قومی

Terrorism challenge: ’’دہشت گردی، انتہاپسندی اور بنیاد پرستی مشترکہ و سنگین چیلنجز‘‘ مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیراعظم کا اظہار خیال

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کو کہا کہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور بنیاد پرستی نہ صرف بھارت اور کینیڈا بلکہ پوری دنیا کے لیے مشترکہ اور سنگین چیلنجز ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان خطرات کے خلاف دونوں ممالک کا قریبی تعاون عالمی امن اور استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ یہ بات انہوں نے قومی دارالحکومت میں کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا: ’’ہم اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور بنیاد پرستی دونوں ممالک ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے سنگین خطرات ہیں۔ ان کے خلاف ہمارا باہمی تعاون عالمی امن اور استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔ جب دو جمہوریتیں ساتھ کھڑی ہوتی ہیں تو امن کی آواز مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔‘‘

بھارت-کینیڈا تعلقات کا پس منظر

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سابق کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے دور اقتدار میں 2023 کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ بھارت نے کینیڈا میں سرگرم خالصتانی علیحدگی پسند عناصر کے تئیں مبینہ نرمی پر تشویش ظاہر کی تھی، جبکہ جسٹن ٹروڈو نے الزام عائد کیا تھا کہ بھارتی ایجنٹ خالصتانی شدت پسند ہردیپ سنگھ نجّر کے قتل میں ملوث تھے۔ بھارت نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’سیاسی محرکات‘‘ پر مبنی قرار دیا تھا۔ بعد ازاں کینیڈا کی خفیہ ایجنسی کینیڈین سکیورٹی انٹیلی جنس سروس (سی ایس آئی ایس) نے اپنی سالانہ رپورٹ میں تسلیم کیا کہ خالصتانی شدت پسند کینیڈا کی سرزمین کو بھارت میں تشدد کی ترویج، فنڈ جمع کرنے اور منصوبہ بندی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

تجارت کو 50 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف

وزیراعظم مودی نے مارک کارنی کی قیادت میں بھارت-کینیڈا تعلقات میں پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک 2030 تک باہمی تجارت کو 50 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی تعاون کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانا اولین ترجیح ہے اور اسی مقصد سے جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دن کے بعد دونوں رہنما کاروباری برادری کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ دوطرفہ اقتصادی تعاون کے لیے روڈ میپ تیار کیا جا سکے۔

مارک کارنی کا پہلا سرکاری دورۂ بھارت

مارک کارنی 27 فروری کو وزیراعظم نریندر مودی کی دعوت پر بھارت کے سرکاری دورے پر آئے تھے۔ یہ ان کا بطور وزیر اعظم پہلا دورۂ بھارت ہے۔ وہ ممبئی کے بعد نئی دہلی پہنچے اور آج اپنے مصروفیات مکمل کرنے کے بعد وطن واپس روانہ ہوں گے۔ یہ دورہ ایسے اہم مرحلے پر ہو رہا ہے جب بھارت اور کینیڈا کے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں جاری ہیں، اور دونوں ممالک اسٹریٹجک و اقتصادی شعبوں میں نئے باب کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026: سری لنکا کو 124 رنز سے شکست دے کر ٹیم انڈیا نے رچ دیا تاریخ، ریکارڈز کی لگائی جھڑی

ایشین گیمز 2026 کے دوسرے سیمی فائنل میں بھارتی کرکٹ ٹیم نے شاندار کارکردگی کا…

1 hour ago