حالیہ “آپریشن سندور” نہ صرف ایک دفاعی کارروائی تھی، بلکہ یہ بھارت کی دفاعی خودمختاری، ٹیکنالوجیکل مہارت، اور “میک ان انڈیا” مہم کی کامیابی کا عملی مظاہرہ بھی تھا۔ اس آپریشن نے بھارت کے اس عزم کو تقویت دی کہ وہ اب صرف دفاعی ساز و سامان کا خریدار نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک خودمختار اور قابلِ اعتماد سپلائر بن چکا ہے۔گزشتہ دہائی میں بھارت نے خود کو نہ صرف ایک ابھرتی ہوئی معیشت بلکہ ایک عالمی قائد کے طور پر منوایا ہے۔ 4.19 ٹریلین ڈالرمعیشت کے ساتھ بھارت اب جاپان کے برابر عالمی معیشت کی چوتھی بڑی طاقت بن چکا ہے۔ اس معاشی قوت کے پیچھے صنعت، تحقیق، اور دفاع میں خودانحصاری کی وہ لہر ہے جسے 2014 میں “میک ان انڈیا” مہم سے باضابطہ آغاز ملا۔یہ مہم صرف صنعتی ترقی تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے دفاع، اسپیس، ڈرون، الیکٹرانکس، اور AI جیسے حساس اور تزویراتی شعبوں میں بھی انقلابی تبدیلیاں پیدا کیں۔
آپریشن سندور: خودانحصاری کا عملی مظاہرہ
7 مئی 2025 کو ہونے والا آپریشن سندور بھارت کی دفاعی تیاری، تکنیکی قابلیت اور درستگی کا عکاس تھا۔ اس آپریشن میں “براہموش” اور “آکاش” میزائلوں کا استعمال ہوا، جو مکمل طور پر بھارت میں تیار کیے گئے ہیں۔ “آکاش تیر” نامی ڈیجیٹل نیٹ ورکنگ سسٹم نے سرحد پار سے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو بروقت شناخت کرکے انہیں کامیابی سے تباہ کیا۔یہ کارروائی اس حقیقت کا عملی اظہار تھی کہ اب بھارت اپنی سرزمین پر بنائے گئے دفاعی سسٹمز سے خود کو محفوظ رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔اس کامیابی کے پیچھے بھارت کی دفاعی پالیسیوں میں ایک بنیادی تبدیلی ہے۔ اسلحے کی درآمد پر انحصار کم کرنے کے لیے حکومت نے پالیسی سازی، تکنیکی ترقی، اور نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دیا۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SIPRI) کے مطابق، 2015 سے 2024 کے درمیان بھارت کی دفاعی درآمدات میں 9.3 فیصد کمی آئی ہے، جو مقامی پیداوار کے فروغ کا واضح ثبوت ہے۔
نجی شعبہ اور اسٹارٹ اپس کی شمولیت
ایک دہائی قبل جس شعبے میں صرف سرکاری ادارے سرگرم تھے، آج وہاں 1,300 سے زائد ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس کام کر رہے ہیں، جو AI، کوانٹم، روبوٹکس، اور اسپیس ٹیکنالوجی کے میدان میں نئے امکانات پیدا کر رہے ہیں۔ نجی شعبہ، جو پہلے صرف خام مال کا فراہم کنندہ تھا، اب ہتھیاروں، میزائلوں، اور ڈرونز کا شریک خالق بن چکا ہے۔بھارت کا ڈرون سیکٹر تیزی سے عالمی منظرنامے میں ابھر رہا ہے۔ 2021 میں غیر ملکی ڈرونز پر پابندی اور PLI اسکیم کے تحت دی گئی مراعات نے مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا۔ “ڈرون فیڈریشن آف انڈیا” 550 سے زائد کمپنیوں اور 5,500 تربیت یافتہ پائلٹس کے ساتھ اس تبدیلی کی قیادت کر رہا ہے۔
دفاعی برآمدات: ماضی کی نسبت دس گنا اضافہ
سال 2023–24 میں بھارت کی دفاعی پیداوار 1.27 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچی، جبکہ FY2025 میں برآمدات 23,622 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہیں، جو گزشتہ دہائی کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہیں۔ یہ پیش رفت 90 سے زائد ممالک کی جانب سے بھارتی دفاعی مصنوعات کی طلب میں اضافے کا ثبوت ہے۔”آکاش تیر” بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ (BEL) کا تیار کردہ وہ جدید نظام ہے جو فضائی حملوں کا بروقت سراغ لگانے، ان کی شناخت کرنے، اور انہیں ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ سسٹم متعدد ریڈارز اور کمانڈ سینٹرز کو ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر جوڑ کر مکمل جنگی تصویر فراہم کرتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ، براہموش میزائل، جو دنیا کا تیز ترین سپرسونک کروز میزائل ہے، بھارت کی تیز رفتار ترقی اور مقامی ساختہ مہارت کا مظہر ہے۔ سابق DRDO سائنسدان پراحلاد رام راؤ کے مطابق، “آکاش” جیسا مؤثر اور سستا میزائل دنیا میں کہیں اور بنانا ممکن نہیں، جو بھارت کی لاگت مؤثر دفاعی حکمت عملی کی علامت ہے۔
خلا اور سرحدوں کی نگرانی
بھارتی خلائی ایجنسی ISRO بھی قومی سلامتی میں ایک مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ ادارے کے چیئرمین وی نارائنن کے مطابق کم از کم 10 سیٹلائٹ بھارت کی سرحدوں، ساحلی پٹی، اور حساس شمالی علاقوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ یہ سیٹلائٹس اور ڈرونز محض ہتھیار نہیں بلکہ مسلسل چوکیدار ہیں جو انٹیلی جنس، نگرانی، اور بروقت ردعمل کا ذریعہ ہیں۔آپریشن سندور نے یہ پیغام دیا کہ بھارت اب صرف اپنا دفاع نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی ایک قابلِ اعتماد دفاعی پارٹنر بن چکا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں بھارت صرف خود کفیل بننے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ دنیا کی قیادت کے لیے بھی تیار ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے درست کہا:”خود انحصاری اب صرف پالیسی نہیں، بلکہ قوم کا جذبہ بن چکی ہے۔بھارت کی ٹیکنالوجی، معیشت، اور دفاعی ترقی ایک ایسے مقام پر آ چکی ہے جہاں نہ صرف قومی سلامتی بلکہ عالمی سلامتی میں بھی وہ کردار ادا کر سکتا ہے۔ آئندہ دہائی بھارت کی عالمی سطح پر فیصلہ کن موجودگی کی دہائی ہو سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
ملک کی سب سے بڑی نجی ایئرپورٹ آپریٹر کمپنی اڈانی ایئرپورٹس ہولڈنگز لمیٹڈ (AAHL) نے…
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے منگل کو کہا کہ اپوزیشن آکاشوانی بھون کے احاطے میں…
کاجل نے واضح کیا کہ انہوں نے ایسا کسی کے چھوڑ جانے یا محبت میں…
مہاراشٹر میں خشک سالی کی سنگین صورتحال پر تقریباً ایک گھنٹے تک ہوئی بات چیت،…
فلم ’کھلاڑیوں کا کھلاڑی‘ میں ریوینا ٹنڈن کے علاوہ سابق ڈبلیو ڈبلیو ایف، جو اب…
مینوفیکچرنگ، سروس، ٹیکنالوجی اور اختراع پر مبنی شعبوں میں توسیع کو ملے گا فروغ۔ کامیاب…