مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوران سیاسی درجۂ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس بار ایک گیت انتخابی مہم کا نیا موضوع بن گیا ہے۔ ترنمول کانگریس (TMC) کی رکن پارلیمنٹ سیانی گھوش کی جانب سے ریلیوں میں گایا جانے والا گیت ’’ہردے مجے کعبہ، نین مدینہ‘‘ نہ صرف سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکا ہے بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی بحث کا باعث بن گیا ہے۔
گانے سے انتخابی ماحول میں نئی بحث
مغربی بنگال کے مختلف اسمبلی حلقوں میں انتخابی ریلیوں کے دوران سیانی گھوش اس گیت کو خود گا رہی ہیں، جس کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ اس گانے کو خاص طور پر مسلم اکثریتی علاقوں میں پیش کیا جا رہا ہے، جسے بعض مبصرین ترنمول کانگریس کی انتخابی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ کم عمری میں سیاسی کامیابی حاصل کرنے والی سیانی گھوش اب انتخابی مہم میں اپنی گلوکاری کی صلاحیت کو بھی استعمال کر رہی ہیں، جو کہ ایک غیر روایتی مگر مؤثر حکمت عملی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے اقلیت نوازی کی انتہا قرار دیا ہے۔ بی جے پی حامیوں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے صوبے میں جہاں درگا اور کالی کی پوجا کی جاتی ہے، وہاں اس نوعیت کے مذہبی رنگ والے گانے کا سیاسی استعمال سوالات کو جنم دیتا ہے۔
کون ہیں سیانی گھوش؟
سیانی گھوش کا تعلق فلمی دنیا سے رہا ہے اور وہ ایک معروف بنگالی اداکارہ رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز بنگالی ٹیلی فلم ’’Ichhe Dana‘‘ سے کیا تھا اور کئی فلموں اور ٹی وی سیریلز میں کام کیا۔ انہوں نے 2021 میں آل انڈیا ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کی اور جلد ہی پارٹی کی اہم لیڈر بن کر ابھریں۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں انہوں نے جادھوپور نشست سے کامیابی حاصل کی، جبکہ 2021 کے اسمبلی انتخابات میں آسنسول جنوبی نشست سے انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسی سال جون میں انہیں پارٹی کی یوتھ ونگ کا صدر مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے ابھیشیک بنرجی کی جگہ ذمہ داری سنبھالی۔ اس سے ان کی پارٹی قیادت، خصوصاً وزیراعلیٰ ممتابنرجی کے ساتھ قربت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔
بی جے پی کا ردعمل اور سوشل میڈیا بحث
بی جے پی اور اس کے حامیوں نے اس معاملے کو شدت سے اٹھایا ہے۔ سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز شیئر کیے جا رہے ہیں، جن میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ایک منتخب نمائندہ عوامی جلسوں میں اس طرح کا گیت کیوں گا رہی ہے۔ دوسری جانب، ترنمول کانگریس کے حامی اس اقدام کو ثقافتی اظہار اور عوام سے جڑنے کا ایک ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بنگال کی سیاست ہمیشہ سے ثقافت، موسیقی اور ادب کے ساتھ جڑی رہی ہے۔
انتخابی حکمت عملی یا ثقافتی اظہار؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، مسلم اکثریتی علاقوں میں اس گیت کا استعمال ایک سوچا سمجھا انتخابی قدم ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے پارٹی مخصوص ووٹر طبقے کو متوجہ کرنا چاہتی ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سیانی گھوش نے حال ہی میں ایک نعرہ بھی دیا تھا ’’بنگال دکھائے گا ممتا کی صلاحیت‘‘ جو پارٹی کے مرکزی بیانیے کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔ مغربی بنگال کے انتخابات ہمیشہ سے منفرد رہے ہیں، جہاں سیاست کے ساتھ ثقافت کا گہرا تعلق رہا ہے۔ تاہم، اس بار مذہبی علامتوں کے استعمال نے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ حکمت عملی ترنمول کانگریس کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے یا بی جے پی کی تنقید عوامی رائے کو متاثر کرتی ہے۔ فی الحال، ایک گیت بنگال کی سیاست میں ایک بڑے مباحثے کا مرکز بن چکا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
غلام نبی آزاد نے کہا کہ اس بار دو الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر…
روس کے علاوہ کئی دیگر ممالک نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس…
موجودہ بارش معمول کی بارش نہیں ہے۔ شدید بارش کے باعث کئی مقامات پر عام…
وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ہندوستان اپنے دفاع کے حق کا…
اس دوران محصولات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر سریش پجاری نے بتایا کہ آبی ذخیرے…
بتایا جا رہا ہے کہ طالبات کے ہاسٹل کے قریب سے طلبہ کا احتجاج شروع…