نئی دہلی: امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی کے خلاف امریکہ میں جاری قانونی کارروائی جلد اپنے اختتام تک پہنچ سکتی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ امریکی حکام اس معاملے کو حل کرنے اور مقدمے کو واپس لینے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں گزشتہ ایک برس سے جاری قانونی تنازعہ ختم ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی حکام اس معاملے پر مختلف قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں اور اسی ہفتے اس حوالے سے باضابطہ اعلان سامنے آ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی محکمہ انصاف گوتم اڈانی کے خلاف عائد الزامات واپس لینے سے متعلق عمل مکمل کرنے کے قریب ہے، جبکہ امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن بھی اس معاملے کو نمٹانے کے لیے مختلف امکانات پر غور کر رہا ہے۔
بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی حکام اس قانونی تنازعہ کو ختم کرنے کی جانب تیزی سے پیش رفت کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ نومبر 2024 میں سامنے آیا تھا اور اس کے بعد سے مسلسل قانونی کارروائی جاری رہی۔ تاہم اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ متعلقہ ادارے اس کیس کے اختتام کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب اڈانی گروپ ابتدا سے ہی اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔ کمپنی کا مؤقف رہا ہے کہ اس معاملے میں عائد کیے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان میں حقائق کی درست عکاسی نہیں کی گئی۔ گروپ کی جانب سے مسلسل یہ موقف اختیار کیا گیا کہ اس نے تمام کاروباری سرگرمیاں قوانین اور ضابطوں کے مطابق انجام دی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانونی معاملہ ختم ہو جاتا ہے تو اس سے اڈانی گروپ کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاری کے دروازے دوبارہ کھل سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں کمپنی کو اپنے جاری منصوبوں کو وسعت دینے اور نئی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی جانب سے اس معاملے کے تصفیے میں جرمانے کی شق بھی شامل کی جا سکتی ہے، تاہم اس بارے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ امریکی استغاثہ کی جانب سے گوتم اڈانی اور ان کے بعض ساتھیوں پر بھارت میں شمسی توانائی کے معاہدوں کے حصول کے لیے تقریباً 250 ملین ڈالر کی مبینہ رشوت سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ امریکی سرمایہ کاروں سے بعض معلومات پوشیدہ رکھی گئی تھیں۔ تاہم اس معاملے پر نہ تو امریکی اٹارنی دفتر نے باضابطہ تبصرہ کیا ہے اور نہ ہی اڈانی گروپ یا متعلقہ امریکی اداروں کی جانب سے کوئی سرکاری بیان جاری کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم کی 25 سالہ عوامی خدمت کا ذکر اس…
یونیورسٹی آف ممبئی کے شعبۂ قانون اور چیف جسٹس ایم سی چھاگلا میموریل ٹرسٹ کے…
پروفیسر شاہد صدیقی نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو اردو سے جوڑنے کے لیے…
مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…
ڈاکٹر شمس اقبال نے اردو صحافیوں سے زبان کے معیار پر بھی خصوصی توجہ دینے…
بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو میں اردو، صحافت اور نئی ٹیکنالوجی پر گفتگو،…