نئی دہلی: دہلی میں موسم کے ہر لمحہ رنگ بدلتے مزاج کے باوجود اردو اکادمی، دہلی کے شاندار سہ روزہ ادبی و ثقافتی پروگرام کے تیسرے اور آخری دن شائقین کی ریکارڈ تعداد میں شرکت نے اس پروگرام کی کامیابی میں چار چاند لگا دیے۔ مشاعروں، غزل گائیکی اور قوالی پر مشتمل اس پروگرام کے تینوں دن اہلِ دہلی کی بڑی تعداد میں شرکت اردو اکادمی، دہلی کی سرگرمیوں میں عوام کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور اکادمی کے ذمہ داران کی انتھک محنت کی گواہ ہے۔
’’سُرسنگم‘‘ کے تیسرے اور آخری دن کا آغاز ایک شاندار مشاعرے سے ہوا، جس میں ملک کے ممتاز اور سینئر شعرا کے ساتھ ساتھ ابھرتے ہوئے اور نوجوان شعرا نے بھی شرکت کی۔ اس مشاعرے کی نظامت معروف شاعر اور ناظمِ مشاعرہ جناب شکیل جمالی نے کی۔ انھوں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے اردو اکادمی کی خدمات اور اس کی متنوع سرگرمیوں کا کھلے دل سے اعتراف کیا۔ انھوں نے کہا کہ اردو اکادمی، دہلی اپنی فعالیت کی وجہ سے ملک بھر میں ایک امتیازی شناخت کی حامل ہے۔ اردو اکادمی کے عہدیداران زبان و ادب اور تہذیب و ثقافت کے فروغ کے لیے خلوصِ دل سے کوشاں ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ اکادمی کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اردو اکادمی سینئر شعرا اور فنکاروں کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے شعرا اور فنکاروں کو بھی لگاتار اسٹیج فراہم کر کے ان کی تربیت میں نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ مشاعرے میں شکیل جمالی، راشدہ باقی حیا، اقبال فردوسی، امیرامروہوی اور قاصر سہسوانی جیسے سینئر شعرا کے ساتھ ساتھ سلیم کاشف، فروغ احسن، شاکر دہلوی، خوشبو سکسینہ اور حبیب الرحمٰن جیسے نئی نسل کے نمائندہ شعرا نے بھی اپنے کلام سے سامعین سے بھرپور داد حاصل کی۔ مشاعرے میں پیش کیے گئے اشعار میں سے چند منتخب اشعار ملاحظہ کیجیے:
لوگ کہتے ہیں کہ اس کھیل میں سر جاتے ہیں
عشق میں اتنا خسارہ ہے تو گھر جاتے ہیں
شکیل جمالی
یہ جہاں گر کبھی انعامِ وفا دے مجھ کو
یہ بھی ممکن ہے کہ سولی پہ چڑھا دے مجھ کو
راشدہ باقی حیا
جب مجھے دردِ کمر یاد آیا
ان کی مالش کا ہنر یاد آیا
اقبال فردوسی
سو گیا حسن کی آغوش میں سر رکھ کے کوئی
اور کوئی خاک اڑاتا پھرا صحرا صحرا
امیرامروہوی
میں نے یہ سوچ کے لہجہ نہیں بدلا اپنا
زندہ رہنا تھا مجھے اپنے ہی کردار کے ساتھ
سلیم کاشف
سانس لے لو بیٹھ جاؤ سوچ معیاری رکھو
وقت کروٹ لے رہا ہے اپنی تیاری رکھو
فروغ احسن
تم سے ٹکرائے تو ہوا معلوم
حادثے خوش نما بھی ہوتے ہیں
شاکر دہلوی
دروازے بن جاتے ہیں دیواروں میں
دروازہ دیوار اگر ہو جائے تو
خوشبو سکسینہ
اب میری باری آئے گی میں صبر والا ہوں
تیری طرف سے وار تو بھرپور ہوگیا
قاصر سہسوانی
دل یہ کہتا ہے کہ اک روز پلٹ آئیں گے
اپنی یادوں کے چراغوں کو جلائے ہوئے لوگ
حبیب الرحمٰن
مشاعرے کے اختتام پر محکمۂ فن، ثقافت اور السنہ، حکومتِ دہلی کے ایڈیشنل سکریٹری اور اردو اکادمی، دہلی کے سکریٹری لیکھ راج نے تمام شعرا کا استقبال کرتے ہوئے انھیں پودے پیش کیے۔ اس کے بعد دوسرا پروگرام ’’غزلوں کی سرگوشی‘‘ منعقد ہوا، جس میں عامر خان نے اپنی شاندار پیش کش سے سامعین کے دل جیت لیے۔ پروگرام کے درمیان چند لمحوں کے لیے ہونے والی بارش بھی سامعین کو اپنی جگہ چھوڑنے پر مجبور نہ کرسکی، بلکہ ان کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔ آخر میں درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء کے درباری قوال حیدر نظامی، حسن نظامی اور عمران نظامی کی قیادت میں نیازی نظامی برادرس کی ٹیم نے اپنی شاندار قوالیوں سے پوری محفل میں سماں باندھ دیا۔ ان کی صوفیانہ قوالیوں نے سامعین کو روحانی تسکین سے ہمکنار کیا۔
پروگرام کے اختتام پر اردو اکادمی، دہلی کے سکریٹری لیکھ راج نے مہمان فنکاروں کا استقبال کرتے ہوئے سامعین کا بھی شکریہ ادا کیا۔ ’’سُر سنگم‘‘ کے تیسرے دن کے تمام پروگراموں کی نظامت کے فرائض اطہر سعید نے انجام دیے۔ انھوں نے بارش کی ہلکی ہلکی بوندوں کے باوجود سامعین کو منتشر نہیں ہونے دیا اور پروگرام کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس موقع پر اردو اکادمی، دہلی نے حکومتِ دہلی اور محکمۂ فن، ثقافت و السنہ کے وزیرِ محترم جناب کپل مشرا کے تعاون اور سرپرستی کے لیے خصوصی طور پر اظہارِ تشکر بھی کیا، جن کی حمایت اور رہنمائی سے ایسے ادبی و ثقافتی پروگراموں کا انعقاد ممکن ہو سکا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام میں سیاسی، سماجی اور فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والی…
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…