قومی

Vijay’s 1st big CM Move: تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ بنتے ہی تھلاپتی وجے کا بڑا فیصلہ، 15 دنوں میں 717 شراب کی دکانیں بند کرنے کا حکم

نئی دہلی :تمل ناڈو کے نئے وزیر اعلیٰ تھلاپتی وجے نے اقتدار سنبھالتے ہی ایک بڑا اور اہم فیصلہ لیتے ہوئے ریاست میں مذہبی مقامات، تعلیمی اداروں اور بس اڈوں کے قریب واقع سرکاری شراب کی دکانوں کو بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق ایسے تمام TASMAC شراب کے ٹھیکے، جو ان مقامات کے 500 میٹر کے دائرے میں واقع ہیں، اگلے 15 دنوں کے اندر بند کر دیے جائیں گے۔حکومت کے اس فیصلے کے تحت مجموعی طور پر 717 سرکاری شراب کی دکانیں بند ہوں گی۔ تمل ناڈو میں کافی عرصے سے عوام کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ اسکولوں، کالجوں، مندروں، مسجدوں اور دیگر مذہبی مقامات کے آس پاس موجود شراب کی دکانیں بند کی جائیں، کیونکہ ان سے سماجی اور اخلاقی مسائل پیدا ہو رہے تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ شراب کی فروخت سے ہونے والی بھاری آمدنی کے سبب سابق حکومتیں اس معاملے میں سخت قدم اٹھانے سے گریز کرتی رہی تھیں۔

ریاست کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں، چاہے وہ ڈی ایم کے ہو یا اے آئی اے ڈی ایم کے نے اپنے انتخابی منشور میں شراب بندی یا شراب کی دکانوں میں کمی کا وعدہ کیا تھا، لیکن عملی طور پر اس سمت میں زیادہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ تھلاپتی وجے کے اس فیصلے کو عوامی مطالبات کی سمت میں ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ تمل ناڈو میں TASMAC یعنی Tamil Nadu State Marketing Corporation کے تحت 5000 سے زائد سرکاری شراب کی دکانیں چلائی جاتی ہیں۔ ان دکانوں سے ریاستی حکومت کو سالانہ تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے مکمل شراب بندی ہمیشہ ایک بڑا سیاسی اور معاشی مسئلہ بنی رہی ہے۔

اس سے قبل سال 2023 میں ایم کے اسٹالن حکومت نے بھی زہریلی شراب سے ہونے والی اموات کے بعد تقریباً 500 شراب کی دکانیں بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان میں زیادہ تر وہ دکانیں شامل تھیں جو مذہبی مقامات اور تعلیمی اداروں کے قریب واقع تھیں۔ صرف چنئی میں 61، کانچی پورم میں 31 اور مدورائی میں 21 دکانیں بند کی گئی تھیں۔تمل ناڈو کی سابق وزیر اعلیٰ جے للیتا نے بھی 2016 میں مرحلہ وار شراب کی دکانیں بند کرنے کی مہم شروع کی تھی۔ مختلف حکومتیں مسلسل یہ دلیل دیتی رہی ہیں کہ مکمل شراب بندی سے غیر قانونی اور زہریلی شراب کا کاروبار بڑھ سکتا ہے، جس سے انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اسٹالن حکومت کے دور میں بھی نقلی شراب پینے سے تقریباً 60 افراد کی موت ہوئی تھی، جس کے بعد شراب پالیسی پر شدید سوالات اٹھے تھے۔تھلاپتی وجے کے اس تازہ فیصلے کو ریاست میں سماجی اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں اس کے سیاسی اثرات بھی نمایاں ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Bharat Express Urdu Conclave: اردو ایک جدید زبان ہے، اے آئی سے مستقبل مزید مضبوط ہوگا، بزمِ صحافت میں بولے پروفیسر شاہد صدیقی

پروفیسر شاہد صدیقی نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو اردو سے جوڑنے کے لیے…

25 minutes ago

Todays Weather: موسم نے بدلا رخ! کئی علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان، آئی ایم ڈی نے جاری کی پیش گوئی

مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…

45 minutes ago

Delhi IIC Bazm-e-Sahafat: ’اردو مسلمانوں کی نہیں، ہندوستان کی زبان ہے‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین کا اظہارِ خیال

بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو میں اردو، صحافت اور نئی ٹیکنالوجی پر گفتگو،…

2 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: اردو کو رسم الخط میں نہ باندھو، یہ دلوں کی زبان ہے، بزمِ صحافت میں بولے شاہد صدیقی

اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے شاہد صدیقی نے بتایا کہ وہ اردو اخبارات کے…

2 hours ago