نئی دہلی: دہلی کے جنتر منتر پر 3 اکتوبر کو ہونے والے احتجاج کے دوران تین خاتون صحافیوں نے پولیس اہلکاروں پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے ہیں۔ شکایات موصول ہونے کے بعد دہلی پولیس نے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے اسے کرائم برانچ کو منتقل کر دیا ہے۔ ایک پولیس افسر نے اتوار کو اس کی اطلاع دی۔ ہفتہ کو ایک خاتون صحافی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ دہلی پولیس کے ایک اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (ACP) نے ان کے ساتھ جنسی ہراسانی کی۔ پولیس افسر کے مطابق، احتجاج کے دوران پیش آنے والے مبینہ واقعات سے متعلق نئی دہلی ضلع پولیس کو شکایات موصول ہوئی ہیں۔ احتجاج کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ افسر نے بتایا کہ غیر جانب دارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے ضلع پولیس نے شکایات کرائم برانچ کے حوالے کر دی ہیں۔ کرائم برانچ ان الزامات کی تحقیقات کرے گی اور اس دوران شکایت کنندہ خاتون صحافیوں کے علاوہ واقعے سے متعلق دیگر افراد کے بیانات بھی درج کیے جائیں گے۔
خاتون صحافی نے ACP پر لگایا جنسی ہراسانی کا الزام
ایک خاتون صحافی نے بتایا کہ وہ جنتر منتر پر احتجاج کی کوریج کر رہی تھیں۔ اسی دوران ایک ACP نے مبینہ طور پر ان کے ساتھ جنسی ہراسانی کی۔ صحافی نے الزام لگایا، ’’پولیس اہلکار مظاہرین کو حراست میں لے رہے تھے اور موقع پر کوئی خاتون پولیس اہلکار موجود نہیں تھی۔ میں نے دہلی پولیس کے ACP وویک بھگت سے پوچھا کہ خاتون پولیس اہلکار کیوں موجود نہیں ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے میرے ساتھ جنسی ہراسانی کی اور مجھے پیچھے دھکیل دیا۔‘‘
پریس کونسل آف انڈیا نے اظہار ناراضی کیا
پریس کونسل آف انڈیا (PCI) نے احتجاج کی کوریج کر رہے صحافیوں کے ساتھ پولیس کے مبینہ رویے پر ’’حیرت اور مایوسی‘‘ کا اظہار کیا ہے۔ ساتھ ہی دہلی پولیس سے خاتون صحافی کی شکایت پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پریس کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ جمہوریت میں اس طرح کے رویے کو معمول نہیں سمجھا جا سکتا۔ صحافیوں کو بغیر کسی خوف کے آزادانہ طور پر کام کرنے اور مختلف مسائل کے حوالے سے جمع ہونے والے لوگوں اور واقعات کو ریکارڈ کرنے کی آزادی ملنی چاہیے۔ PCI نے کہا کہ اگر ملک کے دارالحکومت کے مرکز میں بھی صحافیوں کو اپنا کام کرنے کی آزادی نہیں ملتی تو یہ بھارت میں میڈیا کی آزادی کے لحاظ سے اچھا اشارہ نہیں ہے۔
پریس کلب آف انڈیا نے بھی اٹھائے سوال
اس معاملے میں پریس کلب آف انڈیا نے بھی بیان جاری کیا ہے۔ پریس کلب نے جمعہ اور ہفتہ کو چیف الیکشن کمشنر کے خلاف جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کے دوران صحافیوں کے خلاف دہلی پولیس کی کارروائی اور ان کے ساتھ کیے گئے مبینہ سلوک پر ’’حیرت اور مایوسی‘‘ کا اظہار کیا۔ پریس کلب آف انڈیا نے جنتر منتر اور اس کے آس پاس انٹرنیٹ بند کیے جانے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ پریس کلب نے کہا، ’’جمہوریت میں اس طرح کے رویے کو معمول نہیں بنایا جا سکتا۔‘‘ اس نے کہا کہ صحافیوں کو بغیر کسی خوف کے آزادانہ طور پر کام کرنے اور مختلف مسائل کے حوالے سے جمع ہونے والے لوگوں اور واقعات کو ریکارڈ کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ پریس کلب آف انڈیا نے دہلی پولیس سے خاتون صحافی کی شکایت پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی کہا ہے کہ پولیس یہ یقینی بنائے کہ میڈیا اہلکاروں کو اپنا کام کرنے کے لیے مناسب جگہ ملے اور انہیں جارحانہ رویے یا دھمکیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
On 03-10-26, during the protest in New Delhi area, while being in law and order situation, allegations of sexual harassment were made by three female journalists against police officers.
New Delhi District has received their complaints and the same are transferred to Crime Branch for fair and impartial enquiry.
@PTI_News
@ANI
#DPUpdates— Delhi Police (@DelhiPolice) October 4, 2026
الزامات پر دہلی پولیس نے کیا کہا؟
جنتر منتر پر احتجاج کے دوران خاتون صحافیوں کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر لگائے گئے الزامات پر دہلی پولیس کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ دہلی پولیس کی DCP (PRO) نیہا یادو نے کہا کہ تین خواتین نے حراست میں لیے جانے کے دوران پولیس افسران اور اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر بدسلوکی اور زبردستی کیے جانے کی شکایت دی ہے۔ شکایات کو کرائم برانچ کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔ DCP نیہا یادو کے مطابق، نئی دہلی علاقے میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS) کی دفعہ 163 نافذ ہونے کے باوجود AISA اور دیگر تنظیموں نے 3 اکتوبر کو SIR کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین کو علاقے میں BNSS کی دفعہ 163 نافذ ہونے کی اطلاع دی گئی اور احتجاجی مقام خالی کرنے کی وارننگ دی گئی۔ پولیس کے مطابق مظاہرین نے وارننگ پر عمل نہیں کیا، جس کے بعد انہیں حراست میں لینے کی کارروائی کی گئی۔
ڈی سی پی نیہا یادو نے کہا، ’’شام تقریباً 6 بجے تین خواتین نے، جنہوں نے خود کو صحافی بتایا، حراست میں لیے جانے کے دوران دہلی پولیس کے افسران اور اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر بدسلوکی کیے جانے کی شکایت دی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ تینوں خواتین کی شکایات درج کر لی گئی ہیں اور ان کا طبی معائنہ بھی کرایا گیا ہے۔ معاملے کو مزید تحقیقات کے لیے دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔
پولیس نے واقعے سے متعلق ویڈیوز مانگیں
دہلی پولیس نے واقعے سے متعلق ویڈیو یا فوٹیج رکھنے والے لوگوں سے بھی سامنے آنے کی اپیل کی ہے۔ ڈی سی پی نیہا یادو نے کہا کہ اگر کسی شخص کے پاس اس واقعے سے متعلق کوئی ویڈیو یا دیگر فوٹیج موجود ہے تو وہ اسے کرائم برانچ کے ساتھ شیئر کرے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شکایات کرائم برانچ کے پاس بھیج دی گئی ہیں، جو معاملے میں لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کرے گی۔ خاتون صحافیوں کی یہ شکایات 3 اکتوبر کو جنتر منتر علاقے میں SIR اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی سے متعلق ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اندور میں اسٹیٹ پریس کلب کے زیرِ اہتمام منعقدہ تین روزہ اٹھارویں ’انڈین جرنلزم فیسٹیول‘…
اڈانی گروپ کی اسکل ڈیولپمنٹ اور صلاحیت سازی کی اکائی اڈانی اسکلز اینڈ ایجوکیشن (ASE)…
پولیس کی ابتدائی تفتیش میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایمبولینس ڈرائیور کو…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے عظیم انقلابی اور مجاہد آزادی شیام جی کرشن ورما…
نیتا امبانی نے کہا ’’ایشین گیمز 2026 میں ہمارے ہندوستانی دستے کو دلی مبارکباد، جس…
ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے کہا، مالی سال 2026-27 کے اختتام تک 114…