حیدرآباد: تلنگانہ جیل محکمہ نے عوام کو جیل کی زندگی سے روشناس کرانے اور نوجوانوں میں جرائم کے خلاف بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے ایک منفرد اور غیر معمولی پہل شروع کی ہے۔ حیدرآباد کی تاریخی چنچل گوڑہ سنٹرل جیل میں ”جیل کا تجربہ کریں“ پروگرام اور جدید تلنگانہ جیل میوزیم کا افتتاح تلنگانہ کے گورنر شیو پرتاپ شکلا نے کیا۔ اس اقدام کو ملک بھر میں اصلاحی نظام کی نئی مثال قرار دیا جا رہا ہے، جہاں جیلوں کو صرف سزا کی جگہ نہیں بلکہ اصلاح اور شعور بیدار کرنے کے مراکز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ گورنر شیو پرتاپ شکلا نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ میوزیم اور تجرباتی پروگرام اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ جیلیں اب صرف مجرموں کو قید رکھنے کی جگہ نہیں رہیں بلکہ ان کا مقصد انسانوں کی اصلاح اور سماج میں مثبت تبدیلی پیدا کرنا بھی ہے۔ انہوں نے اس نئی پہل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو جرائم کے نتائج سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
چنچل گوڑہ جیل میں قائم کیے گئے اس جدید میوزیم میں جیل کی تاریخ، قیدیوں کی زندگی اور ماضی کے سخت نظام کو مختلف انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس سے قبل سنگاریڈی میں قائم پرانا جیل میوزیم خستہ حالی کا شکار تھا، جس کے بعد اسے جدید سہولیات کے ساتھ حیدرآباد منتقل کر دیا گیا۔ میوزیم میں قدیم جیل ریکارڈ، ہتھکڑیاں، زنجیریں، قیدیوں کو باندھنے کے آلات اور پھانسی سے متعلق نایاب اشیا نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ قیدیوں کی بیرکوں کے ماڈل، پینٹنگ گیلری اور آڈیو ویژول پریزنٹیشنز کے ذریعے جیل کی تاریخ اور وہاں کی زندگی کو تفصیل سے سمجھایا گیا ہے۔ میوزیم میں ایک خصوصی سیکشن بھی بنایا گیا ہے جس میں 1961 سے 1968 کے درمیان ناگارجن ساگر ڈیم کی تعمیر میں قیدیوں کی خدمات کو نمایاں کیا گیا ہے۔
”جیل کا تجربہ کریں“ پروگرام کے تحت عام شہری اب مخصوص فیس ادا کرکے 12 یا 24 گھنٹے تک جیل میں رہنے کا حقیقی تجربہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس دوران شرکا کو قیدیوں کی وردی پہنائی جائے گی، جیل کا عام کھانا دیا جائے گا اور سخت نظم و ضبط کے ساتھ روزمرہ کی سرگرمیوں میں حصہ لینا ہوگا۔ پروگرام میں شامل ہونے کے لیے 500 روپے بطور پیشگی فیس جمع کرانا ضروری ہوگا۔ جیل حکام کے مطابق اس تجربے کے دوران موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک آلات کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔ شرکا کو جیل کے تمام اصولوں پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ اگر کوئی شخص مقررہ وقت سے پہلے جیل چھوڑنا چاہے تو اس پر ایک ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد تفریح فراہم کرنا نہیں بلکہ نوجوانوں اور عام شہریوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ جرم کی دنیا کتنی سخت اور تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر نوجوان جیل کی زندگی کی مشکلات کو قریب سے دیکھیں گے تو وہ جرائم سے دور رہنے اور قانون کی پاسداری کرنے کی اہمیت کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے۔ جیل انتظامیہ نے عوامی سہولت کے لیے جیل احاطے میں ایک کیفے ٹیریا بھی قائم کیا ہے۔ اس پروگرام میں شرکت کے خواہشمند افراد آن لائن ویب سائٹ کے ذریعے بکنگ کرا سکتے ہیں جبکہ مزید معلومات کے لیے خصوصی ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق چنچل گوڑہ جیل کی یہ پہل نہ صرف اصلاحی نظام میں نئی سوچ کی عکاسی کرتی ہے بلکہ سماج میں ذمہ دار شہری پیدا کرنے کی ایک اہم کوشش بھی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…