نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے پیر کو قومی راجدھانی دہلی کے تاجروں سے براہِ راست اپیل کرتے ہوئے شہر میں انتظامی پابندیوں اور ٹریفک کی دشواریوں کے لیے مرکزی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر اعظم نریندر مودی انہیں برطرف کردیں تو احتجاج 30 سیکنڈ میں ختم ہوسکتا ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں احتجاجی ریلی سے متعلق ایک پوسٹر شیئر کرتے ہوئے یہ بیان دیا۔ ان کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کاروباری تنظیموں نے جاری سیاسی مظاہروں کے دوران سکیورٹی بیریکیڈنگ، سڑکوں پر پابندیوں اور عوامی نقل و حمل میں رکاوٹوں کے سبب بازاروں پر پڑنے والے اثرات پر تشویش ظاہر کی ہے۔
To every trader in Delhi: We love you and hear you.
The Govt shut the metro, sealed our roads and locked down our capital.
With a stolen vote nothing is safe – your shop, your savings, your children’s future.
Tell Modi to sack accused no. 4, Gyanesh Kumar and the protests will stop in 30 seconds.
दिल्ली के हर व्यापारी से: हम आपसे प्यार करते हैं, आपकी बात सुन रहे हैं।
मेट्रो सरकार ने बंद की, सड़कें सरकार ने सील की, राजधानी पर ताला सरकार ने लगाया।
जब वोट ही चोरी हो जाए, तो कुछ भी सुरक्षित नहीं – न आपकी दुकान, न आपकी बचत, न आपके बच्चों का भविष्य।
मोदी जी से कहिए – आरोपी नंबर 4, ज्ञानेश कुमार को हटाएं, 30 सेकंड में आंदोलन रुक जाएगा।
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) October 26, 2026
’دہلی کے تاجروں کی بات ہم سنتے ہیں‘
راہل گاندھی نے دہلی کے خوردہ اور تھوک تاجروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ دارالحکومت میں عائد پابندیاں اپوزیشن کے مارچ کے بجائے حکومت کے اقدامات کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا، ’’دہلی کے ہر تاجر سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم آپ سے محبت کرتے ہیں اور آپ کی بات سنتے ہیں۔ حکومت نے میٹرو بند کردی، ہماری سڑکیں سیل کردیں اور ہماری راجدھانی کو بند کردیا۔ چوری شدہ ووٹ کے ساتھ کچھ بھی محفوظ نہیں ہے، نہ آپ کی دکان، نہ آپ کی بچت اور نہ ہی آپ کے بچوں کا مستقبل۔ مودی سے کہیے کہ وہ ملزم نمبر 4 گیانیش کمار کو برطرف کریں، احتجاج 30 سیکنڈ میں ختم ہوجائے گا۔‘‘
تاجروں نے کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا
راہل گاندھی کا یہ بیان چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) کی جانب سے اپوزیشن کے سرکردہ رہنماؤں کو بھیجی گئی درخواستوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ کاروباری تنظیم نے انڈیا اتحاد کی یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں مجوزہ بڑی ریلی ملتوی کرنے کی اپیل کی ہے۔ تاجر تنظیموں کا کہنا ہے کہ دھن تیرس، دیوالی اور بھائی دوج جیسے تہواروں سے پہلے خریداری کے مصروف موسم میں وسطی دہلی کی سڑکوں پر راستوں کی تبدیلی، بیریکیڈنگ اور میٹرو اسٹیشنوں کی بندش سے کاروبار متاثر ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق چاندنی چوک، صدر بازار اور کرول باغ جیسے بڑے تجارتی مراکز میں ہزاروں کروڑ روپے کے کاروبار کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اس سے قبل اشارہ دے چکے ہیں کہ پارٹی قیادت تاجروں کی اپیل پر غور کررہی ہے، تاکہ کوئی قابل قبول حل نکالا جاسکے۔ دوسری جانب راہل گاندھی نے انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات اور الیکشن کمیشن کے خلاف جاری احتجاج کو آئینی جدوجہد قرار دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اس تحریک کا مقصد انتخابی عمل کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، جو ان کے بقول طویل مدتی اقتصادی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سیمینار کی خاص کشش ’اٹھنی‘ نکڑ ناٹک کی پیش کش رہی، جسے پرتدھونی تھیٹر سوسائٹی…
کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ یہ صرف ووٹ بچانے کی لڑائی نہیں، بلکہ…
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، کیرالا ہائی کورٹ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ…
آن لائن کلاسوں سے متعلق جاری ہدایت میں یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبا سے کیمپس نہ…
راجیو گوبا نے کہا کہ پہلے بنیادی ڈھانچے کی ترقی مختلف محکموں اور وزارتوں کی…
دو روزہ 12ویں برکس پارلیمانی فورم کی میزبانی ہندوستانی پارلیمنٹ کررہی ہے۔ اس میں برکس…