قومی

West Bengal Elections: ٹی ایم سی کا ’خواتین مخالف چہرہ‘ بے نقاب، پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے درمیان ممتا حکومت پر وزیراعظم مودی کا نشانہ

کولکاتا: مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے مٹھوراپور میں منعقدہ ’وجئے سنکلپ ریلی‘ سے خطاب کرتے ہوئے حکمراں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایم سی اور اس کے اتحادیوں کا ’’خواتین مخالف چہرہ‘‘ ایک بار پھر عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ 4 مئی ٹی ایم سی کے ’’سنڈیکیٹ راج‘‘ اور بدعنوان نظام کے خاتمے کی تاریخ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد بدعنوانی اور لوٹ مار کا مکمل حساب لیا جائے گا۔

خواتین کے حقوق اور ریزرویشن کا معاملہ

وزیراعظم نے پارلیمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت نے 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے کی تجویز پیش کی تھی، لیکن ٹی ایم سی نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے بنگال کی خواتین کے حقوق متاثر ہوئے۔ نریندر مودی نے کہا کہ ریاست میں تبدیلی کی لہر چل رہی ہے اور پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں خواتین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے ٹی ایم سی کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’بڑی تعداد میں ووٹنگ اس بات کا اشارہ ہے کہ خوف ختم ہو رہا ہے اور اعتماد جیت رہا ہے۔‘‘ انہوں نے پہلی بار ووٹ دینے والے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ موجودہ حکومت کو اقتدار سے ہٹا کر نئی شروعات کریں۔ وزیراعظم نے آر جی کر اور سندیش کھالی جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں اور مجرموں کو تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کی مائیں اور بیٹیاں اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو کبھی نہیں بھولیں گی۔

ترقیاتی اسکیموں کا ذکر

مرکزی حکومت کی کامیابیوں کو گنواتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پردھان منتری آواس یوجنا، جن دھن یوجنا، آیوشمان بھارت اور پی ایم کسان سمان ندھی جیسی اسکیموں سے ملک بھر میں کروڑوں لوگوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ٹی ایم سی نے صرف وعدے کیے لیکن عملی کام نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال سیلاب اور طوفان سے متاثر ہونے والے علاقوں کے لیے مرکز نے ہزاروں کروڑ روپے بھیجے، لیکن ریاستی حکومت نے ان فنڈز کا صحیح استعمال نہیں کیا۔

مستقبل کا وعدہ اور سیاسی پیغام

وزیراعظم نے کہا کہ بنگال کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت بنے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جس طرح مرکز میں بی جے پی کو موقع دیا گیا، اسی طرح ریاست میں بھی دیا جائے۔ ریلی کے دوران انہوں نے مٹھوراپور کے بھنگ میلے کو بہتر بنانے، کاریگروں کو ڈیجیٹل سہولیات فراہم کرنے اور اسے ایک منظم مارکیٹ ہب بنانے کا وعدہ بھی کیا۔ وزیراعظم نے ٹی ایم سی پر بدعنوانی، کٹ منی اور سنڈیکیٹ راج کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی صرف اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہے، جبکہ بنگال کی ترقی رک گئی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آنے والے نتائج میں ریاست میں بڑی سیاسی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

POCSO Act Muslim Personal Law: مسلم پرسنل لا کا حوالہ دے کر پوکسو سے نہیں بچ سکتے، نابالغ بیوی سے تعلق پر دہلی ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

جسٹس سنجیو نرولا کی سربراہی والی بنچ نے ایک معاملے میں کہا کہ ذاتی قانون…

21 minutes ago

Rain in Uttar Pradesh: اتر پردیش میں بارش اور طوفان کا قہر، 56 افراد ہلاک، 46 زخمی، سیتاپور میں سب سے زیادہ 7 اموات

گزشتہ 60 گھنٹوں کے دوران ریاست کے 56 اضلاع میں شدید بارش ریکارڈ، 107 مویشی…

41 minutes ago

Asian Games 2026: زیورات فروخت کرنے والی ہریتا بھدرا نے جاپان میں لہرایا ترنگا، 200 میٹر میں جیتا کانسے کا تمغہ

 بھارت کی اسٹار اسپرنٹر ہریتا بھدرا نے جاپان میں خواتین کی 200 میٹر فائنل ریس…

2 hours ago