مرکزی وزیر چراغ پاسوان۔
نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز چراغ پاسوان کو جان سے مارنے کی دھمکی ملنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیر کے ایڈیشنل پرائیویٹ سکریٹری آلوک کمار سنگھ نے مرکزی وزارت داخلہ کے سکریٹری کو خط لکھ کر فوری تحقیقات اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
یکم ستمبر کو وزارت داخلہ کو بھیجے گئے خط میں ایڈیشنل پرائیویٹ سکریٹری نے بتایا کہ وزارت کو ایک خط موصول ہوا، جس میں 2 موبائل نمبر درج تھے۔ خط کھولنے پر اس میں مرکزی وزیر کو براہ راست جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ دھمکی آمیز پیغام میں لکھا تھا، ’’آپ کو جلد ہی خطرناک دہشت گردوں کے ہاتھوں مار دیا جائے گا۔‘‘
خط میں کہا گیا ہے کہ دھمکی کی نوعیت سنگین ہے اور اس میں ’’ہارڈکور دہشت گردوں‘‘ کا ذکر ہونے کی وجہ سے وزیر کی سکیورٹی کو لے کر شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ وزارت نے اس پورے معاملے کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے اصل خط بھی وزارت داخلہ کو فراہم کر دیا ہے۔
آلوک کمار سنگھ نے وزارت داخلہ کے سکریٹری کو بھیجے گئے خط میں کہا ہے کہ مرکزی وزیر کو فی الحال وزارت داخلہ کی جانب سے زیڈ زمرے کی سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ اس کے باوجود موصول ہونے والی دھمکی کے پیش نظر معاملے کی فوری تحقیقات کرائی جانی چاہیے۔ خط میں دھمکی کے ماخذ، اس کی حقیقت اور اس سے جڑے حالات کی تفصیلی تحقیقات شروع کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ہی وزیر کے طے شدہ عوامی پروگراموں اور موجودہ خطرے کے خدشے کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی سکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لینے اور ضرورت کے مطابق اسے مزید مضبوط بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ دھمکی آمیز خط ڈاک کے ذریعے بھیجا گیا ہے اور خط بھیجنے والے سے وابستہ کسی شخص یا تنظیم کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ خط میں وزارت داخلہ سے معاملے کو اعلیٰ ترین ترجیح دینے اور جلد کارروائی یقینی بنانے کی اپیل کی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بائیں جانب کھنچاؤ کی وجہ سے پنت نہیں کھیل سکیں گے ابتدائی مقابلے، بی سی…
پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے 121ویں سالانہ اجلاس میں نئی قیادت…
علاقائی سلامتی، دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور سرحد پار جرائم سے نمٹنے کے لیے…
کھلاڑیوں کو اعزاز سے نوازنے کے بعد جنرل دھیرج سیٹھ نے کہا، ’’آج کا دن…
مرکزی وزیر مملکت کا الزام، بار بار مارچ اور ریلیوں سے عام لوگوں کو مشکلات…
سپریم کورٹ نے 2018 میں احتجاج پر مکمل پابندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے محدود…