نئی دہلی : امریکی سینیٹ نے بھارت سمیت پانچ ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی راہ ہموار کرنے والا ایک اہم بل بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ہے۔ سینیٹ میں بل کے حق میں 86 ووٹ پڑے، جبکہ 11 سینیٹرز نے اس کی مخالفت کی۔ اس بل کا بنیادی مقصد روس کی تیل اور گیس سے ہونے والی آمدنی کو کم کرنا ہے، تاکہ یوکرین کے ساتھ جاری جنگ میں روس کی مالی صلاحیت کو محدود کیا جا سکے۔مجوزہ قانون کے تحت بھارت، چین، سلوواکیہ، ہنگری اور آذربائیجان سمیت ان ممالک پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے جو روس سے تیل یا دیگر توانائی کی مصنوعات خریدتے ہیں۔ اس بل کو ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کے ارکان کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔
پہلے 500 فیصد ٹیرف کی تجویز تھی
روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر بھاری درآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز 23 جولائی کو سامنے آئی تھی۔ بل کے ابتدائی مسودے میں 500 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی تجویز رکھی گئی تھی، تاہم بعد میں اسے کم کرکے زیادہ سے زیادہ 100 فیصد کر دیا گیا۔اگرچہ امریکی سینیٹ سے منظوری کے بعد بھی یہ بل ابھی قانون نہیں بنا ہے۔ اب اسے امریکی کانگریس کے ایوانِ زیریں یعنی ایوانِ نمائندگان میں بھیجا جائے گا۔ اگر ایوانِ نمائندگان نے بھی اسے منظور کر لیا تو بل حتمی منظوری کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس جائے گا۔ صدر کے دستخط کے بعد ہی یہ قانون نافذ ہو سکے گا۔
بھارت پر پڑ سکتا ہے بڑا اثر
اس مجوزہ قانون کا سب سے زیادہ اثر ان ممالک پر پڑنے کا خدشہ ہے جو روس سے بڑی مقدار میں توانائی درآمد کرتے ہیں۔ ان میں بھارت اور چین کے علاوہ جاپان اور یورپ کے بعض ممالک بھی شامل ہیں۔ قانون نافذ ہونے کی صورت میں امریکی صدر ان ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کر سکیں گے۔اس بل کے اہم حامیوں میں ریپبلکن پارٹی کے معروف سینیٹر اور یوکرین کے مضبوط حامی مرحوم لنڈسے گراہم بھی شامل تھے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس بل کو ستمبر میں ایوانِ نمائندگان میں پیش کیا جائے گا۔
روس پر معاشی دباؤ بڑھانے کی کوشش
اس پابندی کا بنیادی مقصد روس پر معاشی دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ یوکرین کے ساتھ جاری جنگ ختم کرنے اور مذاکرات کی طرف بڑھنے پر مجبور ہو۔ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کو تقریباً ساڑھے چار سال ہو چکے ہیں اور امریکہ روس کی توانائی آمدنی کو محدود کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔سینیٹ میں روس پر پابندیوں کی حمایت میں 86 ووٹ پڑے، جبکہ 11 ارکان نے مخالفت کی۔ اگر یہ قانون مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات روس کے ساتھ ساتھ بھارت اور چین پر بھی نمایاں ہو سکتے ہیں۔
روس سے بھارت کی تیل درآمدات
یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد بھارت نے روس سے خام تیل کی درآمد میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ بھارت روزانہ 20 لاکھ بیرل سے زیادہ روسی تیل درآمد کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد بھارت کی جانب سے روس سے گیس درآمد کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ایسے میں اگر امریکہ کی جانب سے روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کا قانون نافذ ہوتا ہے تو بھارت کے لیے روس سے توانائی درآمد کرنے کے معاملے میں نئی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں اور اس کا اثر دونوں ممالک کے درمیان توانائی تجارت کے ساتھ ساتھ بھارتی معیشت اور عالمی تیل مارکیٹ پر بھی پڑ سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
اس پہل کا آغاز اس مقصد سے کیا گیا کہ پی او پی سے بنی…
وائرل ویڈیو میں خاتون سیٹی گنڈکی ندی پر بنے ایک پل پر کھڑی نظر آ…
گنیش مورتیوں کے وسرجن پر سختی کی ایک بڑی وجہ ان کی تیاری اور سجاوٹ…
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شہری نے بتایا…
رپورٹس کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران قطر کے رابطے میں ہے اور…
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اندرونی تنازع پر جیتن رام مانجھی نے کہا کہ…