دہلی سے متصل گروگرام میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں 25 سالہ ریاستی سطح کی ٹینس کھلاڑی رادھیکا یادو کو اس کے اپنے والد دیپک یادو نے گولی مار کر ہلاک کر دیاہے۔ پولیس فی الحال پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ابتدائی تفتیش کے بعد پولیس کا کہنا ہے کہ باپ نے بیٹی کو اس لیے قتل کیا کہ وہ اکیڈمی بند نہیں کر رہی تھی۔ لیکن پولیس کی اس دلیل کو کوئی نہیں مان رہا ہے۔ ابتدائی تفتیش کے بعد پولیس نے کہا ہے کہ ملزم باپ دیپک یادو اس بات سے خوش نہیں تھا کہ اس کی بیٹی اس کی رضامندی کے بغیر یہ اکیڈمی چلا رہی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جس باپ نے بچپن سے ہی اپنی بیٹی کو کھیل کود کے لیے سہارا دیا ہو، وہ اچانک اس کا دشمن بن جائے۔ پولیس کی یہ دلیل اس لیے بھی نہیں مانی جا رہی ہے کہ ہریانہ میں بچوں اور خاص کر بیٹیوں کو کھیلوں کی طرف راغب کرنے کا کلچر رہا ہے۔ ایسے میں دیپک یادو ایسا کیوں کریں گے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ رادھیکا یادو کئی سالوں سے اس اکیڈمی کو چلا رہی تھیں۔ ایسے میں اس کے والد اچانک اس اکیڈمی کو کیوں بند کرنا چاہتے تھے؟ اگر اکیڈمی کو چلانے میں مسئلہ تھا تو اتنے سالوں بعد یہ مسئلہ کیوں شروع ہوا؟
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا گروگرام پولس اس کیس سے جڑے کئی حل طلب سوالات کو ابھی تک حل نہیں کر پائی ہے۔ کیا پولیس کی دلیل یہ ہے کہ باپ اپنی بیٹی کے اکیڈمی چلانے سے خوش نہیں تھا، یہ بیان جلد بازی میں دیا گیا؟ کیا اس کیس میں بہت سے ایسے راز ہیں جن سے پردہ اٹھنا باقی ہے؟ یہ وہ تمام سوالات ہیں جو اس کیس کو حل کرنے کے لیے بہت ضروری ہیں۔ گروگرام پولیس بھی جلد ہی ان کا جواب تلاش کرنا چاہے گی۔
رادھیکا یادیو ٹینس کی ابھرتی ہوئی کھلاڑی تھیں
پولیس نے ملزم دیپک یادو کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کا لائسنس یافتہ ریوالور بھی ضبط کر لیا گیا ہے۔ رادھیکا یادو ہریانہ کی ایک ابھرتی ہوئی ٹینس کھلاڑی تھیں۔ اس نے ریاستی سطح پر کئی ٹورنامنٹس میں حصہ لیا تھا۔ 23 مارچ 2000 کو پیدا ہونے والی رادھیکا کو انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن (ITF) میں ڈبلز ٹینس کھلاڑی کے طور پر 113 ویں نمبر پر رکھا گیا۔رادھیکا کے چچا کلدیپ نے بتایا تھا کہ جمعرات کی صبح تقریباً ساڑھے دس بجے وہ اور اس کا بیٹا پیوش گولی چلنے کی آواز سن کر پہلی منزل پر پہنچے تو رادھیکا خون میں لتھڑی ہوئی کچن میں پڑی تھی۔ دیپک کا لائسنس یافتہ ریوالور ڈرائنگ روم میں پڑا تھا۔ وہ فوری طور پر رادھیکا کو سیکٹر 56 کے آسیہ مارنگو اسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔ کلدیپ نے بتایا کہ واقعہ کے وقت گھر میں صرف دیپک، اس کی بیوی منجو اور رادھیکا موجود تھے۔ میرے خیال میں رادھیکا کو اس کے بھائی دیپک نے قتل کیا تھا۔
باپ نے گناہ قبول کرلیا
اس کیس میں تازہ انکشاف یہ ہوا ہے کہ والد نے جرم قبول کرلیا ہے اور اس قتل کی وجہ بھی انہوں نے بتائی ہے۔رپورت کے مطابق اکیڈمی کھولنے کے بعد رادھیکا کے والد ناراض ہو گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جب بھی گاؤں میں باہر جاتے ہیں تو گاؤں والے بیٹی کی کمائی کھانے کی بات کرتے ہوئے طعنہ دیتے ہیں۔ والد دیپک اس بات سے بہت پریشان تھے۔ گزشتہ 15 دنوں سے ٹینس اکیڈمی کے حوالے سے باپ بیٹی کے درمیان لڑائی چل رہی تھی۔ جمعرات کی صبح جب دونوں کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا تو والد دیپک نے اپنے لائسنسی ریوالور سے بیٹی رادھیکا کی کمر میں تین گولیاں ماریں۔ پولیس نے ملزم باپ کو گرفتار کر لیا ہے اور پوچھ گچھ کے دوران اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
وورا کا الزام ہے کہ 2011 میں ان کی معلومات کے بغیر مبینہ طور پر…
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…