قومی

Candidates were forced to withdraw nominations: ’’جن سوراج کے تین امیدواروں کو نام واپس لینے پر مجبور کیا گیا‘‘ پرشانت کشور کا بی جے پی پر بڑا الزام

جن سوراج کے بانی پرشانت کشور نے الزام لگایا ہے کہ گزشتہ تین سے چار دنوں کے دوران جن سوراج کے تین امیدواروں کو زبردستی اپنے کاغذات نامزدگی واپس لینے پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، مگر ان کی تحریک پیچھے ہٹنے والی نہیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کشور نے واضح کیا کہ ’’ہم اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک بی جے پی کو شکست نہیں دے دیتے اور این ڈی اے کو بہار سے اکھاڑ نہیں پھینکتے۔‘‘

 سب سے زیادہ خوف میں بی جے پی

پرشانت کشور نے کہا کہ بہار کے اسمبلی انتخابات میں سب سے زیادہ خوفزدہ پارٹی بی جے پی ہے۔ ان کے مطابق: ’’گزشتہ چند برسوں میں بی جے پی نے یہ شہرت حاصل کی ہے کہ چاہے جو جیتے، حکومت وہی بناتی ہے۔ اب بہار میں انہوں نے ایک نیا مہم شروع کیا ہے۔ چونکہ انتخابی عمل شروع ہو چکا ہے، اس لیے این ڈی اے کی بی جے پی خود کو سب سے زیادہ خطرے میں محسوس کر رہی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی عوام کو خوفزدہ کر رہی ہے کہ ’’اگر ہمیں ووٹ نہیں دیا تو لالو کا ’جنگل راج‘ واپس آ جائے گا۔‘‘ کشور نے بتایا کہ گزشتہ چار سے پانچ دنوں میں جن سوراج کے تین امیدواروں کو دباؤ ڈال کر اپنے کاغذات نامزدگی واپس لینے پر مجبور کیا گیا۔

تبدیلی کی لہر ہے جن سوراج کا عزم

پرشانت کشور نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ان کی تنظیم پیچھے نہیں ہٹے گی: ’’ہم اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک بی جے پی کو شکست اور این ڈی اے کو بہار سے اکھاڑ نہیں دیتے۔ نتائج 14 نومبر کو آئیں گے اور سب کچھ واضح ہو جائے گا۔ یہ ہمیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر ہم ڈرنے والے نہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’چاہے آپ کتنے ہی امیدوار خرید لیں، جتنے چاہیں دھمکیاں دے لیں، یا کسی کو گھر میں نظر بند کر دیں، انتخابات لڑے جائیں گے اور ایسے لڑے جائیں گے کہ آپ کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملے گا۔ ہم ’مہاگٹھ بندھن‘ نہیں ہے۔‘‘

بدعنوانوں سے نہیں ڈرتی ہے بی جے پی

کشور نے کہا کہ بی جے پی کو ’مہاگٹھ بندھن‘ کے امیدواروں سے کوئی پریشانی نہیں، بلکہ وہ جن سوراج کے ایماندار اور عوامی حمایت یافتہ امیدواروں سے خوفزدہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا: ’’یہ لوگ بدعنوان سیاست دانوں سے نہیں ڈرتے، بلکہ اچھے لوگوں سے ڈرتے ہیں۔ ہم نے ایسے کئی نیک اور باصلاحیت امیدوار میدان میں اتارے ہیں جن کا مقابلہ کرنے کی ان میں ہمت نہیں۔ اسی لیے ہمارے امیدواروں کے دوستوں اور رشتہ داروں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ نام واپس لے لیں۔‘‘

میں خود انتخاب نہیں لڑوں گا— پرشانت کشور

پرشانت کشور نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ خود بہار اسمبلی انتخابات میں امیدوار نہیں بنیں گے، بلکہ جن سوراج کے پلیٹ فارم سے ریاست میں عوامی سیاست کی نئی فضا قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دو مرحلوں میں ہوں گے بہار اسمبلی انتخابات

ریاست بہار میں انتخابی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ پہلا مرحلہ 6 نومبر اور دوسرا مرحلہ 11 نومبر کو منعقد ہوگا، جبکہ نتائج 14 نومبر 2025 کو اعلان کیے جائیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Jantar Mantar protests: جنتر منتر پر مظاہرے کے دوران سی آئی ایس ایف جوان پر چاقو سے حملہ، دہلی پولیس نے درج کی ایف آئی آر

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج کے دوران واقعہ، نامعلوم…

2 hours ago

India-Switzerland Partnership: بھارت-سوئٹزرلینڈ شراکت داری کو نئی رفتار، مائیگریشن سے ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپس تک 5 اہم معاہدے طے

سوئس صدر گائے پرمیلن کے دورۂ ہند کے دوران دونوں ممالک کے درمیان پانچ اہم…

2 hours ago