قومی

CTI writes to LoP Rahul Gandhi: دیوالی کے کاروبار پر منڈلانے لگا بحران، سی ٹی آئی نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر رام لیلا میدان کی ریلی ملتوی کرنے کی اپیل

نئی دہلی : دہلی میں تہواروں، خاص طور پر دھن تیرس اور دیوالی کے مصروف کاروباری موسم کو دیکھتے ہوئے تاجروں کی سرکردہ تنظیم چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی کو خط لکھا ہے۔ تنظیم نے یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں مجوزہ کانگریس کی مہا ریلی کو 10 نومبر، یعنی بھیا دوج کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔سی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ تہواروں کے اس اہم کاروباری موسم میں ریلی کے باعث ٹریفک کی آمدورفت میں تبدیلی، سڑکوں پر پولیس کی ناکہ بندی اور دیگر حفاظتی انتظامات کی وجہ سے دہلی کا تقریباً 10,000 کروڑ روپے کا کاروبار متاثر ہو سکتا ہے۔

3 سے 4 دن تک کاروبار ٹھپ ہونے کا خدشہ

سی ٹی آئی کے چیئرمین برجیش گوئل نے اپنے خط میں کہا ہے کہ دہلی کے تاجر اس وقت سال کے سب سے مصروف کاروباری موسم کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ 6 نومبر کو دھن تیرس، 8 نومبر کو دیوالی اور 10 نومبر کو بھیا دوج کا تہوار منایا جائے گا۔ عام طور پر لوگ دھن تیرس سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے ہی خریداری شروع کر دیتے ہیں۔تنظیم کے مطابق، صرف دھن تیرس کے موقع پر دہلی میں سونے چاندی، الیکٹرانکس، کپڑے، گاڑیوں، برتنوں، مٹھائیوں اور تحائف سمیت مختلف شعبوں میں تقریباً 25,000 کروڑ روپے کے کاروبار کا اندازہ ہے۔ یہ کاروبار دہلی کی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔برجیش گوئل کے مطابق، رام لیلا میدان سے 5 کلومیٹر کے دائرے میں دہلی کی 20 بڑی اور تاریخی تھوک و خوردہ منڈیاں واقع ہیں۔ ان میں چاندنی چوک، صدر بازار، چاوڑی بازار، بھاگیرتھ پیلس، کھاری باولی، نیا بازار، کرول باغ، لاجپت رائے مارکیٹ اور کشمیری گیٹ جیسے اہم تجارتی مراکز شامل ہیں۔ ان بازاروں سے نہ صرف دہلی بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں سامان کی سپلائی کی جاتی ہے۔سی ٹی آئی کا خدشہ ہے کہ اگر یکم نومبر کو مہا ریلی منعقد ہوتی ہے تو حفاظتی انتظامات کے تحت سڑکیں بند ہونے، میٹرو اسٹیشنوں پر پابندیاں لگنے اور ٹریفک کا رخ تبدیل کیے جانے سے ان بازاروں میں 3 سے 4 دن تک کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں۔

ریلوے اسٹیشنوں اور باہر سے آنے والے خریداروں کی پریشانی

خط میں اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ پرانی دہلی اور نئی دہلی ریلوے اسٹیشن رام لیلا میدان کے قریب واقع ہیں۔ روزانہ بڑی تعداد میں تاجر اور خریدار ان اسٹیشنوں کے ذریعے دہلی پہنچتے ہیں۔تنظیم کے مطابق، ریلی کے دوران ممکنہ بدنظمی، ٹریفک کی پابندیوں اور بھیڑ کی وجہ سے دوسرے شہروں سے آنے والے خریداروں میں تشویش پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ دہلی آنے سے گریز کر سکتے ہیں، جس کا براہ راست نقصان مقامی تاجروں کو اٹھانا پڑے گا۔

مظاہروں سے پہلے ہی 3,000 کروڑ روپے کے نقصان کا دعویٰ

سی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اکتوبر کے دوران وسطی دہلی، کناٹ پلیس اور انڈیا گیٹ کے آس پاس ہونے والے مختلف احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کے باعث تاجروں کو پہلے ہی تقریباً 3,000 کروڑ روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔تنظیم نے واضح کیا کہ وہ جمہوری حقوق اور احتجاج کے حق کا مکمل احترام کرتی ہے، لیکن کاروباری مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتی ہے کہ دیوالی اور بھیا دوج تک بڑے بازاروں کے قریب بڑی ریلیوں کے انعقاد سے گریز کیا جائے۔سی ٹی آئی نے امید ظاہر کی ہے کہ راہل گاندھی تاجروں کے مسائل کو سمجھتے ہوئے یکم نومبر کو ہونے والی مجوزہ ریلی کی تاریخ آگے بڑھانے پر غور کریں گے، تاکہ تہواروں کے دوران دہلی کے کاروبار کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔

بھبار ت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

65th Raising Day of the ITBP: وزیر اعظم مودی نے آئی ٹی بی پی کے 65ویں یومِ تاسیس پر جوانوں کو دی مبارک باد

ہندوستان-تبت سرحدی پولیس ملک کی اہم مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے۔ اس…

4 hours ago

Indian-American Republican Saritha Komatireddy: نیویارک کے اٹارنی جنرل کے انتخاب میں بھارتی نژاد سرتھا کومتی ریڈی کو ’نیویارک پوسٹ‘ کی حمایت

ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی لیٹیشیا جیمز نے 2018 میں پہلی مرتبہ نیویارک کے…

5 hours ago

Stay away from protest-hit areas: احتجاج والے علاقوں سے دور رہیں، یورپ میں تشدد کے واقعات پر ہندوستان نے شہریوں کو کیا خبردار

فرانس میں ہفتے کے روز ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے ہونے والے ہیں۔ گزشتہ ہفتے…

6 hours ago