قومی

ہندی نہ بولنے والے اپنی پستی کا احساس کریں، جشنِ ادب کے کلچرل کارواں میں معروف ادیب پروفیسراشوک چکردھرنے ہندی کو کمتر سمجھنے والوں کو دکھایا آئینہ

بھوپال: جشنِ ادب کے کلچرل کارواں کے پانچویں ایڈیشن (بھوپال) کوراج بھاشا ماہ کے طورپرمنانے کے لیے جمعہ کوجہاں نما پیلس کے دربارسبھا ہال میں افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پرادارے کے بانی کنور رنجیت چوہان، صدرنونیت سونی، معروف ادیب پدم شری اشوک چکردھر، لَلِت دہیا (پرنسپل چیف انکم ٹیکس کمشنر، مدھیہ پردیش) اورادیب وسابق سینئرپولیس افسرپون جین اسٹیج پرموجود تھے۔ ادب اور ثقافتی ورثے کوآگے بڑھانے میں مصروف ادارہ جشنِ ادب کے اس دوروزہ پروگرام کے پہلے دن افتتاح کے بعد ’’داستانِ بھوپال‘‘ سیشن میں زبیرعالم اورمحمد آصف نے بھوپال کی تاریخی وراثت قصے اورگیتوں کے ذریعے پیش کیے۔

دوسرے سیشن ’’ہندی ہیں ہم‘‘ میں ہندی ادیب اوم نِشچل اورپروفیسراشوک چکردھرکے درمیان گفتگوہوئی۔ اس میں ڈاکٹراوم نِشچل نے راج بھاشا ہندی کے سفراوراس کی موجودہ سمت وحالت پرروشنی ڈالی۔ وہیں پروفیسرچکردھرنے ہندی زبان پراے آئی اورچیٹ جی پی ٹی کے خطرات اوراس کے استعمال پرسنجیدہ گفتگوکی اورہندی زبان کودرپیش مختلف چیلنجزسے آگاہ کیا۔ انہوں نے راج بھاشا ہندی کے احترام میں جشنِ ادب کے حوالے سے یہ پیغام دیا کہ ’’ہندی دریدرنہیں ہے بلکہ ہندی نہ بولنے والوں کو اپنی پستی کا احساس کرنا چاہیے۔‘‘

کامیڈین رحمان خان کی خوبصورت پرفارمنس

اگلے سیشن ہندوستانی ہاسیہ میں مشہورکامیڈین رحمان خان نے حاضرین کوخوب ہنسایا۔ مشہورگلوکارہ ڈاکٹرودیا شاہ نے’’تیری دیوانی‘‘ گانے کے ساتھ گائیکی سیشن کا آغازکیا۔ پھر’’چھنن نن باجے رے پائلِیا‘‘ گا کرسب کومسحورکردیا۔ اس کے بعد ’’دادرا میں کیسا جادوڈالا بالم متوارے‘‘ گا کرحاضرین کوجھومنے پرمجبورکیا اورغزل گا کرسامعین کوبےحد متاثرکیا۔

ہندوی- کوی سمیلن میں تمام شعرا نے راج بھاشا کے احترام میں خوبصورت کلام سنایا۔ رامائن دھردیویدی نے پڑھا:

“آپ کے شاپ سے مُکت ہوجاؤں بس، اوروردان مجھ کونہیں چاہیے۔

یہ راز تم کو پتا نہیں ہے، مریض ہوتم، دوا نہیں ہے”

جس نے سب کومتاثرکیا۔

ڈاکٹر اوم نِشچل نے پڑھا:

“رَم جائے جس میں تن یہ مندر تو وہی اَپرتِم،

بہہ جائے جس میں من یہ بھاشا تو بس وہی ہے”

نیلوتپل مِرنال نے کہا:

“اُس دور کے لڑکے کیا جانیں، یہ ریل بنانے والے لڑکے”

جس پر سامعین خوب محظوظ ہوئے۔

منظر بھوپالی نے اپنے سُریلے کلام سے سب کے دل جیت لیے اورپروفیسرچکردھرنے صدارت کرتے ہوئے اپنے طنزومزاح کے کلام سے سامعین کومسحورکردیا۔ پہلے دن کے آخری سیشن میں قوالی کا اہتمام کیا گیا، جس میں ملک کے مشہور قوال رئیس انیس صابری نے اپنی گائیکی سے سب کے دل موہ لیے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Massive Protest Against Gyanesh Kumar: گیانیش کمار کے خلاف کانگریس کا محاذ، دہلی، یوپی سمیت ملک بھر میں احتجاج

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کانگریس نے پیر کو ملک گیر احتجاج کیا۔…

5 minutes ago

Gen-Z Protest Is Like JP Aandolan: ’جین-زی احتجاج جے پی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے‘، شنکراچاریہ نے کہا- مطالبات فوری مانے جائیں

شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے نوجوانوں کے احتجاج کا موازنہ تاریخی جے پرکاش نارائن (جے…

38 minutes ago

Delhi Pollution Action Plan: دہلی کی ہوا صاف رکھنے کے لیے سخت اقدامات، تعمیراتی کاموں پرمکمل پابندی، پی یو سی کے بغیر نہیں ملے گا ایندھن

دہلی حکومت نے موسمِ سرما میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایکشن پلان تیار…

50 minutes ago

Protest Against CEC Gyanesh Kumar: پٹنہ کی سڑکوں پر پھر ہنگامہ، بیریکیڈ ٹوٹے، واٹر کینن چلا، ڈاک بنگلہ چوراہا بنا احتجاج کا مرکز

مختلف بائیں بازو کی جماعتوں اور عوامی تنظیموں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے…

1 hour ago