قومی

Uproar in Lok Sabha over LPG Crisis: ایل پی جی بحران اور آٹھ ارکانِ پارلیمنٹ کی معطلی پر لوک سبھا میں ہنگامہ

نئی دہلی:لوک سبھا میں جمعہ کے روز ایل پی جی بحران اور آٹھ ارکانِ پارلیمنٹ کی معطلی کے معاملے پر شدید ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ اپوزیشن اراکین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے دونوں معاملات پر فوری بحث کی مطالبہ کیا۔ اسپیکر اوم برلا کی بار بار اپیل کے باوجود جب ہنگامہ ختم نہ ہوا تو انہوں نے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔

صبح تقریباً 11 بجے جیسے ہی لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوئی تو کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں کے کئی ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر ایوان کے وسط میں اسپیکر کی نشست کے قریب پہنچ گئے۔ انہوں نے ایل پی جی کی قلت اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال پر فوری بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی آٹھ ارکانِ پارلیمنٹ کی معطلی واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے زبردست ہنگامہ کیا۔

اسپیکر اوم برلا نے اپوزیشن اراکین کو بار بار پرسکون ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سوالیہ وقفہ ایوان کا سب سے اہم حصہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران ارکان اپنے علاقوں کے مسائل اور قومی معاملات کو اٹھاتے ہیں، جس سے حکومت کی جواب دہی بھی طے ہوتی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن سے گزارش کی کہ سوالیہ وقفہ کو چلنے دیا جائے تاکہ تمام اراکین کو اپنے سوالات اٹھانے کا موقع مل سکے۔

اسپیکر نے اپوزیشن کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے ارکان اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں اپنی بات رکھنے کا موقع نہیں دیا جاتا، لیکن جب انہیں بولنے کا موقع دیا جاتا ہے تو وہ اس کا استعمال کرنے کے بجائے ایوان میں تعطل پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ عمل پارلیمانی روایات کے مطابق نہیں ہے اور اس سے ایوان کی وقار متاثر ہوتا ہے۔

اوم برلا نے اپوزیشن کو یقین دلایا کہ سوالیہ وقفہ ختم ہونے کے بعد وہ اپنے تمام مسائل ایوان میں اٹھا سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اپوزیشن اراکین کا ہنگامہ جاری رہا۔ اس دوران اپوزیشن نے نعرے بازی بھی کی جس سے ایوان کی کارروائی متاثر ہوئی۔

آٹھ ارکانِ پارلیمنٹ کی معطلی کے معاملے پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ اگر کوئی رکن ایوان کے اندر میزوں پر چڑھے گا یا نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کے خلاف اسی طرح کی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی حرمت اور وقار کو برقرار رکھنا تمام ارکان کی مشترکہ ذمہ داری ہے، چاہے وہ ایوان کے اندر ہوں یا باہر۔

اسپیکر نے مزید کہا کہ اپوزیشن مسلسل سوالیہ وقفہ کو چلنے نہیں دینا چاہتی اور ایوان میں تعطل پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہنگامہ تھمنے کے آثار نہ دیکھتے ہوئے انہوں نے آخرکار لوک سبھا کی کارروائی کو دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

8 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

9 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

10 hours ago