نئی دہلی : دہلی کی تجارتی تنظیم چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے ایک بار پھر یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کانگریس لیڈرراہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر واضح کر دیا ہے کہ رام لیلا میدان میں مجوزہ ریلی منعقد کرنے کا ارادہ برقرار ہے۔سی ٹی آئی نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کو بھی خط کی ایک نقل بھیجتے ہوئے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے پر انڈیا اتحاد کی دیگر اتحادی جماعتوں سے بات کریں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ مجوزہ ریلی دیوالی سے پہلے خریداری کے سب سے اہم سیزن کے دوران منعقد کی جا رہی ہے، جس سے دہلی کے کاروبار پر سنگین اثر پڑ سکتا ہے۔
راہل گاندھی کے بیان سے تاجروں کی تشویش دور نہیں ہوئی
پیر کو راہل گاندھی نے ایکس پر دہلی کے تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے ایک پوسٹ میں کہا تھا، ’’ہم آپ کی بات سنتے ہیں اور آپ کی پروا کرتے ہیں۔ حکومت نے میٹرو بند کر دی، سڑکیں سیل کر دیں اور راجدھانی کو لاک ڈاؤن جیسا بنا دیا۔ اگر مودی ملزم نمبر 4 گیانیش کمار کو ہٹا دیں تو احتجاج 30 سیکنڈ میں ختم ہو سکتا ہے۔‘‘ سی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس بیان سے تاجروں کی تشویش دور نہیں ہوئی ہے۔ تنظیم کے چیئرمین برجیش گوئل کے مطابق، رام لیلا میدان کے آس پاس واقع 20 اہم بازاروں کے تاجر ریلی کے اعلان کے بعد سے کافی پریشان ہیں اور تجارتی برادری میں تذبذب اور خوف کا ماحول ہے۔
بیریکیڈنگ اور ٹریفک پابندیوں سے متعلق سوالات
تاجروں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا 31 اکتوبر سے ہی بیریکیڈنگ شروع کر دی جائے گی؟ کیا راجدھانی کی کئی اہم سڑکیں بند ہوں گی؟ اور کیا گاہکوں کو بازاروں تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا؟ان کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس رہنماؤں کا یہ اندازہ درست ہے کہ ریلی میں 10 لاکھ افراد اور 15,000 سے 20,000 گاڑیاں شامل ہوں گی تو اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کی پارکنگ کا انتظام کہاں کیا جائے گا؟سی ٹی آئی کے مطابق، رام لیلا میدان کے آس پاس 200 گاڑیوں کے لیے بھی مجاز پارکنگ کی سہولت دستیاب نہیں ہے، جب کہ یہ علاقہ دہلی کے بڑے تھوک اور خوردہ بازاروں سے گھرا ہوا ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ریلی سے تقریباً 21 اہم بازار براہ راست متاثر ہوں گے۔
3,000 کروڑ روپے کے سابقہ نقصان کا حوالہ
تاجروں کی تنظیم نے یاد دلایا کہ 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر منعقدہ ایک احتجاج میں صرف 3,000 سے 4,000 افراد نے شرکت کی تھی، لیکن اس کے باوجود وسطی دہلی کے بڑے حصے میں ٹریفک پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس کے نتیجے میں تاجروں کو تقریباً 3,000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا۔سی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اگر یکم نومبر کو 10 لاکھ افراد کی ریلی منعقد ہوتی ہے تو پرانی دہلی اور وسطی دہلی کے بڑے حصوں میں کاروباری سرگرمیاں تقریباً ٹھپ ہو سکتی ہیں، جس سے 10,000 کروڑ روپے تک کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔
بھائی دوج کے بعد ریلی کرانے کی تجویز
سی ٹی آئی نے تجویز دی ہے کہ عوامی اور تجارتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریلی بھائی دوج کے بعد، یعنی 10 نومبر کے بعد منعقد کی جائے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر تاریخ تبدیل کرنا ممکن نہ ہو تو پروگرام کو رام لیلا میدان کے بجائے براڑی گراؤنڈ یا جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم جیسے کھلے مقام پر منتقل کیا جائے، جہاں آس پاس کے بازاروں پر اس کا اثر کم پڑے۔
تاجروں کی تشویش کا حل نہیں ہے راہل گاندھی کی پوسٹ: پروین کھنڈیلوال
دوسری جانب، کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس (سی اے آئی ٹی) کے جنرل سکریٹری اور بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال نے بھی کہا ہے کہ راہل گاندھی کی سوشل میڈیا پوسٹ تاجروں کی تشویش کا حل نہیں ہے۔آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب راہل گاندھی خود یہ کہہ رہے ہیں کہ میٹرو بند ہوئی اور سڑکیں سیل کی گئیں تو اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ انتظامیہ کو ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔انہوں نے کہا کہ تاجروں کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ بڑے سیاسی پروگراموں کی وجہ سے تہواروں کے سیزن میں کاروبار متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق، اس اہم تجارتی دور میں ٹریفک پابندیوں اور آمدورفت میں رکاوٹوں سے کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کا گرمجوشی سے خیرمقدم…
سیٹلائٹ تصاویر میں ایران کی متعدد تنصیبات پر سرگرمیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ان میں…
اتر پردیش میں گریجویٹ کی 5 اور اساتذہ کے انتخابی حلقوں کی 6 نشستوں سمیت…
خلیج بنگال میں اٹھنے والے سمندری طوفان ’ارنب‘ کے پیش نظر مرکزی حکومت نے بھی…
ٹرمپ نے 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ووٹروں کو…
ملک کی اہم اور مصروف ترین عدالتی اداروں میں شامل بامبے ہائی کورٹ میں ججوں…