قومی

Trump Postpones Meeting with Xi Jinping: ایران جنگ کے ساتھ جاری تنازع کے درمیان، ٹرمپ نے چین کا دورہ کردیا ملتوی

نئی دہلی: امریکہ کے صدر Donald Trump نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان اپنا بیجنگ کا طے شدہ دورہ مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر ان کا واشنگٹن میں موجود رہنا زیادہ ضروری ہے، جبکہ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران سے متعلق جنگ زیادہ طویل نہیں چلے گی۔

اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ جنگ اسی ہفتے ختم ہو جائے گی، تاہم ان کے مطابق یہ تنازع زیادہ دیر جاری نہیں رہے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا پہلے سے زیادہ محفوظ ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے چین سے اپنی طے شدہ سرکاری دورے کی تاریخ کو تقریباً ایک ماہ کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے۔ یہ دورہ 28 مارچ سے یکم اپریل کے درمیان ہونا تھا، تاہم اب نئی تاریخوں کا اعلان نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ چین کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں اور دورے کے خواہاں بھی ہیں، مگر موجودہ صورتحال میں امریکہ میں قیام ضروری ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ دورہ ملتوی کرنے کے پیچھے کوئی خاص حکمت عملی نہیں بلکہ سادہ وجہ یہی ہے کہ جنگ جاری ہے اور ایسے وقت میں صدر کا ملک میں رہنا اہم ہوتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ گفتگو اس موقع پر کی جب انہوں نے اوول آفس میں گھریلو دھوکہ دہی سے متعلق ایک اہم یادداشت پر دستخط کیے۔ اس کے بعد صحافیوں کے ساتھ ہونے والی طویل گفتگو میں زیادہ تر سوالات ایران اور جاری فوجی کارروائی سے متعلق تھے۔

انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم ناگزیر تھا، حالانکہ وہ خود جنگ سے گریز چاہتے تھے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں کیا گیا۔صدر نے کہا کہ اگر یہ کارروائی نہ کی جاتی تو اس کے نتائج کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے ذریعے ممکنہ بڑے حملے کو روکا گیا۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اس تنازع کے نتیجے میں ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی بحریہ، فضائیہ اور دفاعی نظام کمزور ہو چکے ہیں جبکہ قیادت بھی دباؤ کا شکار ہے۔معاشی اثرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ اس صورتحال کا اثر شیئر بازار پر زیادہ پڑے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ان کے مطابق اگر وقتی طور پر کچھ نقصان بھی ہوتا ہے تو یہ عالمی سلامتی کے مقابلے میں ایک چھوٹی قیمت ہے۔جب ان سے مستقبل کی فوجی حکمت عملی یا زمینی افواج بھیجنے کے امکان کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

بھارت ایکسپرس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

نیشنل کانفرنس میں زبردست اختلاف! 18 اراکین اسمبلی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو لکھا خط، کابینہ میں تبدیلی سمیت کیا یہ بڑا مطالبہ

یادداشت پر دستخط کرنے والے اراکین اسمبلی نے عوامی توقعات اور حکومت کے درمیان بڑھتی…

30 minutes ago

India vs new Zealand: ایڈن پارک میں نیوزی لینڈ کا ریکارڈ بھارت کے لیے تشویش کا باعث، 11 میچوں میں صرف 4 فتوحات

بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ون ڈے 4 نومبر کو آکلینڈ کے ایڈن…

50 minutes ago

دہلی-این سی آر میں گرین پٹاخے جلانے کی اجازت، سپریم کورٹ نے دیوالی پر دو دن کی چھوٹ دی

جسٹس ایم ایم سندریش اورجسٹس پرسنّا بی ورالے کی بنچ نے 29 اکتوبر کے اپنے…

56 minutes ago

Priti Adani on PM Modi Varanasi: پریتی اڈانی نے وزیر اعظم مودی کی دوراندیش قیادت کی تعریف کی، بتایا کیسے بدلی کاشی کی تصویر؟

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر پریتی اڈانی نے کہا کہ آج دنیا کے پاس…

59 minutes ago

Jhunjhunu Tragedy: وزیر اعظم مودی نے جھنجھنو حادثے پر کیا افسوس کا اظہارِ، کیسے پیش آیا اتنا بڑا حادثہ؟

وزیر اعظم دفتر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیر اعظم کا…

1 hour ago