قومی

TMC Expels 8 Leaders: ترنمول کانگریس میں بڑا سیاسی بحران، پارٹی مخالف سرگرمیوں کے پیش نظر فرہاد حکیم اور اروپ بسواس سمیت 8 سینئر لیڈران پارٹی سے خارج

کولکاتا: آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے مغربی بنگال میں جاری سیاسی ہلچل کے درمیان منگل کو اپنے آٹھ سینئر لیڈروں کو پارٹی سے خارج کر دیا۔ پارٹی سے نکالے گئے لیڈروں میں جاوید احمد خان، فرہاد حکیم، اروپ رائے، رتھن گھوش، بپلب مترا، شبینہ یاسمین، اروپ بسواس اور اسنیہاشیش چکرورتی شامل ہیں۔ پارٹی نے اسی روز ان لیڈروں کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیے تھے، جن میں الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے دانستہ طور پر پارٹی مخالف سرگرمیوں میں حصہ لیا اور تنظیمی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی۔

باغی گروپ نے نئی قیادت کا کیا اعلان

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پارٹی کے اندر تنظیمی اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ پیر کے روز مغربی بنگال میں قائد حزب اختلاف رتبرتا بنرجی کی قیادت میں ایک باغی گروپ نے آل انڈیا ترنمول کانگریس کے لیے نئی قیادت کے ڈھانچے کا اعلان کیا تھا۔ اس اجلاس میں اروپ رائے کو متفقہ طور پر آل انڈیا ترنمول کانگریس کا چیئرمین منتخب کیا گیا، جبکہ 30 رکنی قومی ورکنگ کمیٹی (این ڈبلیو سی) بھی تشکیل دی گئی۔ باغی گروپ نے ایک بار پھر اس خواہش کا اظہار کیا کہ سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی پارٹی میں سرپرست (مینٹور) کا کردار ادا کریں۔

نائب صدور اور قومی ورکنگ کمیٹی کا اعلان

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رتبرتا بنرجی نے کہا کہ آل انڈیا ترنمول کانگریس کا خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں مندوبین نے متفقہ طور پر نئی مرکزی قیادت اور قومی ورکنگ کمیٹی کا انتخاب کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 30 رکنی کمیٹی میں فرہاد حکیم، اروپ بسواس، رتھن گھوش، شبینہ یاسمین، جاوید احمد خان، سندیپن ساہا اور دیگر رہنماؤں کو شامل کیا گیا ہے۔ رتبرتا بنرجی نے مزید بتایا کہ فرہاد حکیم، اروپ بسواس، رتھن گھوش اور شبینہ یاسمین کو پارٹی کا نائب صدر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ جلد ہی ضلعی صدور اور ضلعی کمیٹیوں کی تشکیل بھی عمل میں لائی جائے گی۔

ممتا بنرجی کے کردار پر زور، مخالف دھڑے پر سوالات

رتبرتا بنرجی نے کہا کہ ان کا موقف شروع سے واضح رہا ہے کہ ممتا بنرجی پارٹی کی سرپرست رہیں اور اپنی رہنمائی سے تنظیم کو مضبوط کریں۔ ان کے مطابق باغی دھڑا انہیں پارٹی کی رہنما اور رہبر کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔ بعد ازاں انہوں نے ممتا بنرجی کی صدارت میں منعقد ہونے والے قومی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے مخالف گروپ کے فیصلوں کی قانونی اور تنظیمی حیثیت پر سوال اٹھایا۔ ترنمول کانگریس کی جانب سے آٹھ سینئر رہنماؤں کی بے دخلی اور اس کے ساتھ ہی باغی گروپ کی جانب سے متوازی تنظیمی ڈھانچے کے قیام نے مغربی بنگال کی سیاست میں ایک نئے بحران کو جنم دے دیا ہے، جس کے آنے والے دنوں میں مزید گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Bharat Express Urdu Conclave: اردو ایک جدید زبان ہے، اے آئی سے مستقبل مزید مضبوط ہوگا، بزمِ صحافت میں بولے پروفیسر شاہد صدیقی

پروفیسر شاہد صدیقی نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو اردو سے جوڑنے کے لیے…

38 minutes ago

Todays Weather: موسم نے بدلا رخ! کئی علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان، آئی ایم ڈی نے جاری کی پیش گوئی

مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…

58 minutes ago

Delhi IIC Bazm-e-Sahafat: ’اردو مسلمانوں کی نہیں، ہندوستان کی زبان ہے‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین کا اظہارِ خیال

بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو میں اردو، صحافت اور نئی ٹیکنالوجی پر گفتگو،…

2 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: اردو کو رسم الخط میں نہ باندھو، یہ دلوں کی زبان ہے، بزمِ صحافت میں بولے شاہد صدیقی

اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے شاہد صدیقی نے بتایا کہ وہ اردو اخبارات کے…

2 hours ago