نئی دہلی، 29 مارچ 2026 : دارالحکومت دہلی کے راج گھاٹ میں واقع گاندھی اسمرتی درشن ستیہ گرہ منڈپ میں اتوار کے روز مسلم راشٹریہ منچ کی قومی عاملہ کی میٹنگ اور عید ملن تقریب نے سماجی ہم آہنگی اور سنجیدہ قومی مباحثے کا ایک منفرد امتزاج پیش کیا۔ یہ پروگرام محض تہوار کی رسم تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک اور دنیا کے موجودہ حالات پر گہرے غور و فکر کا پلیٹ فارم بن گیا۔ تقریب کا آغاز عید کی مبارکباد اور باہمی معانقہ سے ہوا جس سے پورے ماحول میں محبت اور بھائی چارے کی جھلک نمایاں تھی، مگر جلد ہی گفتگو بڑے مسائل کی طرف مڑ گئی۔ مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی، تیل کی سپلائی سے متعلق عالمی تشویش اور بھارت کی اسٹریٹجک پوزیشن جیسے موضوعات پر تفصیلی بحث ہوئی۔ اس موقع پر تنظیم کے سرپرست ڈاکٹر اندریش کمار نے مغربی ایشیا میں جاری جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کی اپیل بھی کی۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر اندریش کمار کی تقریر نے پورے پروگرام کی سمت اور پیغام متعین کر دیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ملک میں وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے اور تیل و گیس کے حوالے سے غیر ضروری گھبراہٹ پھیلانے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا، “بھارت آج اعتماد کے ساتھ کھڑا ہے۔ دنیا کے کئی حصوں میں کشیدگی ضرور ہے، لیکن ہمیں اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ ملک اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔” یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب عالمی سطح پر توانائی کے بحران پر بحث تیز ہو رہی ہے۔ اجلاس میں موجود ماہرین اور مقررین نے بھی اس بات پر اتفاق کیا کہ بھارت نے گزشتہ برسوں میں اپنی توانائی پالیسی کو مضبوط بنایا ہے۔ درآمد کے متنوع ذرائع، اسٹریٹجک ذخائر اور متبادل توانائی پر بڑھتا زور—ان سب نے ملک کو زیادہ خود کفیل بنایا ہے۔ اسی وجہ سے کسی اچانک بحران کی صورت میں بھی بھارت سنبھل سکتا ہے اور عام آدمی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
اسی سلسلے میں ڈاکٹر اندریش کمار نے انتخابات کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے ایک اور اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ انتخابی عمل مکمل طور پر شفاف اور محفوظ ہو۔ انہوں نے “دراندازوں” پر سختی سے روک لگانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ووٹر لسٹ اور انتخابی عمل میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی ملک کی یکجہتی اور سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کے بیان کے بعد دیگر مقررین نے بھی انتخابی شفافیت، قومی سلامتی اور سماجی بیداری جیسے موضوعات پر اپنے خیالات پیش کیے۔ کئی مقررین نے کہا کہ منصفانہ اور پُرامن انتخابات صرف سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر طبقے کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ملک کے اندر بڑھتی سماجی دوریوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والی غلط معلومات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ آج کے دور میں افواہیں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں، جس سے معاشرے میں الجھن اور تناؤ پیدا ہوتا ہے۔ ایسے میں درست معلومات، مکالمہ اور بیداری ہی اس کا مؤثر حل ہیں۔
اس پروگرام میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس سے اس کی اہمیت اور وسعت واضح ہوئی۔ ملک کے مختلف حصوں سے آئے دانشوروں، ماہرین تعلیم اور سماجی کارکنوں نے بھرپور حصہ لیا۔ اس موقع پر نمایاں شخصیات میں ذاکر حسین (ایڈمنسٹریٹر، ہریانہ وقف بورڈ)، محمد افضل (قومی کنوینر، مسلم راشٹریہ منچ)، ڈاکٹر شاہد اختر (کارگزار چیئرمین، قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارے)، ڈاکٹر شالینی علی (سماجی کارکن)، ڈاکٹر ماجد تالیکوتی، کرنل طاہر مصطفیٰ، قاری ابرار جمال، پدم شری دلشاد حسین، افسر عالم، مہتاب عالم رضوی، شمس اقبال، آچاریہ یشی پھنتسوک، سید رضا حسین رضوی، ابو بکر نقوی، مظاہر خان، سید زیارت حقانی اور ڈاکٹر رضوان خان شامل تھے۔
تمام مہمانوں نے اپنے خیالات کے ذریعے بھائی چارے کے فروغ، تعلیم کی ترویج، سماجی بیداری اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ مقررین نے کہا کہ جب معاشرے کے مختلف طبقات ایک پلیٹ فارم پر آکر بات چیت کرتے ہیں تو ملک کو درپیش چیلنجز کا مؤثر حل نکلتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد اختر نے کہا کہ بھارت کی اصل طاقت اس کے لوگ ہیں اور اسی طاقت کے بل پر ملک کو ہر شعبے میں آگے بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے تعلیم اور ادارہ جاتی ترقی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں ملک کی مضبوط بنیاد ہیں۔ انہوں نے انفراسٹرکچر کو ترقی کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہتر سڑکیں، جدید تعلیمی ادارے اور ڈیجیٹل سہولیات بھارت کو عالمی سطح پر آگے لے جائیں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے وقف املاک کے بہتر انتظام پر زور دیا تاکہ ان وسائل کو تعلیم اور سماجی بہبود کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔
ڈاکٹر شالینی علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کو آگے بڑھانے کے لیے صحت، روزگار اور سماجی ہم آہنگی پر تیزی سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عام آدمی کو بہتر صحت کی سہولیات اور روزگار کے مواقع نہیں ملیں گے، ترقی ادھوری رہے گی۔ انہوں نے خواتین اور نوجوانوں کی شمولیت کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی طبقہ ملک کو نئی سمت دے سکتا ہے۔ انہوں نے یکساں سول کوڈ پر مثبت اور تعمیری مکالمے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس سے ملک میں برابری اور انصاف کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم سب مل کر کام کریں تو بھارت کو عالمی سطح پر اعلیٰ مقام تک پہنچانا مشکل نہیں۔ اس موقع پر ایک تفصیلی “عزم نامہ” بھی پیش کیا گیا جو اس اجلاس کی نمایاں خصوصیت بن کر سامنے آیا۔ اس میں چھواچھوت اور امتیاز کے خاتمے، ہر بچے تک تعلیم کی فراہمی، منشیات سے پاک بھارت، ماحولیاتی تحفظ اور تمام مذاہب کے درمیان بھائی چارے کو فروغ دینے جیسے اہم نکات شامل تھے۔
عزم نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ملک کو فسادات، تشدد اور دہشت گردی سے پاک رکھنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ مقررین نے زور دے کر کہا کہ جب معاشرہ متحد اور باخبر ہوگا تبھی ملک مضبوط بنے گا اور ہر چیلنج کا مقابلہ کر سکے گا۔ اجلاس میں “وکست بھارت 2047” کے ہدف پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ مقررین نے کہا کہ اگر بھارت کو ترقی یافتہ ملک بنانا ہے تو تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی ہم آہنگی پر یکساں توجہ دینا ہوگی۔ نوجوانوں کے کردار کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ انہیں درست سمت اور مواقع فراہم کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
“عید ڈپلومیسی” کے طور پر سامنے آنے والے اس پروگرام نے یہ پیغام دیا کہ تہوار صرف خوشی منانے کا ذریعہ نہیں بلکہ مکالمے اور حل کے راستے بھی ہموار کرتے ہیں۔ آخر میں تمام شرکاء نے عہد کیا کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں جا کر سماج کو جوڑنے، بھائی چارہ بڑھانے اور مثبت ماحول قائم کرنے کے لیے کام کریں گے۔ پروگرام کا اختتام “جے ہند، جے بھارت” کے نعروں اور باہمی نیک تمناؤں کے ساتھ ہوا۔ راج گھاٹ میں منعقدہ یہ پروگرام محض عید ملن تقریب نہیں بلکہ ایک مضبوط پلیٹ فارم ثابت ہوا جہاں توانائی کی سلامتی سے لے کر انتخابی شفافیت اور سماجی یکجہتی تک ہر اہم مسئلے پر سنجیدہ اور بامعنی گفتگو ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر اندریش کمار کے بیانات اس خبر کی سرخی کو مکمل طور پر بامعنی اور بروقت بناتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
امریکی سفارت خانے نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب…
وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پائل مہتا کے انتقال پر…
اس پہل کا آغاز اس مقصد سے کیا گیا کہ پی او پی سے بنی…
وائرل ویڈیو میں خاتون سیٹی گنڈکی ندی پر بنے ایک پل پر کھڑی نظر آ…
گنیش مورتیوں کے وسرجن پر سختی کی ایک بڑی وجہ ان کی تیاری اور سجاوٹ…
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شہری نے بتایا…