قومی

The street play ‘Athanni’ by the Pratidhvani Theatre Society: سنسکار بھارتی کے کلا سنکُل میں اسٹیج آرٹ سیمینار کا انعقاد، فن اور سماج کے درمیان مکالمے پر زور

نئی دہلی: ہندوستانی فن، ثقافت اور سماجی شعور کے فروغ کے مقصد سے سنسکار بھارتی کے مرکزی دفتر ’کلا سنکُل‘ میں اتوار کو اسٹیج آرٹ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس سیمینار میں نکڑ ناٹک کی ہندوستانی روایت، سماج کے ساتھ اس کے گہرے تعلق اور عوامی بیداری پیدا کرنے میں اس کے مؤثر کردار پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔پروگرام کے مہمان خصوصی اور مقرر ڈاکٹر ونود نارائن اندورکر، چیئرمین، سی سی آر ٹی نے فن کی سماجی معنویت اور ہندوستانی ثقافتی نقطۂ نظر کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کیے۔ انہوں نے فن کی اس روایت پر روشنی ڈالی، جس میں اظہار کا مقصد محض تفریح فراہم کرنا نہیں، بلکہ سماج سے مکالمہ قائم کرنا اور عوامی شعور کو بیدار کرنا بھی ہے۔

’اٹھنی‘ نکڑ ناٹک رہا خصوصی توجہ کا مرکز

سیمینار کی خاص کشش ’اٹھنی‘ نکڑ ناٹک کی پیش کش رہی، جسے پرتدھونی تھیٹر سوسائٹی نے پیش کیا۔ اس ناٹک کے ذریعے انسانی اسمگلنگ، بچوں کو بہلا پھسلا کر بھیک منگوانے اور بچوں میں نشے کی بڑھتی ہوئی لت جیسے اہم سماجی مسائل کو اجاگر کیا گیا۔نکڑ ناٹک کی سادہ، مؤثر اور عوام سے جڑی ہوئی پیش کش نے ان مسائل کو عام لوگوں تک پہنچانے میں تھیٹر کی طاقت کو نمایاں کیا۔ اس پیش کش نے یہ پیغام دیا کہ جب فن عوام کے درمیان پہنچتا ہے تو وہ نہ صرف خیالات کے اظہار کا ذریعہ بنتا ہے، بلکہ لوگوں کے اندر حساسیت پیدا کرنے اور سماجی ذمہ داریوں کے تئیں بیداری لانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

فن اور سماج کے درمیان مکالمے پر زور

’کلا سنکُل‘ ہندوستانی فنون، ثقافتی مباحث اور تخلیقی اظہار کی حوصلہ افزائی کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔ اس پروگرام نے فن کاروں، تھیٹر سے وابستہ افراد اور فن و ثقافت میں دلچسپی رکھنے والوں کو ہندوستانی نقطۂ نظر سے رنگ منچ کے کردار پر غور و فکر کا موقع فراہم کیا۔پروگرام کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ فن کی معنویت صرف اس کے اظہار میں نہیں، بلکہ سماج کے ذہن اور خیالات پر اثر انداز ہونے کی اس کی صلاحیت میں بھی پوشیدہ ہے۔ ہندوستانی ثقافتی اقدار سے متاثر رنگ منچ سماج اور ثقافت کے درمیان ایک مضبوط رابطے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔اس موقع پر جنوبی بہار صوبے کے معاون جنرل سکریٹری پنکج جی سمیت متعدد معزز دانشور، طلبہ اور طالبات موجود تھے۔ پروگرام کی نظامت راج اپادھیائے نے کی، جبکہ اسے کامیاب بنانے میں وشودیپ، سنیہا مکھرجی، رتَمبھرا سمیت دیگر افراد نے اہم کردار ادا کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

تاجروں کی اپیل بے اثر، یکم نومبر کو ہی ہوگی رام لیلا میدان میں انڈیا الائنس کی مہا ریلی، ملیکارجن کھڑگے نے کی یہ بڑی اپیل

کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ یہ صرف ووٹ بچانے کی لڑائی نہیں، بلکہ…

48 minutes ago

Judge’s son in a Mercedes released: جج صاحب کا مرسڈیز چلانے والا نابالغ بیٹا رہا، متوفی کے اہل خانہ نے پولیس پر اٹھائے سوال

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، کیرالا ہائی کورٹ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ…

1 hour ago