قومی

National Urea Investment Policy: وزیراعظم کی صدارت میں کابینہ سے کھاد کی پیداوار بڑھانے کے لیے قومی یوریا سرمایہ کاری پالیسی-2026 کی ملی منظوری

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں بدھ کو منعقدہ اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی (سی سی ای اے) کے اجلاس میں محکمۂ کھاد کی جانب سے پیش کردہ قومی یوریا سرمایہ کاری پالیسی-2026 (این آئی پی یو-2026) کو منظوری دے دی گئی۔ اس پالیسی کا مقصد ملک میں گیس پر مبنی یوریا تیار کرنے والی نئی صنعتوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور یوریا کی پیداوار میں اضافہ کرتے ہوئے بھارت کو اس شعبے میں خود کفیل بنانا ہے۔ حکومت کے مطابق نئی پالیسی کے تحت ملک میں گیس پر مبنی یوریا مینوفیکچرنگ یونٹوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، جس سے گھریلو پیداوار میں اضافہ ہوگا اور درآمدی یوریا پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔ سرکاری بیان کے مطابق قومی سرمایہ کاری پالیسی-2012 (این آئی پی-2012) کے مقابلے میں نئی پالیسی میں کئی اہم اصلاحات کی گئی ہیں۔ ان میں شفافیت بڑھانے کے لیے مستقل اور متغیر لاگت کو الگ کرنا، ریٹرن آن ایکویٹی (ROE) کی کم از کم 12 فیصد اور زیادہ سے زیادہ 16 فیصد حد مقرر کرنا، اور زرمبادلہ کے اتار چڑھاؤ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے چار سال بعد رائج شرحِ تبادلہ کی بنیاد پر مستقل لاگت کو بھارتی روپے میں تبدیل کرنے کا نظام شامل ہے۔

ہر نئے پلانٹ پر 250 کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت

حکومت کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت قائم ہونے والے ہر یوریا پلانٹ پر این آئی پی-2012 کے مقابلے میں 250 کروڑ روپے سے زائد کی بچت ہونے کا امکان ہے، جس سے سرمایہ کاری مزید پرکشش بنے گی۔ حکومت نے واضح کیا کہ آئندہ قائم ہونے والی تمام نئی یوریا مینوفیکچرنگ یونٹیں این آئی پی یو-2026 کے تحت قائم کی جائیں گی، تاکہ یکساں ضابطوں اور مراعات کے ذریعے سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ واضح رہے کہ محکمۂ کھاد نے 2012 میں یوریا کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے قومی سرمایہ کاری پالیسی-2012 نافذ کی تھی۔ اس کا مقصد موجودہ کارخانوں کی جدیدکاری، توسیع، بند پڑی (براؤن فیلڈ) اکائیوں کی بحالی اور نئی فیکٹریوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ اس پالیسی کے تحت مجموعی طور پر چھ نئی یوریا فیکٹریاں قائم کی گئیں، جن میں چار سرکاری شعبے کی مشترکہ کمپنیوں (جوائنٹ وینچر) اور دو نجی کمپنیوں کی جانب سے لگائی گئیں۔ تاہم، اس پالیسی کے تحت نئی سرمایہ کاری کی مدت اکتوبر 2019 میں ختم ہو گئی تھی۔

ملک میں اب بھی طلب کے مقابلے میں پیداوار کم

حکومت کے مطابق اس وقت ملک میں 33 یوریا مینوفیکچرنگ یونٹیں کام کر رہی ہیں، جن کی مجموعی سالانہ پیداواری صلاحیت 269.42 لاکھ میٹرک ٹن ہے۔ اس کے باوجود گھریلو پیداوار ملک کی مکمل ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں، جس کے باعث طلب اور رسد کے فرق کو پورا کرنے کے لیے یوریا درآمد کرنا پڑتا ہے۔ محکمۂ کھاد کو ملک میں نئی یوریا فیکٹریاں قائم کرنے کے لیے متعدد سرمایہ کاری تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قومی یوریا سرمایہ کاری پالیسی-2026 کی منظوری کے بعد ان منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد ممکن ہوگا، جس سے ملکی پیداوار میں اضافہ اور یوریا کے شعبے میں خود کفالت کے ہدف کے حصول کو مزید تقویت ملے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

9 hours ago

British Airways Emergency: برٹش ایئرویز کی پرواز میں اچانک ایمرجنسی، 37 ہزار سے 9 ہزار فٹ تک نیچے آیا بوئنگ 777، لندن ڈائیورٹ

لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…

9 hours ago

Lucknow Floods: لکھنؤ میں سیلاب کا مستقل حل، فیض اللہ گنج سے نیمیش تک گرین کوریڈور کی طرز پر بنے گا پشتہ، سی ایم یوگی نے کیا بڑا اعلان

گومتی میں بڑھتی آبی سطح اور حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ یوگی…

10 hours ago

EC Fact-Checks Rahul Gandhi’s Claim: راہل گاندھی کے الزام پر الیکشن کمیشن کا فیکٹ چیک، فارم-6 میں تبدیلی کے دعوے کو بتایا گمراہ کن، جانیں کیا کہا؟

راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر فارم-6 میں غیر قانونی اور یکطرفہ…

10 hours ago