نئی دہلی: 2029 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اپنی نئی ٹیم کے ساتھ تیاریوں میں مصروف ہو گئی ہے، جبکہ ملک کی سب سے پرانی سیاسی جماعت کانگریس اپنی تنظیم کو مضبوط بنانے میں مسلسل مشکلات کا سامنا کرتی نظر آ رہی ہے۔ پارٹی کے اندر اختلافات کا سلسلہ جاری ہے اور کئی اہم عہدے اب بھی خالی ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ ادھوری تنظیمی تیاری کے ساتھ کانگریس 2029 کا انتخابی مقابلہ کیسے کرے گی؟
ادھوری تیاری کانگریس کی سب سے بڑی کمزوری
کانگریس 2029 میں مودی حکومت کو شکست دینے کا ہدف تو رکھتی ہے، لیکن پارٹی کی موجودہ تیاری پوری طرح مضبوط دکھائی نہیں دیتی۔ تنظیم میں کئی عہدے خالی پڑے ہیں اور کئی ریاستوں میں ذمہ داریوں کو لے کر صورتحال واضح نہیں ہے۔ ایسے میں پارٹی کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کیے بغیر وہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کا مقابلہ کس طرح کرے گی۔
پریانکا گاندھی کے کردار پر اب بھی سسپنس
کانگریس کی جنرل سکریٹری پریانکا گاندھی کے پاس فی الحال کوئی واضح تنظیمی ذمہ داری نہیں ہے۔ وہ وایناڈ سے رکن پارلیمنٹ ہیں، لیکن انہیں کسی ریاست کا انچارج نہیں بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب پارٹی کے کئی جنرل سکریٹریز کو مختلف ریاستوں کی ذمہ داریاں سونپی جا چکی ہیں۔ ایسے میں پریانکا گاندھی کے حوالے سے کانگریس کی حکمت عملی اب بھی واضح نہیں ہے۔
مہاراشٹر اور آسام میں انچارج کے عہدے خالی
ملک کی دو اہم ریاستوں مہاراشٹر اور آسام میں کانگریس کے ریاستی انچارج کے عہدے خالی ہیں۔ مہاراشٹر میں رمیش چنیتھلا کے وزیر بننے کے بعد ان کی جگہ کسی نئے انچارج کی تقرری نہیں کی گئی۔ وہیں آسام میں بھنور جتیندر سنگھ نے انتخابی شکست کے بعد استعفیٰ دیا تھا، لیکن نہ تو ان کا استعفیٰ منظور کیا گیا ہے اور نہ ہی نئے انچارج کے نام کا اعلان ہوا ہے۔
پنجاب اور راجستھان میں بھی صورتحال غیر واضح
پنجاب میں تشکیل دی گئی کمیٹی کو لے کر چرنجیت سنگھ چنی اور سکھجندر سنگھ رندھاوا ناراض بتائے جا رہے ہیں۔ دونوں رہنما ریاستی صدر راجا وڈنگ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن اس معاملے پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ راجستھان میں بھی ریاستی انچارج کے عہدے کو لے کر صورتحال پوری طرح واضح نہیں ہے۔ اگر رندھاوا کو کوئی بڑی ذمہ داری دی جاتی ہے تو ان کی موجودہ ذمہ داری کے لیے نئے انچارج کی تقرری کرنا ہوگی۔ کانگریس کے ایس سی شعبے کے صدر راجندر پال گوتم کو اتر پردیش کا انچارج بنا دیا گیا ہے، لیکن ان کی جگہ ابھی تک نئے صدر کی تقرری نہیں کی گئی۔ اس کے باعث پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں ایک اور اہم عہدہ خالی ہو گیا ہے، جو آئندہ انتخابات کی تیاری کے لحاظ سے کانگریس کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
راہل گاندھی کا ’جین زی‘ آؤٹ ریچ پر زور
راہل گاندھی مسلسل مودی حکومت کو چیلنج کرنے کی بات کر رہے ہیں اور نوجوان نسل، خاص طور پر جین زی تک پہنچ بنانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ تاہم پارٹی کے اندر تنظیمی کمزوری، خالی عہدے اور داخلی اختلافات اس حکمت عملی کے راستے میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ایسے میں 2029 کی انتخابی جنگ میں کامیابی حاصل کرنا کانگریس کے لیے آسان دکھائی نہیں دیتا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…
کانگریس لیڈر نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی اور انتخابی کمیشن کے اندر اختلافِ رائے…
ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلوں میں طریقۂ کار کی…
ممتا بنرجی کی عرضی پر سماعت، عدالت نے الیکشن کمیشن سے دونوں فریقوں کے مفاد…
یمنا ایکسپریس وے پر سلیپر بس میں آگ لگنے سے 9 مسافروں کی موت، متعدد…
ووشو میں روشیبینا دیوی نے سلور جبکہ روئنگ کے مینز ڈبل اسکلز مقابلے میں ستنم…