سپریم کورٹ نے ایک قیدی کو ضمانت ملنے کے باوجود رہا نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور عدالتی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔ جسٹس کے وی وشواناتھن اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ پر مشتمل بینچ نے غازی آباد کے پرنسپل و ڈسٹرکٹ سیشن جج کو اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور 27 جون تک تعمیلی رپورٹ جمع کرانے کو کہا ہے۔
عدالتی تحقیقات کا حکم
عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے، اور انصاف کی مکمل فراہمی کے لیے عدالتی تحقیقات ضروری ہے۔ عدالت نے کہا کہ وہ اس معاملے کی جڑ تک جانا چاہتی ہے تاکہ آئندہ کسی قیدی کے ساتھ اس طرح کی ناانصافی نہ ہو۔
اتر پردیش حکومت کو پانچ لاکھ کا معاوضہ دینے کا حکم
عدالت نے اتر پردیش حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری طور پر قیدی آفتاب کو 5 لاکھ روپے بطور عبوری معاوضہ دے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ حتمی معاوضے کا فیصلہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
جیل حکام کے رویے پر برہمی
سماعت کے دوران عدالت نے جیل حکام کے رویے پر ناراضی ظاہر کی۔ عدالت نے کہا کہ جو افسر اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا، اس پر پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ تاہم، یہ فیصلہ تفتیشی رپورٹ آنے کے بعد ہوگا کہ کون سا افسر اس کوتاہی کا ذمہ دار ہے۔
سپریم کورٹ نے جیل ڈی جی کو کیا مخاطب
جسٹس وشواناتھن نے اتر پردیش کے ڈی جی (جیل) سے کہا: “ہم کیسے یقین کریں کہ کل سے ایسا واقعہ دوبارہ نہیں ہوگا؟” جس پر ڈی جی (جیل) نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ اسی دن ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے تمام جیل سپرنٹنڈنٹس کو اس بارے میں آگاہ کریں گے۔ عدالت نے واضح کیا کہ تفتیش کا مرکز یہ ہوگا کہ آیا قیدی کی رہائی میں غفلت برتی گئی، اور اگر ایسا ہوا تو اس کے ذمہ دار افسر کون ہیں؟ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ جانچنا ہوگا کہ 27 مئی 2025 کے بعد آفتاب کو کس بنیاد پر حراست میں رکھا گیا۔
سپریم کورٹ کی آزادی پر دو ٹوک رائے
جسٹس وشواناتھن نے سختی سے کہا: “یہ معاملہ آزادی کا ہے، ہم اسے چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ایسے کتنے لوگ جیلوں میں پڑے ہیں۔ یہ کوئی جعلی حکم نہیں بلکہ مکمل طور پر قانونی حکم ہے۔” عدالت نے سوال اٹھایا کہ ہم حکام کو عدالتی احکامات کی حساسیت کیسے سکھائیں؟ ڈی جی (جیل) نے کہا کہ وہ اس کے بعد رہنما اصول جاری کریں گے۔ جس پر عدالت نے ہدایت دی کہ وہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے افسران کو بتائیں کہ عدالتی احکامات کی تعمیل کیسے کی جائے۔
“یہ انصاف کا مذاق ہے“
اس سے قبل، عدالت نے قیدی کی طرف سے دائر ترمیم شدہ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا تھا: “یہ انصاف کا مذاق ہے کہ ایک شخص کو اپریل میں ضمانت دی گئی، اور آج تک اسے جیل سے رہا نہیں کیا گیا۔” ملزم آفتاب مذہب تبدیلی مخالف قانون کے تحت جیل میں بند تھا۔ اپنی عرضی میں اس نے کہا تھا کہ اسے صرف اس لیے رہا نہیں کیا گیا، کیونکہ ضمانت کے حکم میں اتر پردیش کے مذہب تبدیلی روک تھام قانون 2021 کی ایک ذیلی شق کا ذکر نہیں تھا۔ یہ معاملہ نہ صرف ایک فرد کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ پورے عدالتی نظام کی حساسیت پر سوال اٹھاتا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس بروقت ایکشن کو عدالتی وقار اور عام شہری کی آزادی کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…
کانگریس لیڈر نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی اور انتخابی کمیشن کے اندر اختلافِ رائے…
ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلوں میں طریقۂ کار کی…
ممتا بنرجی کی عرضی پر سماعت، عدالت نے الیکشن کمیشن سے دونوں فریقوں کے مفاد…