قومی

MEA Rejected the Claim of US Pressure: ایف سی آراے بل پرامریکی دباؤ کے دعوے کووزارت خارجہ نے کیا مسترد، کہا ’ہندوستان بیرونی دباؤ میں کام نہیں کرتا‘

نئی دہلی: وزارت خارجہ (MEA) نے ان خبروں کو یکسر مسترد کردیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ (FCRA) ترمیمی بل کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (JPC) کے پاس بھیجنے کے معاملے میں امریکہ کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ میں کسی بل کو پیش کرنا یا اسے کسی کمیٹی کے پاس بھیجنا بھارت کا مکمل طور پر داخلی اور قانون سازی سے متعلق معاملہ ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ بھارت اپنے قانونی اور پارلیمانی معاملات میں کسی بیرونی دباؤ کے تحت کام نہیں کرتا۔ انہوں نے FCRA بل کو JPC کے پاس بھیجے جانے سے متعلق امریکی مداخلت کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مکمل طور پر بھارت کا داخلی معاملہ ہے۔

31 رکنی JPC کرے گی بل کا جائزہ

FCRA ترمیمی بل کو لے کر اپوزیشن کی جانب سے پارلیمنٹ میں مسلسل احتجاج کیا جا رہا تھا اور بل کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 12 اگست کو لوک سبھا نے بل کو تفصیلی جائزے کے لیے 31 رکنی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیج دیا تھا۔ امریکہ کی جانب سے مبینہ دباؤ کی خبروں پر وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ بھارت اپنے فیصلے خود کرتا ہے اور کسی بھی بیرونی طاقت کے دباؤ میں کام نہیں کرتا۔

بنگلہ دیش کی ڈیزل کی درخواست پر بھی موقف واضح

ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران بنگلہ دیش کی جانب سے بھارت سے ڈیزل کی درخواست کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ بھارت اس معاملے پر فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی اندرونی ضروریات، ایندھن کی دستیابی اور ریفائننگ کی صلاحیت کا جائزہ لے گا۔ بنگلہ دیش کے وزیراعظم رحمان کو بھارت کے دورے کی دعوت سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے اور دو طرفہ مذاکرات کے راستے ہمیشہ کھلے ہیں۔

سندھ طاس معاہدے پر بھارت کے موقف میں تبدیلی نہیں

وزارت خارجہ نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کے حوالے سے بھی بھارت کا موقف واضح کیا۔ ترجمان نے کہا کہ اس معاملے پر بھارت کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور ملک کی پالیسی بدستور پہلے کی طرح برقرار ہے۔ افغانستان کے حوالے سے رندھیر جیسوال نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کئی دور کی بات چیت ہوئی ہے۔ افغانستان سے مسلسل اعلیٰ سطحی وفود بھارت کا دورہ کرتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، رابطہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کے شعبوں میں تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ وزارت خارجہ نے اس طرح FCRA بل، بنگلہ دیش کو ڈیزل کی فراہمی، سندھ طاس معاہدے اور افغانستان کے ساتھ تعلقات سمیت مختلف اہم امور پر بھارت کا موقف واضح کردیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Home Secretary Unconditional Apology: کیا مرکزی داخلہ سکریٹری نے سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی؟ جانیے کیا ہے قانونی ضابطہ

توہینِ عدالت کے نوٹس کے جواب میں حلف نامے میں معافی کے ذکر سے متعلق…

15 minutes ago

Prime Minister Narendra Modi: کھیلو انڈیا اور اسپورٹس فیڈریشنز کو مضبوط بنانے کے لیے 36 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ مختص: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے میجر دھیان چند اسٹیڈیم میں ایشین گیمز 2026 کے بھارتی…

56 minutes ago

Jio Platforms IPO: جیو پلیٹ فارمز کا آئی پی او 21 اکتوبر کو کھلے گا، فی شیئر قیمت 1,065 سے 1,119 روپے مقرر

ریلائنس انڈسٹریز کی ڈیجیٹل اور ٹیلی کام کمپنی کا آئی پی او 23 اکتوبر تک…

1 hour ago