایشلے یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو انفیکشن کے رجحانات کی نگرانی ، مکمل جینوم سیکوینسنگ (جاندار کے مکمل جینیاتی خاکے کی جانچ) کے ڈیٹا کے تجزیے، اور یہاں تک کہ نئی اینٹی بایوٹکس کی تلاش کو تیز کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
وہ کہتی ہیں، ’’کئی کمپنیاں نئی اینٹی بایوٹکس کی تیاری کے لیے اے آئی پر مبنی پلیٹ فارموں کا استعمال کر رہی ہیں۔ ان میں سے بعض چند گھنٹوں میں لاکھوں مرکبات کی جانچ کر کے ممکنہ علاج کی شناخت کر سکتی ہیں۔‘‘
ایک اور امید افزا پیش رفت علاج کے فیصلوں کو ہر مریض کے مطابق زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’کچھ محققین بڑے لینگویج ماڈلز (اے آئی پر مبنی زبان سمجھنے والے نظام) استعمال کر کے ذاتی نوعیت کے اینٹی بایوگرام (اینٹی بایوگرام ایک ایسی رپورٹ ہوتی ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ کون سی اینٹی بایوٹکس کسی انفیکشن پر مؤثر ہو سکتی ہیں) تیار کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ مختلف اقسام کے مزاحمت رکھنے والے انفیکشنس کے ممکنہ خطرات کی درجہ بندی کر سکتے ہیں، تاکہ حتمی تشخیص سے پہلے ہی اینٹی بایوٹکس زیادہ درست انداز میں تجویز کی جا سکیں۔‘‘
اس کے باوجود، اس کام کا بڑا حصہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’ہم جانتے ہیں کہ اکثر کسی ٹیکنالوجی کی تیاری اور اس دیہی گاؤں تک اس کی رسائی کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے جہاں اس کی واقعی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘
یہی حقیقت پسندی ہی اُن کے پیغام کو مؤثر بناتی ہے۔ اس تناظر میں امریکی قیادت صرف طاقتور ٹولس کی ایجاد کرنے تک محدود نہیں۔ یہ قابلِ اعتماد شراکت داریاں قائم کرنے، نظاموں کی معاونت کرنے، اور امید افزا ٹیکنالوجی کو وسیع تر عوامی فائدے تک پہنچانے میں مدد دینے سے بھی متعلق ہے۔ اس میں کارب-ایکس جیسی پبلک-پرائیویٹ کوششیں بھی شامل ہیں، جنہیں وہ اس بات کی مثال قرار دیتی ہیں کہ امریکہ نے نئی تشخیصی اور علاجی ٹیکنالوجیوں کی ابتدائی ترقی میں کس طرح مدد فراہم کی، جن میں اے آئی کی نئی ایپلیکیشنز بھی شامل تھیں، جبکہ ہندوستانی شراکت داروں کو بھی اس تعاون سے فائدہ پہنچا۔
ہندوستان کا کردار
ڈاکٹر ا یشلے کی موجودہ فیلو شپ 80سے زیادہ ذرائع سے معلومات جمع کرنے پر مرکوز ہے، جن میں نیپال اور ہندوستان میں اسٹیک ہولڈرز کے انٹرویوز بھی شامل ہیں، تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ امریکہ موجودہ قومی اہداف کی حمایت کس طرح کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ مسئلے کے حوالے سے سائنسی صلاحیت اور عملی تجربہ دونوں فراہم کرتا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’میرا خیال ہے کہ ہندوستان ٹیکنالوجی اور مائیکروبایولوجی دونوں شعبوں میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے بہت موزوں ہے، کیونکہ جن پیتھوجنز (بیماری پھیلانے والے جراثیم) کے بارے میں ہمیں سب سے زیادہ تشویش ہے، ان میں سے کئی اسی خطے سے سامنے آتے ہیں۔‘‘
یہ امتزاج امریکہ۔ہند تعاون کو ایک خاص برتری دیتا ہے۔ اے آئی ٹولز، ڈیٹا اینالیٹکس، اور جدت کو تصور سے عملی نفاذ تک لے جانے میں امریکی قیادت، ہندوستانی مہارت، ڈیٹا نظاموں اور اختراعی صلاحیت کے ساتھ مل کر کام کر سکتی ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’امریکہ اور ہندوستان کے درمیان تعاون ان ٹولز کو اس انداز میں بہتر بنا سکتا ہے کہ ان سے سب سے زیادہ قابلِ استعمال اور مؤثر نتائج حاصل ہوں۔ ہندوستانی تناظر میں بہت سی باریکیاں موجود ہیں جنہیں استعمال کر کے ان ماڈلز کو مقامی ضرورتوں کے مطابق ڈھالا اور بہتر بنایا جا سکتا ہے۔‘‘
وہ نگرانی سے متعلق ڈیٹا میں ہندوستان کے بڑھتے ہوئے کردار کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’ہندوستان اپنے اے ایم آر نگرانی نظام جیسے پلیٹ فارم کے ذریعے ڈیٹا فراہم کر رہا ہے، جس میں سی ڈی سی تکنیکی شراکت دار کے طور پر معاونت فراہم کرتا ہے۔یہ اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کرتا ہے کہ ہمیں مضبوط اعداد و شمار حاصل ہو رہے ہیں تاکہ مؤثر حل تیار کیے جا سکیں۔‘‘
ہندوستان کے لیے قابلِ اعتماد اور اعلیٰ معیار کے امریکی اے آئی فریم ورکس کی اہمیت اس بات میں ہے کہ وہ مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اندرونِ ملک صلاحیتوں کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ امریکہ کے لیے یہ کام ایک اور اہم مقصد کی عکاسی کرتا ہے: صحت کے مشترکہ خطرات کا ابتدائی مرحلے میں مقابلہ کرنا، جدت میں سرمایہ کاری کرنا، اور ایسی مضبوط شراکت داریاں قائم کرنا جو بدلتی ہوئی مائیکروبیل دنیا کے ساتھ رفتار برقرار رکھ سکیں، تاکہ امریکہ کو مزید صحت مند بنایا جا سکے۔
بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
پپو یادو نے کہا کہ سیلاب جیسی سنگین صورتحال میں انتظامیہ کی ذمہ داری ہے…
اکھلیش نے کہا کہ فارم-7 کے ذریعے گاؤں گاؤں اپوزیشن ووٹروں کے نام حذف کرانے…
وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر جاری بھارتیہ جنتا پارٹی کے ’سیوا…
زیرِ تعمیر سڑک کے معائنے کے دوران وزیر پرویش ورما اور آپ رکنِ اسمبلی جرنیل…
نیپال میں 24 ستمبر سے ملک کے کئی حصوں میں مسلسل بارش ہو رہی ہے،…
شدید بارش سے کئی اضلاع میں معمولاتِ زندگی درہم برہم، درخت اور مکانات گرنے سے…