قومی

Union Budget 2026 Expectations: کیا اس بار تعلیم اور ملازمت کے میدان میں کھلے گی نوجوانوں کی قسمت؟ جانیے کیا ہیں بڑی امیدیں

یکم فروری، صبح 11 بجے، یہ وہ لمحہ ہوگا جب پورے ملک کی نظریں ٹی وی اسکرین پر ٹکی ہوں گی۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن پارلیمنٹ میں مالی سال 2026-27 کا مرکزی بجٹ پیش کرنے جا رہی ہیں۔ اگرچہ ہر بجٹ اہم ہوتا ہے، لیکن اس بار فضا کچھ مختلف ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ حکومت اس بار ’کل کے مستقبل‘ یعنی تعلیم اور روزگار پر بھرپور سرمایہ کاری کرنے کی تیاری میں ہے۔ مڈل کلاس خاندانوں اور طلبہ میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ کیا اس سال کتابوں سے لے کر ملازمتوں تک کا سفر تھوڑا آسان ہوگا؟ آئیے سمجھتے ہیں کہ اس بجٹ کے کھاتے سے تعلیم اور روزگار کے لیے کیا کچھ نکل سکتا ہے۔

ڈیجیٹل تعلیم پر زور

کورونا کے بعد ہم نے دیکھا کہ تعلیم کا طریقہ بدل گیا ہے۔ لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ اب ضرورت بن چکے ہیں، لیکن کڑوی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ہمارے دیہاتوں اور دور دراز علاقوں میں بچے ایک سگنل یا اسمارٹ فون کے لیے ترس رہے ہیں۔ اس بار امید ہے کہ حکومت ’ڈیجیٹل گیپ‘ کو پر کرنے کے لیے بڑا فنڈ دے گی۔ صرف آن لائن کلاس کافی نہیں، بجٹ میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور سستے ڈیجیٹل گیجٹس کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ ایک دیہات کا بچہ بھی اسی ٹیکنالوجی سے پڑھ سکے جس سے بڑے شہروں کے بچے پڑھتے ہیں۔

کالجز میں صرف نشستیں نہیں، ’اسمارٹ وژن‘ چاہیے

اکثر بجٹ میں اعلان ہو جاتا ہے کہ کتنے نئے کالجز کھلیں گے، لیکن پرانی عمارتوں اور پرانی لیبارٹریوں کا کیا؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف نشستیں بڑھانا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ہمیں جدید ریسرچ لیبز، اسمارٹ کلاس رومز اور ایسی ڈیجیٹل لائبریریز چاہیے جو دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں سے مقابلہ کر سکیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ موجودہ اداروں کی تجدید کے لیے حکومت اس بار کوئی خاص فنڈ مختص کرے گی۔

ڈگری کے ساتھ ’اسکل‘ کا اضافہ

آج سب سے بڑی فکر یہ ہے کہ ڈگری تو ہے، لیکن ہاتھ میں ہنر نہیں۔ نوجوانوں کو کمپنیوں کی ضروریات کے مطابق تیار کرنے کے لیے ملک بھر میں ’میگا اسکل حب‘ بنانے کی بات ہو رہی ہے۔ اسکولوں میں کوڈنگ کی شروعات سے لے کر ITI اداروں کو جدید بنانے تک، اس بجٹ سے کافی توقعات وابستہ ہیں۔ اگر حکومت کمپنیوں کے CSR فنڈ کو براہِ راست انٹرنشپ اور ٹریننگ سے جوڑنے کا راستہ آسان کر دے، تو کروڑوں نوجوانوں کے لیے ملازمت کے دروازے کھل سکتے ہیں۔

IIT اور IIM میں مقابلے کے مواقع بڑھیں گے؟

ملک کے معتبر اداروں جیسے IIT اور IIM میں داخلہ آج بھی ایک خواب کی مانند ہے، کیونکہ نشستیں بہت کم ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ سائنس اور ریسرچ اسٹریم میں نشستوں کی تعداد بڑھائی جائے۔ اگر حکومت اس مطالبے پر توجہ دیتی ہے، تو نہ صرف ملک کا ٹیلنٹ بیرون ملک جانے سے رکے گا، بلکہ بھارت ایک ’نالج ہب‘ کے طور پر ابھرے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

PM Modi On Digital India: ریڑھی والے سے لے کر کار شوروم تک، سب کے لیے ایک جیسا پیمنٹ سسٹم! پی ایم مودی نے دنیا کو دکھائی ہندوستان کی ڈیجیٹل طاقت

بلومبرگ نیو اکانومی فورم میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کے ڈیجیٹل ادائیگی نظام،…

15 minutes ago

INDIA Bloc: سڑک سے سپریم کورٹ تک لڑائی، نومبر میں اپوزیشن کی بڑی ریلی کی تیاری! دہلی سے بنگال تک تحریک پھیلانے کی حکمت عملی

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ’انڈیا‘ بلاک اپنے احتجاج کو وسیع تحریک میں…

44 minutes ago

Finance Minister Nirmala Sitharaman: ایل ٹی سی جی ٹیکس پر نرملا سیتارمن نے کیا کہا؟ کیا حکومت چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے ایل ٹی سی جی ٹیکس کو کرے گی ختم ؟

وزیر خزانہ نے ابھرتے ہوئے شعبوں، خصوصاً قابل تجدید توانائی اور سیمی کنڈکٹر کی تیاری…

2 hours ago

Eat Biryani Only from Hindu Shop: بریانی ہندوؤں کی دکانوں سے ہی کھائیں، درگا پوجا سے پہلے مغربی بنگال میں پوسٹر تنازع

’ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق، ترنمول کانگریس کے ترجمان اور بیلی گھاٹا کے…

2 hours ago