قومی

India-EU trade deal: بھارت-یورپی یونین فری ٹریڈ معاہدے سے امریکہ کی تشویش میں اضافہ، وزیراعظم مودی نے معاہدے کے بعد کیا کچھ کہا؟

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت منڈپم میں منعقدہ بھارت-یورپی یونین بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) کو دونوں خطوں کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں تجارت، ٹیکنالوجی اور ریئر ارتھ منرلز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے باعث عالمی تجارتی نظام میں ہلچل اور نئے عالمی نظام کی تشکیل ہوتی نظر آ رہی ہے۔

ٹرمپ کی پالیسیوں پر بالواسطہ تنقید

وزیر اعظم مودی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے عالمی تجارت عدم استحکام کا شکار ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی جارحانہ تجارتی حکمت عملی، خصوصاً ریئر ارتھ منرلز اور گرین لینڈ پر نظریں، امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان فاصلے بڑھا رہی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ یورپی ممالک نے حال ہی میں ٹرمپ کی 10 فیصد ٹیرف دھمکی کے جواب میں ’’ٹریڈ بازوکا‘‘ استعمال کرنے کی وارننگ دی تھی۔ پی ایم مودی نے کہا: ’’یورپی یونین کے قائدین کا بھارت کے یومِ جمہوریہ کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شریک ہونا، تاریخ کا سب سے بڑا بھارت-یورپی یونین ایف ٹی اے طے پانا، اور آج اتنے بڑے پیمانے پر بزنس فورم کا انعقاد—یہ سب دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوری طاقتوں کے درمیان غیر معمولی ہم آہنگی کی علامت ہیں۔‘‘

یورپی یونین میں بھارتی سرمایہ کاری میں اضافہ

وزیر اعظم نے بتایا کہ یورپی یونین میں بھارتی سرمایہ کاری بڑھ کر تقریباً 40 ارب یورو تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور یورپی کمپنیوں کے درمیان تحقیق و ترقی (R&D)، مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں میں گہرا تعاون جاری ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں دو طرفہ تجارت دوگنی ہو کر 180 بلین یورو تک پہنچ گئی ہے، جبکہ بھارت میں 6 ہزار سے زائد یورپی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ پی ایم مودی نے کہا کہ گرین ہائیڈروجن، سولر انرجی، واٹر مینجمنٹ، سرکلر اکانومی اور پائیدار زراعت جیسے شعبوں میں مشترکہ تحقیق اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا مل کر حل نکالا جا سکے۔ وزیراعظم نے کہا: ’’آج دنیا بھر میں تجارت، ٹیکنالوجی اور ریئر منرلز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ کیا ہمارے تاجر مل کر الیکٹرک وہیکلز، بیٹریز اور چِپس جیسے شعبوں میں بیرونی انحصار کو کم کر سکتے ہیں؟ کیا ہم ایک قابلِ اعتماد متبادل سپلائی چین تشکیل دے سکتے ہیں؟‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

India Switzerland Talks: وزیراعظم مودی اور سوئس صدر گائے پارمیلن کی وفد کی سطح پر ملاقات، دوطرفہ تعاون پر تبادلۂ خیال

وزیراعظم نریندر مودی اور سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پارمیلن نے پیر کے روز نئی دہلی…

39 minutes ago

Entertainment News: گزشتہ ایک دہائی میں فن کی جگہ آہستہ آہستہ تفریح لے رہی ہے: ربی شیرگل

ربی شیرگل کے گیتوں میں پنجابی موسیقی کے ساتھ راک، صوفی اور لوک موسیقی کا…

2 hours ago