نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن کی جانب سے لوک سبھا میں پیش کیے گئے مرکزی بجٹ 2026-27 کی تعریف کرتے ہوئے اسے بھارت کی “اقتصادی تبدیلی” کا مکمل نقشہ قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ بجٹ اصلاحات، چھوٹے و درمیانے صنعتوں، ہنر کی ترقی، جدید انفراسٹرکچر، صحت اور تعلیم پر خصوصی توجہ دیتا ہے اور ملک کو نئی ترقی کی راہ پر لے جائے گا۔ وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر بیان دیا، “مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے تفصیل سے بتایا کہ یہ بجٹ ہمارے قومی اقتصادی تبدیلی میں کس طرح اہم کردار ادا کرے گا۔ اس میں رفاعتِ اصلاحات، چھوٹے و درمیانے کاروبار کی حمایت، ہنر کی ترقی، اگلی نسل کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، صحت اور تعلیم میں بہتری کے اقدامات شامل ہیں”۔
یکم فروری کو پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اس بجٹ میں خاص توجہ مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے صنعتوں (ایم ایس ایم ای) پر دی گئی ہے، جو ملک کی مجموعی پیداوار میں تقریباً 30 فیصد حصہ ڈالتی ہیں اور 11 کروڑ سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم کرتی ہیں۔ ممرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے ایم ایس ایم ای کے لیے قرض کی دستیابی بڑھانے، قواعد کو آسان بنانے اور مخصوص ترغیبات دینے کا اعلان کیا، تاکہ چھوٹے صنعتکار عالمی سپلائی چین سے جڑ کر ترقی کر سکیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایم ایس ایم ای ملک کی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور یہ بجٹ انہیں جدت اور روزگار پیدا کرنے کے لیے ضروری تعاون فراہم کرے گا۔
ہنر کی ترقی اور روزگار پیدا کرنا بھی بجٹ کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ حکومت نے گرین انرجی، ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی جیسے ابھرتے شعبوں کے لیے نوجوانوں کو تربیت دینے کے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان شراکت داری کو بھی فروغ دیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو بہتر روزگار کے مواقع میسر آئیں۔ انفراسٹرکچر کے شعبے میں بھی حکومت نے اگلی نسل کے منصوبوں پر زور دیا ہے۔ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی، قابل تجدید توانائی کے کوریڈور، لاجسٹکس نیٹ ورک اور شہری ترقی میں سرمایہ کاری بڑھانے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔
مزید برآں، صحت اور تعلیم کو بھی بجٹ میں اولین ترجیح دی گئی ہے۔ ان شعبوں میں سرمایہ کاری اور اصلاحات کے ذریعے دور دراز اور پسماندہ علاقوں تک بہتر سہولیات پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق، یہ بجٹ ایسے وقت میں آیا ہے جب عالمی غیر یقینی صورتحال اور بدلتی سپلائی چین کے درمیان بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی بڑی معیشتوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حکومت نے ترقی پسند اخراجات کے ساتھ مالی نظم و ضبط پر بھی زور دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…